سوال: عدت بیٹھنا !، جواب قاری حنیف ڈار

اکثرسوالات آتے رہتے ہیں کہ والد صاحب فوت ھو گئے ہیں ـ والدہ کی عمر ۷۰،۷۵ سال ہے ، ہم تین بھائی ہیں والدہ صاحبہ عدت پر کہاں بیٹھیں ؟ امی جی کو طلاق ھو گئ ھے مگر بس ایک طلاق ھوئی ھے ، اگرچہ تین طلاقیں نہیں ھوئیں مگر چونکہ امی کا ارادہ واپس جانے کا نہیں ہے تو کیا وہ عدت پر بیٹھ جائیں ؟

عورت کو جب طلاق ھوتی ھے تو اسی لمحے اس کی عدت شروع ھو جاتی ھے عدت نیت سے شروع نہیں ھوتی ، ایک طلاق ھو تو عورت کو شوھر کے ساتھ ہی رھنا چاہئے شاید کہ رجوع کی سبیل پیدا ھو جائے ، اگر خاتون والدین کے پاس ھے یا شوھر دوسری بیوی کے پاس ھے اور پہلے والی الگ رہتی ھے اور طلاق ھو گئ ھے تو اسی گھر میں رہتے ہوئے اس کی عدت شروع ھو جائے گی ، اگر شوھر نے ۹۰ دن یا تین حیض کے دوران رجوع نہ کیا تو عورت آزاد ہو جائے گی ، چاہے تو نیا نکاح بھی کر سکتی ھے اور چاھے تو سابقہ شوھر سے بھی نئے حق مہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے ـ اس دوران عدت کی کوئی چھٹیاں نہیں ھوتیں گرمیوں کی چھٹیوں کی طرح عورت اپنے دفتر بھی جا سکتی ھے اسکول اور اسپتال میں اپنی سروس بھی جاری رکھ سکتی ھے اور کھیت کھلیان میں بھی کام کر سکتی ھے ـ
ہمارے یہاں عدت کو ایک عذاب بنا دیا گیا ھے کہ عدت میں عورت سب سے گوشے میں رھے ،یہانتک کہ نواسے نواسیاں ، پوتے پوتیاں رکھنے والی عمر رسیدہ خاتون کو بھی گوشے میں بٹھا دیا جاتا ھے جیسے اعتکاف بٹھاتے ہیں ، اگر کوئی عورت عام حالات میں چہرہ نہیں چھپاتی تو مجرد عدت کے لئے پردہ کرنا یا منہ چھپانا ھر گز عدت کی شرائط میں شامل نہیں ـ عدت کے ساتھ جڑی یہ ساری باتیں ھندو مذھب سے لی گئ ہیں ،جس میں عدت کے دوران عورت منہ چھپاتی پھرتی ھے ، عدت کا مطلب پہلے شوھر کے حق سے نکلنے کی مدت ھے ،اور نئے نکاح کے لئے دستیاب ھونے کی مدت ـ اس مدت میں کسی کے ساتھ نکاح کا وعدہ نہ کیا جائے ، نہ عورت خود کرے اور نہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ اس مدت میں شادی کی بات چیت کرے البتہ اشارے کنائے سے اس کو حوصلہ دے سکتا ہے ( فکر مت کریں شاید اللہ پاک اس سے بہتر کوئی بندہ مہیا کر دے ) حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ ان کی خالہ کو طلاق ھو گئ اور وہ اپنی کھجوروں کی دیکھ بھال کے لئے نکلیں ، جس پر ایک شخص نے ان کو ڈانٹ پلائی جس پر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائیں اور سوال کیا کہ مجھے طلاق ھو گئی ھے اور فصل پک چکی ہے ، میں گھر میں عدت بیٹھوں یا فصل کو سنبھالوں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنی فصل کو سنبھال ، اپنے بچوں کی روزی کا بندوبست بھی کر اور اللہ کی راہ میں بھی خرچ کر ،، [ مسلم عن جابر]

اگر کوئی خاتون کہیں نوکری کر رھی ھے تو وہ اپنا کام کرتی رھے تین مہینے گھر میں بیٹھنے کی کوئی شرعی پابندی نہیں ہے ، اگر کسی عمر رسیدہ خاتون کا شوھر فوت ھو گیا ھے اور اس کے متعدد بیٹے ہیں تو وہ سب بیٹوں کے گھر تھوڑے تھوڑے دن رہ سکتی ھے ، دل گھبرائے تو پارک میں بھی جا کر بیٹھ سکتی ھے ، کسی کی شادی یا ماتم ھو تو وھاں بھی جا سکتی ھے مگر ایکسٹرا زیب و زینت سے پرھیز کرے ، نہانے دھونے اور کنگھی کرنے میں کوئی حرج نہیں ـ اپنا ضرورت کا سامان ،سودا سلف خرید کر لا سکتی ھے ـ
رجوع تیں ماہ یا تین حیض کے اندر کیا جا سکتا ھے جس کے لئے دو گواہ بنانے کی شرط ہے ، رجوع مرد کا حق ہے یعنی وہ اگر رجوع کا فیصلہ کرتا ھے تو عورت انکار نہیں کر سکتی ،، البتہ ۹۰ دن کے بعد کوئی شخص اپنی بیوی کو واپس نہیں لے سکتا ، اس کی تابعداری کی عدت یا مدت گزر گئ ، اب عورت کی رضامندی سے ہی دوبارہ نکاح ھو سکتا ہے ـ

بہرصورت عدت پر بیٹھنے کا مطلب مرغی کا انڈوں پر بیٹھنا نہیں ہے ، بس ٹائم فریم کی پابندی کا نام عدت ہے ـ

اگر نکاح ھو چکا ھے مگر رخصتی نہیں ھوئی تو اس لڑکی کی عدت بھی کوئی نہیں طلاق کے دو منٹ بعد بھی دوسرا نکاح ھو سکتا ہے اور طلاق بھی ایک ھی ھے تین طلاق کی ضرورت نہ

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...