سسکتے رشتے از قاری حنیف ڈار

 انسان کو اپنی جگہ پہ لگا ھوا دانت چھوٹا سا محسوس ھوتا ھے مگر جب وہ دانت گرتا ھے تو دو دانتوں جیسا بڑا خلا چھوڑ جاتا ھے اور انسان وھاں انگلی رکھ رکھ کر تصدیق کرتا ھے کہ ” ھیں؟ واقعی ایک دانت گرا ھے ؟”  کچھ رشتے جب پاس ھوتے ھیں تو اتنے اھم نہیں لگتے ،، مگر جب چلے جاتے ھیں تو اتنا بڑا خلا چھوڑ جاتے ھیں کہ کئی انسان مل کر بھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے ، ان میں سے ایک رشتہ والدین کا ھے ! یہ جب تک پاس ھوتے ھیں تو ھوش سنبھالتے ھی ان کی پابندیاں جان کھا جاتی ھیں ،، سپارہ پکڑو مسجد جاؤ ، مسجد جاؤ گے تو روٹی ملے گی ، زبردستی “اسکول دفع ھو جاؤ ،، کوئی چھُٹی شُٹی نئیں ” سردیوں میں گھسیٹ کر گرم کمبل سے نکالنا ،، بندہ سوچتا ھے کہ کیا ان کی زندگی میں ، کوئی کام میں اپنی مرضی سے کر بھی سکوں گا یا نہیں ،، یہ بہت ڈسٹربنگ تعلق ھوتا ھے ، ھر پسند کے آگے ماں باپ کھڑے نظر آتے ھیں ،ھر رنگ میں بھنگ ڈالنے والے ،، کھیل کے سنسنی خیز لمحات آخری اوورز ، آفریدی کی بیٹنگ اور عین وقت پر ماں کی للکار ” خبیث تو ابھی تک مسجد نہیں مرا ؟ امی مسجد ادھر ھی ھے نئیں کہیں جاتی، چلا جاؤں گا ،، بس پانچ بال ھیں ،، میں اگر آج ٹی وی نہ توڑوں تو باپ کی بیٹی نہیں ،، لو جی امی جی کو بھی آج ھی ڈی این اے چیک کرانا تھا ، پھر باپ کو کوسنے ” تو مرد بن مرد ،، تجھ سے بچے سنبھالے کیوں نہیں جاتے ؟ ویسے تو مونچھیں گلو بٹ کی طرح رکھی ھوئی ھیں مگر بیٹے کے سامنے بیگی بلی بنے رھتے ھو ” اور باپ کا دروازہ کھول کے بے بسی سے کہنا یار تو چلا جایا کر وقت پہ مسجد ،، ضرور میری بے عزتی کرانی ھوتی ھے ،، اور انسان کا سوچنا کہ اگر شادی ” میری امی جیسی بلا ” کا نام ھے تو کوئی پیسے بھی دے تو نہیں کرونگا ،، مگر جب یہ چلے جاتے ھیں تو انسان کی دنیا ویران ھو جاتی ھے ،خوشی کے وقت پہلا خیال یہی تو آتا ھے کہ امی کو بتاؤں ، یا ابا کو بتاؤں کہ آپ کا وہ بیکار سا بیٹا یا بیٹی کتنے کام کے نکلے ہیں ،،مگر پھر جھٹکا لگتا ھے کہ جن کو اصل خوشی ھونی تھی وہ تو چلے گئے” ڈھونڈ ان کو اب چراغِ رُخِ زیبا لے کر ”  ھر خوشی اپنے بیک گراؤنڈ میں دکھ کی کسک چھوڑ جاتی ھے ،، والدین کی ہر وہ بات اور پابندی جس پر ہمیں اس وقت غصہ آتا ھےحقیقت میں ان کے خلوص و اخلاص کا مظھر ھوتا ھے ، وہ نہ صرف ھمارے نقصان بلکہ نقصان سے کے اندیشے سے بھی سہمے رھتے ہیں اور ھمارے مستقبل کے لئے پریشان رھتے ہیں ،،، یہ بات تب تک سمجھ نہیں لگتی جب تک آپ کی اپنی اولاد نہیں ھوتی اور آپ بھی جوتی اٹھا کر بیٹے کے سر پر کھڑے نہیں ھوتے ۔

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...