سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان کا جناب حسن فرحان المالکی.سے انٹرویو کا پہلا عربی سے اردو ترجمہ

درج ذیل میں سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان کا جناب حسن فرحان المالکی.سے انٹرویو کا پہلا عربی سے اردو ترجمہ ہے۔ بقیہ انٹرویو عربی سے۔ انگلش اور پھر اردو میں ترجمہ ہوئے۔ اس کی چاشنی علیحدہ ہے۔
اس انٹرویو سے پتہ چلتا ہے کہ ذہنی جمود کی شکار عرب دنیا کی نئی قیادت اپنے ماضی کے مذہبی موقف پر کیا نقطہ نظر رکھتی ہے۔ جہاں مالکی ،حنبلی شافعی ودیگر فقہ کے پیروکار اکٹھے رہتے ہیں۔۔
___________________________________________
حسن فرحان مالکی :میں جب عقیدے کی آزادی کو قرآن میں دیکھتا ہوں
جبکہ دوسری طرف ایک حدیث ہے جو مرتد کی سزا موت بتاتی ہے اور اسکی بھی جو آزادی کو ترویج دے
تو میں کس طرف جاوں؟
میں اسکی طرف جاوں گا جو قرآن کہتا ہے “دین میں کوئی زبردستی نہیں, درست راستہ غلط راستے سے الگ کر دیا گیا ہے”2/256
اور اسی طرف انصاف کی مرکزیت, جب اللہ قرآن میں فرماتا ہے
“ہم نے رسول بھیجے واضح دلائل کے ساتھ, اور بھیجا کتاب اور میزان کو تا کہ لوگ انصاف پر قائم رہ سکیں. 57/25
اس طرح انصاف قائم کرنا رسولوں اور کتاب کا مقصد بن جاتا ہے
جبکہ حدیث کی کتابوں میں کوئی انصاف والا باب ہی نہیں ہے
نہ بخاری میں نہ مسلم میں اور نہ ہی چھ کتابوں میں.
وہ عبادت کو تو زیر غور رکھتے ہیں اور ان مرکزی باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں جو قرآن میں کثرت سے بیان ہیں
جیسے کہ عقل, انصاف, ایمانداری, علم اور اسکے معیار, انسانی حقوق
یہ قرآن میں کثرت سے ذکر ہیں جبکہ انکو وہ اہمیت نہیں دی جارہی اور ترک کیے ہوئے ہیں
روایات (جمع کرنے) کی تحریک ارباب اختیار کے زیر سایہ چلائی گئ
زیادہ تر یہی ہوا ہے کہ بڑے بڑے راوی ظالم حکمرانوں کے درمیان پھلے پھولے ہیں.
بہرحال حدیث والے لوگوں کی ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے
وہ سمجھتے ہیں کہ جو کوئی بھی ایک حدیث کو رد کرتا ہے جو قرآن سے ٹکراتی ہو, گویا اس نے سنت رسول کو رد کیا. یہ بات درست نہیں
حدیث کی دونوں کتابوں (بخاری اور مسلم) میں ایسی حدیثیں ہیں جو واضح طور پر قرآن کے متضاد ہیں.
اس کے باوجود اہل حدیث اور انکے سپورٹر, جو سنت کے تحفظ میں حد پار کرتے ہیں
ہمارا جھگڑا انکے ساتھ نہیں, ہمیں واضح کر دینا چاہیے کہ جھگڑا نبی ص کے فرمائے ہوئے مستند ارشادات کے حوالے سے نہیں ہے
بلکہ اس حوالے سے ہے جن کا انھوں نے دعوی کیا تھا کہ مستند ہے, جبکہ وہ نہیں ہے
کیوں کہ محمد ص قرآن کے خلاف نہیں کرتے تھے. جیسے کہ آپ ص نے فرمایا “میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کیا گیا” 7/203
لہذا ایسی حدیثوں کا ملنا نا ممکن ہے
مثال کے طور پر قرآن عقیدے کی آزادی کی ترویج کرتا ہے جبکہ ایک حدیث بھی موجود ہے جو مرتد کی سزا قتل بتاتی ہے.
اور اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ “جنت نہ تو تمہارے چاہنے سے اور نہ اہل کتاب کے چاہنے سے ملے گی, جو بھی غلط کرے گا اسکی جزا پائے گا” 4/123
جبکہ صحیح مسلم میں ایک حدیث ہے جو ابی برادہ نے روایت کی ہے
جس کے مطابق قیامت کے دن ہر مسلمان کو ایک یہودی یا عیسائی کی قربانی دے کر بچا لیا جاے گا
نا انصافی پر مبنی یہ حدیث کس طرح قرآن کے انصاف پر پورا اترتی ہے؟
مزید یہ کہ میں نے ایک اہم نکتہ ذکر کیا, اہل حدیث نے تو پورا پیرامڈ ہی الٹ کر رکھ دیا
قرآن کی اہم مرکزی تعلیمات جو کہ اسلام کی روح ہے جیسے کہ علم, انصاف, اللہ سے ایمانداری
چھ حدیث کی کتابوں میں ایک باب بھی عقل کے استعمال کے حوالے سے نہیں یے
اور نہ ہی علم, انصاف, حواس کا استعمال اوراللہ سے ایمانداری پر کوئی باب ہے
یہ خود ساختہ تفصیلات/جزویات میں پھنس کر رہ گئے
جو سیاسی شعور تقاضا کرتا ہے
میں تمام احادیث کو ایک ہی کیٹگری میں نہیں لاتا لیکن زیادہ تر حدیثیں جو لوگوں کی زبانوں پر ہیں
اگر آپ ایک مبلغ سے 100 حدیثیں سنو تو جان لو کہ اس میں 90 وہ ہیں جو محمد ص سے جھوٹ منسوب کیا گیا ہے اور 10 مستند ہو سکتی ہیں
اسی لیے ہمارا مشورہ ہے کہ قرآن روشنی ہے اور روشنی اپنے آپ کو افشا کرتی ہے اور کسی دوسرے کی محتاج نہیں ہوتی
میزبان: لیکن شیخ آپنے یہ کیوں کہا کہ سو میں سے دس ہی مستند ہیں؟
کیوں کہ انکا جانچنے کا معیار ہی غلط ہے
وہ حدیث کی جانچ قرآن سے نہیں کرتے, اور ایسی حدیثوں کو بھی مستند قرار دے دیتے ہیں جو قرآن کے, عقل کے, آزادی کے اور تمام اصولوں سے متضاد ہوں
ہمیں شروعات سب سے اہم ذریعہ سے لینی چاہیے
اگر ہم دیکھیں کہ قرآن ایک معاملے پر بالکل واضح ہے جبکہ حدیث اس کے متضاد ہو, تو ہم کس طرف جائیں گے؟
حدیثی شدت پسندوں کےنزدیک جو انسان بھی قرآن کے خلاف آنے والی کسی حدیث کو رد کرتا ہے وہ سنت پر حملہ آور ہونے کا ملزم بن جاتا ہے
یہ غلط سوچ ہے
اہل حدیث کے نزدیک قرآن ایک غیر اہم (دین کا) ماخذ بن چکا ہے
وہ قرآن سے اتنا رجوع نہیں کرتے جتنا روایات سے کرتے ہیں, قرآن ان کے لیے سب سے نچلے درجے کا (دین کا) ماخذ ہے
صرف زبانی کہنے کی حد تک دعوی کرتے ہیں کہ قرآن ہی اولین بنیادی دین کا ماخذ ہے
لیکن ہمیں ایماندار ہونے کی ضرورت ہے, اللہ نے گفتگو میں دیانتداری کا حکم دیا ہے “سچوں کے ساتھ ہو جاو” 9/119
تو دیانتدار ہو کر بات کرتے ہیں
جب میں اپنے کلیگز کے ساتھ احادیث کا مطالعہ کر رہا تھا
میں دیانت داری سے بتا رہا ہوں ہم نے قرآن کو ایسا نہیں پایا جیسے اس آیت میں کہا گیا ہے ” یہ قرآن سب سے سیدھے رستے کی رہنمائ کرتا ہے”
بلکہ ہمارا خیال یہ تھا کہ بخاری اورمسلم سیدھے رستے کی رہنمائی کرتے ہیں
بخاری کے حوالے سے میرے بہت سے نکات ایسے ہیں جن پر شدید اختلاف رکھتا ہوں
اس نے انصاف کا باب شامل نہیں کیا,
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس نے کھڑکیوں, ڈیکوریشن اور کندھے سے مٹی ہٹانے کے طریقوں کے موضوعات کو تو شامل کیا
لیکن انصاف, اللہ سے دیانتداری, عقل, علم اور اس طرح کے دوسرے قرآنی موضوعات کا باب نہیں بنایا.
بخاری تو شیخ علی ابن المدنی کا نتیجہ ہے. اور (شیخ) سفیان سے نکلا ہے.
اور سفیان الظہری سے نکلا جو کہ راوی تھا ہشام بن عبدالمالک کی عدالت میں.
ہمیں حدیث کی سند (راویوں کی جانچ) سے پہلے اسکے متن کو دیکھنا چاہیے,اور حدیث سے پہلے قرآن کو دیکھنا چاہیے
یہ قرآن ہی ہے جو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یہی وہ کتاب ہے جس پر اللہ نے غوروفکر کا حکم دیا, لیکن وہ غوروفکر نہیں کرتے.
وہ قرآن کی پچاس آیتوں کو ایک قابل اعتراض حدیث کے لیے چھوڑ دیتے ہیں, وہ منکر ہیں لیکن انکو اسکا ادراک نہیں
جیسا کہ میں نے کہا,انھوں نے اسلام کو الٹ کے رکھ دیا ہے
انھوں نے قرآن کو نچلے درجے پر رکھ دیا اور بخاری , نواوی اور ابن ہجار کو عظیم ٹھہرا دیا جیسے کہ وہ فرشتے ہوں
جبکہ در حقیقت وہ کمزور انسان تھے غلطیوں, خامیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ
جو کوئی ہم پر ان لوگوں کے ذریعے حملہ کرے گا ہم ان پر قرآن کے ذریعے حملہ آور ہونگے
اگر وہ اپنے آپ کو نرم کر لیتا ہے تو ہم بھی خود کو نرم کر لیں گے
تو مہربانی کریں, ہم قرآن کے پیروکاروں کو تو ایک بھی موقع نہیں دیا گیا ہے
یہاں پر صحابہ کی پیروی کرنے والے بھی ہیں, نبی کے گھر والوں کی پیروی کرنے والے بھی ہیں لیکن خالص قرآن کے سچے پیروکار بہت کم ہیں اور انکو تاریخ میں ایک بھی موقع نہیں دیا گیا
کہ ہم قرآن کو اور جو کچھ اس میں اللہ نے فرمایا ہوا ہے اسکو سامنے لائیں
انکے نزدیک قرآن کی جگہ کسی اور نے لے لی ہے اور یہ کتاب صرف انکے نزدیک معموں اور علامتوں کی کتاب ہے
وہ قرآن کی غلط تشریح سر زد ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں جبکہ اللہ نے بتا دیا ہے کہ میں نے اسکو آسان بنایا
“بے شک میں نے قرآن کو یاد دہانی کے لیے آسان کر دیا” 54/17
“کیا وہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟” 47/24
انکا اس آیت پر موقف ہی دیکھ لو
“جن پر غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے” سورہ فاتحہ کی ساتویں آیت
وہ کہتے ہیں کہ جن پرغضب ہوا وہ یہودی ہیں اور جو گمراہ ہوئے وہ عیسائی ہیں. یہ اللہ کے الفاظ نہیں, ان کی اپنی کی ہوئی متعصبانہ تاویل ہے.
وہ تمام لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے قرآن میں ذکر ہیں وہ سب اس کیٹگری میں آتے ہیں
اور وہ تمام جن کے بارے میں اللہ نے قرآن میں بتایا کہ وہ گمراہ ہوئے وہ دوسری کیٹگری میں آتے ہیں
اہل حدیث لوگوں نے قرآن پر اپنے بلند و بانگ دعوں کے باوجود اس کا درجہ گھٹا کر اسکو ثانوی حیثیت دے رکھی ہے
اسی لیے جب آپ ان سے عقیدے کی آزادی کے متعلق 2/256 آیت کا پوچھتے ہیں
تو وہ اس بات کے تعین میں ٹھوکر کھاتے ہیں کہ آیا اس مسلمان مرتد کو قتل کیا جائے یا نہیں جس نے اسلام چھوڑ دیا ہے
جبکہ اللہ نے فرما دیا ہے کہ “دین میں کوئی زبردستی نہیں. سیدھا راستہ غلط راستے سے الگ کر کے واضح کر دیا گیا ہے” 2/256
اور یہ بھی کہ اللہ نے انکی سزا آخرت تک کے لیے موخر کر دی ہے
کسی کی زندگی لینے کے بارے میں قرآنی حکم صرف قاتل کے خلاف, فسادی اور ظالم کے خلاف ہے
جہاں تک مرتد کی سزا کا تعلق ہے تو یہ قانون دانوں کی طرف سے شامل کیا گیا کیوں کہ حکمران چاہتے تھے کہ انکی مخالفت کو ارتداد کی طرح نمٹا جائے
اسی طرح جاعد ابن درھم کو قتل کیا گیا اور دوسرے اصلاح پسندوں کو بھی جیسے کہ جاھم ابن سفوان
میزبان: آپ بنو امیہ کے دور کی بات کر رہے ہیں؟
حسن فرحان مالکی: دونوں, اموی اور عباسی ادوار میں لوگوں کو قتل کیا گیا بدعت کے نام پر
لہذا ہمیں قرآن کی روح کو واپس بحال کرنا پڑے گا
کیوں مسلم امت عقل میں سب سے کمزور ہو چکی ہے اور انسانی حقوق کے حوالے سے غیر حساس اور غیر متعلقہ
کیوں کہ قرآن کی روح کے اوپر اور علم و عقل کے اوپر تو روایات غالب آ گئی ہیں
یہ جملہ “کیا تم سوچ بچار نہیں کرتے” قرآن میں دوسرے جملے “کیا تم ایمان نہیں لاتے” سے کہیں زیادہ مرتبہ ذکر ہوا ہے.
کیوں ہماری پوری تاریخ میں ایک بھی کتاب عقل کے استعمال کے متعلق نہیں ہے؟
جب اس نے فرما دیا ہے کہ قرآن کو آسان بنا دیا گیا ہے تو ہمیں اللہ کہ بات کو مان لینا چاہیے
ہم یوں نہیں کہہ سکتے کہ “ہاں , اللہ نے اسکو آسان بنایا ہے پر ہم اس بات کو مانتے نہیں” . ایسا کہنا حرام بلکہ کفر ہے.
تو اللہ نے قرآن کو آسان بنایا, لیکن ہمیں اسکو لازمی طور پر ایک طالب علم کی طرح اپروچ کرنا پڑے گا نا کہ ایک استادکی طرح
زیادہ تر قرآن کو پڑھنے والے لوگ اس کتاب تک رسائی یوں کرتے ہیں جیسے اس کے استاد ہوں نا کہ کتاب انکی استاد.
اگر ہم متنابی کی ایک نظم کو دیکھیں تو ہمیں اسکو سمجھنے میں تھکا دینے والا پورا مہینہ لگ سکتا
لیکن جب ہم ایک قرآنی سورت کو دیکھتے ہیں تو ہم اسے سمجھنے کے لیے جلد بازی کرتے ہیں یا اسکو ایک طرف رکھ دیتے ہیں
یوں قرآن کے ساتھ ہم تکبر سے پیش آتے ہیں
قرآن ایک مخصوص اخلاقی طریقہ کار رکھتا ہے
یہاں تک کہ اللہ نے رسول ص کو بھی حکم دیا کہ ” اپنی زبان کو جلد بازی میں حرکت نہ دو, اسکو جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے” 75/16,17
اس نے حکم دیا غور و فکر کرنے کا, سنجیدگی سے سوچنے کا, اور اسکو ٹھہر ٹھہر کر حصوں میں تلاوت کرنے کا. جو بھی ان اخلاقی قدروں کے تحت نہیں چلے گا وہ قرآن کو نہیں سمجھ سکے گا
اگر ہمارے پاس زیادہ وسیع وقت ہوتا تو لوگ قرآن کی عظمت کو دیکھتے, اور یہ کہ یہ خود اپنے آپ میں نور ہے اور رہنما ہے اور خود اپنے آپ کو افشا کرتا ہے
اور یہ کہ حدیثی لوگوں کا قرآن کے متعلق تنازعہ اور رکاوٹ لازمی طور پر اپنے اختتام کو پہنچ جانی چاہیے
وقت آ گیا ہے کہ قرآن کو بخاری,مسلم, مسند احمد اور باقی تمام فرقوں کی کتابوں سے اوپر رکھا جائے
اگر قرآن مجھے ایک بات بتائے اور فرقوں کے مکتب فکر کچھ اور بتائیں
اگر میرا فرقہ اور میرا شیخ کوئی غلطی کرتا ہے تو میری اللہ سے ایمانداری اور دیانتداری کو فوقیت ملنی چاہیے. یہ سادہ سی بات ہے
اور یہ بات قرآن میں رائج بھی ہے “گواہی ٹھیک اور درست دو اللہ کی خاطر” 65/2
“اور جو کوئی گواہی کو چھپاتا ہے اسکا دل گناہ سے آلودہ ہو جاتا ہے” 2/283
وہ تو بالکل ہی قرآن سے آزاد ہیں. انکے لیے تو یہ بس تراویح میں پڑھنے کی شئے ہے. اور ہر ہر حرف پر دس نیکیاں. اور بس.
میں سنت کا انکار نہیں کرتا. خود یہ لوگ جب کسی مضبوط حدیث کو دوسری حدیث سے متضاد دیکھتے ہیں تو رد کر دیتے ہیں.
لیکن یہ اس حدیث کو رد نہیں کرتے جو سینکڑوں آیات سے متضاد ہو.
جس سے انکی روایات اوراحادیث سے متعلق جنونیت ثابت ہوتی ہے
اور یہ بلند آواز کر کے شیخی مارتے ہیں کیوں کہ پوری تاریخ میں انکو حکمرانوں کی حمایت ملتی رہی ہے
میزبان: شیخ صاحب, کیا آپ عقیدے کی آزادی اور مرتد کے علاوہ کوئی اور مثالیں بھی دے سکتے ہیں؟
حسن فرحان مالکی: ہاں کیوں نہیں. مثال کے طور پر عدل و انصاف کا معاملہ
قرآن میں عدل و انصاف کی مرکزیت اسکو روزے, نمازوں, حج اور خیرات سے بھی زیادہ اہم بناتی ہے.
کیوں کہ اللہ نے اسی کو رسول اور صحیفے بھیجنے کا مقصد بتایا.
لیکن وہ اسکا ذکر تک نہیں کرتے, انکی پوری تاریخ میں عدل و انصاف کے متعلق ایک کتاب بھی نہیں ہے
اسلام کے ستون نافع بن عمر کی روایت سے لیے گئے ہیں قرآن سے نہیں
ہمیں اسلام کے ستونوں کو پہچاننا ہوگا, اس بات سے قطع نظر کہ مجھے لفظ “ستون” پر تحفظات ہیں. اس طرح کا کوئی معنی کہیں ذکر نہیں ہوا.
اسلام کی بڑی بڑی بنیادیں لازمی طور پر قرآن سے لینی چاہیے
اسلام کے ستون جن کے ہم عادی ہیں وہ حدیثوں کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے ہیں نا کہ قرآن کے تحت
انھوں نے انصاف, آزادی اور اللہ کو پہچاننے کے بڑے ذرائع کو چھوڑ دیا
اور عبادت کے لوازمات کو پکڑ لیا تا کہ مسلمانوں کو اپنے تک اور اپنی مسجدوں تک رکھا جا سکے,
اچھائی کا کہے بغیر اور برائی سے روکے بغیر, اور علم, عقل اور آزادی کے بغیر
انھوں نے معتزلہ مکتب فکر کی تذلیل اسی لیے کی کہ انھوں نے اسلام کے ستونوں میں عدل و انصاف کو شامل کیا
حالانکہ یہ قرآن میں ایک ستون سے کہیں زیادہ ہے. وہ (معتزلہ) اسکو شہادہ (ایمان کی گواہی) کے بعد اور صلات سے پہلے رکھتے ہیں
جو کوئی بھی قرآنی بنیادوں کو پکڑتا ہے وہ اس کو اپنے خلاف کیچڑ سمجھنے لگتے ہیں
وہ (اہل حدیث) اس پر بدعتی ہونے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ یہ خود بدعتی ہیں جھوٹی باتیں گھڑنے والے.
لفظ “عقیدہ” معتزلہ گروہ کی طرف سے بنائی گئ بات ہے حدیثوں کی بنیاد پر. قرآن میں ایسی کوئی بات نہیں ہے صرف اسلام اور ایمان ہے.
“وہی ایمان والے کامیاب ہیں جو اپنی صلات میں عاجز ہیں” 23/1,2
ایمان اور گناہ کے لیے کیٹگریز ہیں لیکن لفظ عقیدہ ایک من گھڑت شئے ہے.
قرآن یہ راز افشا کرتا ہے کہ پچھلی کتابوں کو بگاڑنے والے کوئی اور نہیں بلکہ سکالر ہی تھے
اللہ یہ ذکر کرتا ہے “، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے” 3/19
تو امتوں میں اختلاف اور تنازعات کی وجہ سکالر ہی تھے جو تحریف کرتے تھے
“ان میں ایسے لوگ بھی جو کلام اللہ کو سن کر، عقل و علم والے ہوتے ہوئے، پھر بھی بدل ڈاﻻ کرتے ہیں” 2/75
اور محمد ص نے ایک مستند حدیث میں فرمایا ہے کہ یہ امت دوسری قوموں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریف کی پیروی کرے گی
اور بیچارہ عام آدمی قتل ہوتا اور رگڑ دیا جاتا ہے
اس لیے عربی بغاوت کے بعد لوگوں کے دماغ کھلیں گے اگر اللہ نے چاہا اور وہ قرآن کو دوبارہ دریافت کریں گے
قرآن کو ویران کیا ہوا ہے اسکو دوبارہ دریافت کرنا پڑے گا,شکر ہے اس دستیاب آزادی کا
اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا پروگرام ہے قرآن کی حمایت میں
شیعہ: قرآن ویران نہیں یے, تہمارے لیے یہ ویران ہے
لیکن مسلمانوں کے لیے یہ ویران نہیں ہے
یہ صرف تمہارے ذہن میں ویران ہے, یہ تمہارا اپنا ذاتی دعوی ہے
مالکی: آپنے عیسائیوں اور یہودیوں کی قربابی دینے کے حوالے سے جو حدیث ہے اسکا جواب نہیں دیا
میزبان: لیکن ڈاکٹر محمد (شیعہ صاحب), “اور رسول ص فرمائیں گے اے میرے رب میری قوم نے قرآن کو چھوڑ (ترک) کر رکھا تھا” 25/30
مالکی: قرآن اسکے ذہن سے نہیں گزرتا
شیعہ: کوئی مسئلہ نہیں, یہ اللہ کی طرف سے ہمیں صرف ایک حکم ہے کہ قرآن کو نہ چھوڑو.
اور یہ کون ہوتا ہے دعوی کرنے والا کہ لوگوں نے اور سکالروں نے قرآن چھوڑ رکھا ہے
کیا امام بخاری اور امام مسلم نے قرآن چھوڑ رکھا تھا ؟
کیا اہل سنت نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے؟
یہ کیا بکواس ہے
مالکی: نہیں, نہیں,نہیں, یہ محمد ص فرمائیں گے قیامت کے دن اللہ سے.
ہاں ان سب نے چھوڑ رکھا تھا۔
منقول ۔۔۔
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...