زندہ مرشد، تحریر اشفاق احمد

*”اپّو آج چِکّڑ چنے اور تِلوں والا کُلچہ کھانے کو جی چاہ رہا ہے۔”*

ابّاجی نے سالوں بعد فرمائش کی تھی۔

ابّا جی مجھے پیار سے اپّو کہتےہیں.

میری خُوشی کی اِنتہا نہ رہی. فجر کی نماز ادا کی جوگر پہنے، مارننگ واک کے بعد چِکّڑ چنے والے کے اڈّے پر جادھمکا۔ ابھی وہ اپنی ریڑھی سجا رہا تھا- میں نے چنے پیک کرنے کو کہا-
وہ بولا۔ *”باوُ جی، اِتنی صبح؟ چنے 7 بجے سے پہلے نہیں ملیں گے۔*

میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور بے قراری سے چنوں کا اِنتظار کرنے لگا. چنے والے سے ہر دو منٹ بعد دریافت کرتا، *”بھائی اور کِتنا انتظار کرنا پڑے گا؟”*

*”وُہ بس تھوڑی دیر باوُجی،”* کہہ کر تسلّی دے دیتا۔ میری بے قراری بڑھتی جارہی تھی۔ بار بار موبائل پر وقت دیکھتا۔

چنے والا جو مجھے نوٹ کر رہا تھا، میرے پاس آیا اور بولا *”باوُ جی، آپ پہلے بھی چنے لے جاتےہو، پر اِتنی سویرے اور اِتنی بےقراری پہلے نہیں دیکھی، خیر تو ہے؟”*

میں تو جیسے سوال کا منتظر تھا … میں نے سر اُٹھا کر فخر سے کہا … *بھائی، آج میرے مُرشد نے چِکّڑ چنوں کی فرمائش کی ہے، میں اُن کا حُکم جلد از جلد بجا لانا چاہتا ہوں-“*

وُہ بولا، *”مُرشد مطلب آپ کے پیر؟*

میں نے کہا، *ہاں، میرے والد بزرگوار”*

وُہ جھلّا کر بولا *”کبھی مُرشد کہتے ہو، کبھی والد؟ چکر کیا ہے؟”*

میں نے بتایا کہ میرا باپ ہی میرا مُرشد ہے۔

وُہ بولا، *”اچّھا تو آپ کے والد کی گدّی ہے؟*

میں نے کہا، *”نہیں بھائی، میں اپنے والد اور والدہ کو سب سے بڑا پیر مانتا ہوں- اُن کے ہوتے مُجھے آج تک کسی مُرشد کی ضُرورت نہیں پڑی۔ ویسے بھی قرآن کریم میں اللّٰہ فرماتا ھے کہ تمھارے تمہارے سب سے بڑے مُحسن ہیں-“*

چنے والے کے چہرے سے صاف عیاں تھا کہ وُہ میری باتوں سے مُطمئِن نہیں ہے۔

بولا، *”وُہ تو ٹھیک ہے پر مُرشد، مُرشد ہوتا ہے۔ اور ماں باپ، ماں باپ۔ میرے مُرشد کا نُور محل ٹنڈو مستی خان میں ہے- وُہ فرماتے ہیں کہ بِنا مُرشد راہ نہیں ملتی-“*

میں نے کہا، *”بالکل دُرست کہتے ہیں تمہارے مُرشد- دیکھو، مُرشد، رٙشد سے ہے، مُرشد مطلب راستہ دِکھانے والا، اور ماں باپ سے اچّھا راستہ کون دِکھا سکتا ہے؟”*

وُہ لاجواب ہوگیا، شاید اس کے اندر حق اور باطل کی جنگ جاری تھی۔ پھر کُچھ توقّف کے بعد بولا، *”باوُجی، اگر کِسی کا باپ شرابی ہو، زانی ہو یا رشوت لیتا ہو، تو کیا اُس کی اِطاعت اور تکریم کرنی چاہئے؟”*

میں نے کہا، *”ہاں! یہ اُس کا عمل ہے، جس کے لئے وُہ اللّٰہ کو جوابدہ ہے، پر بچّے پر فرض ہے کہ وُہ باپ کے ہر حُکم کے آگے سر جُھکائے۔ اِنکار کی صِرف ایک صُورت ہے کہ باپ شِرک کرنے کو کہے-“*

چنے والا حیران رہ گیا۔ بولا، *”میرا باپ گاؤں میں بھٹّی کی بنی کچّی شراب پیتا ہے، گالم گلوچ کرتا ہے، تو کیا مُجھ پر اُس کی فرمانبرداری فرض ہے؟”*

میں نے کہا، *”ہاں! بلکہ فرضِ اوّلین ہے۔”*

کُچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا، *”باوُجی، آپ اپنے مُرشد کے لئے چنے لے جانے کو اِتنے بےقرار کیوں ہو؟”*

میں نے کہا، *”بھائی! میرے ابّا کبھی ہم سے کُچھ نہیں مانگتے- ہم پانچ بھائی امّاں ابّا کے لب ہِلنے کے منتظر رہتے ہیں۔ ابھی میرے چاروں بھائی سوئے پڑے ہیں- مُجھے ڈر ہے کہ اگر اُن میں سے کوئی جاگ گیا اور ابّا نے اُس سے چِکّڑ چنے اور تِلوں والے کُلچے کی فرمائش کر دی اور وُہ مُجھ سے پہلے ابّا کے لئے چنے لے گیا تو میرے ہاتھ سے نیکی کا موقع نکل جائے گا-“*

چنے والا حیرت سے تکنے لگا- بولا، *”باوُجی! آپ ایسا سوچتے ہو؟”*

میں نے کہا، *”سوچتے نہیں بلکہ ہم پانچوں بھائی اِسی تاک میں لگے رہتے ہیں کہ والدین کوئی بات مُونہہ سے نکالیں اور ہم ایک دُوسرے پر سبقت لے جائیں۔ ہم تو تاڑ میں رہتے ہیں۔”*

چنے والے کی آنکھوں سے آنسو رٙواں تھے. اِسی اثناء میں ایک رکشہ آ کر رُکا، چنے والے نے رکشہ میں سے ایک بڑا پتیلا چوبی باٹے میں اُنڈیلا اور مُجھے چنے پیک کر کے دیئے- میں پیسے ادا کر کے گاڑی کی طرف لپکا-

چنے والا میرے پیچھے بھاگا، قریب آ کر پوچھا، *”باوُجی! عیبی باپ کو مُرشد کیسے مان لوں؟”*

میں نے کہا، *”نہ مانو مُرشد، پر اُس کی فرمانبرداری تو کرو۔”*

میں اُس کا مسئلہ جان چکا تھا- میں نے کہا، *”سوچو بھائی، اگر اللّٰہ کو عیبی اور نیک والدین میں فرق کرنا ہوتا تو وُہ دونوں اقسام کے والدین کے لئے الگ الگ احکامات جاری کرتا- جب اللّٰہ والدین کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور ایک ہی طرح کے حقوق بیان کرتا ہے تو تم تفریق کرنے والے کون ہو؟”*

اُس نے سوال کیا، *”اگر میں اپنے ابّا سے معافی مانگوں تو کیا وُہ مُجھے معاف کردینگے؟”*

میں نے کہا، *”بھائی! اللّٰہ کے بعد والدین ہی ہوتے ہیں جو ہمیں معاف بھی کرتے ہیں اور ہماری پردہ پوشی بھی کرتے ہیں- تمہیں زندہ پیر مُیسّر ہیں، جاوُ جا کر اپنی عاقبت سنوار لو، اِس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نِکل جائے-“*

چنے والے نے اپنے ہیلپر کو ریڑھی پر کھڑا کیا اور اپنے پِیر کو منانے احمد پور لما چلا گیا- جاتے ہوئے وُہ زاروقطار رو رہا تھا اور مُجھے کہہ کر گیا، *”باوُجی! دُعا کرنا کہ میرے پُہنچنے تک میرا بوڑھا سلامت رہے-“*

میں وہاں سے نِکلا، راستے میں ایک تنور سے مُرشد کے حُکم کے مطابق دو تِلوں والے سُرخ کُلچے لگوائے، تیزی سے گاڑی بھگاتا ہوا گھر پُہنچا، میری بیوی نے جلدی سے ابّا کو اِنسولین لگائی اور چِکّڑ چنوں کے ساتھ کُلچے دیئے- ابّا مزے سے چنے کھا رہے تھے اور ہر لُقمے پر دُعا دے رہے تھے *”اپّو اللّٰہ تیری مشک بھری رکھے”*

میں اور میری بیوی دِل ہی دِل میں آمین کہہ رہے تھے۔ مُرشد کو چنے کِھلانے اور دُعائیں سمیٹنے کے بعد جب میں نے بیوی سے اپنے حِصّے کے چنے مانگے تو پتا چلا کہ میرے حِصّے کے چنے میرے بچّے کھا کر سکول چلے گئے ہیں- جانے میں نے کِتنی بار ابّا کے حِصّے کے چنے کھائے ہوں گے-
اللّٰہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے. آمین

 
Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...