سوال: بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی جائز یا ناجائز؟ جواب از محمد حسن الیاس

سوال: کیا یہ “ Bitcoin and cryptocurrency “ جائز ہیں؟

جواب: کسی چیز کے جائز اور ناجائز قرار دینے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ پہلے اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ جس سے یہ رائے مانگی جا رہی ہے وہ اس موضوع پر گفتگو کرنے اور رائے دینے اور فیصلہ کرنے کا اہل بھی ہے۔ میرے خیال میں مذہب کے کسی طالب علم کا یہ دائرہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی بھی فن سے متعلق اطلاقی معاملات میں جائز ناجائز کا فیصلہ کرے ۔اسے یہ حق حاصل نہیں ہے۔ اس لیے کہ ہر علم علم و فن اپنا ایک نظام فکر رکھتا ہے، اس کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں، دین کے علماء اس کے ہرگز مکلف نہیں کہ تمام علوم و فنون میں مہارت حاصل کریں ۔ ان سے یہ تقاضہ اس کی ذمے داری اور علم سے تجاوز ہے ۔ وہ صرف مذہب کی اصولی ہدایت بتانے کے پابند ہیں۔اس کے بعد اس فن کے ماہرین ہیں جو فیصلہ کریں گے کہ کیا اس معاملے میں اس ہدایت پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں ۔ یہ انھی ماہرین کا فتوی ہے، جو قابل قبول ہوگا ،نہ کہ کسی مذہبی عالم کا۔ اس حوالے سے مذہب کی اصولی ہدایت ہم نے اپنے استاد غامدی صاحب کی فکر کی روشنی میں سمجھی ہے ،وہ یہ ہے کہ اس کا مقصد تزکیہ نفس ہے۔ مذہب ایک بندہ مومن سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں اخلاقی تقاضوں کی پابندی کرے گا۔ یہی ہدایت اس نے لین دین کے معاملات میں بھی دی ہے اور یہ سر تا سر ایک اصولی اور اخلاقی ہدایت ہے: وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ،  یعنی آپس کے لین دین کے معاملات میں غلط طریقوں سے مال نہیں کھایا جانا چاہیے۔ یہ غلط طریقے کیا ہیں؟یہ عالمگیر منکرات ہیں ،کم تولنا، غلط بیانی کرنا، دھوکہ دینا، حق تلفی کرنا، ظلم کرنا۔ معیشت سے متعلق اس ہدایت کا اطلاق ہے،جو ہر نئی صورت حال پر کیا جائے گا۔ مذہب کا نہ یہ موضوع ہے نہ اس نے اس پر بات کی ہے کہ لین دین کے معاملات میں کیا چیز ہے جو خریدنے کے لیے استعمال کی جائے، وہ سونا ہو یا چاندی ہو، وہ فزیکل کرنسی ہو یا ڈیجیٹل۔ مذہب کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ یہ انسانوں کی زندگی کا موضوع ہے۔ چنانچہ کسی مذہبی عالم کی اس معاملے میں رائے کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ لہذا لین دین کی ان نئی صورتوں کو سمجھنے، ان کے پس منظر میں کارفرما عوامل کو جاننے اور ان کے متوقع نتائج کی معروفت کے لیے ماہرین معیشیت کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے ۔ دین کے علما بھی اس معاملے میں انھی کی رائے پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ 

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...