سورہ النمل کا ہدہد۔ انسان یا پرندہ تحریر محمد نعیم خان

سورہ النمل کی آیت21 پر اعتراض کا جواب:

جس ہدہد کا ذکر سورہ النمل کی آیت 20 میں ہمیں ملتا ہے اس پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر یہ کسی انسان کا نام ہوتا تو آیت 21 میں حضرت سلیمان اس کو ذبح کرنے کے بارے میں نہ کہتے بلکے قتل کا لفظ استعمال کرتے۔ 
یہ اعتراض بھی اتنا قوی نہیں ۔بجائے اس کے کہ ذبح کے لغوی معنی بیان کئے جایں کیوں نہ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن نے اس لفظ کو کسی انسان کے لئے استعمال کیا ہے یا نہیں؟

یہ سورہ البقرہ کی آیت 49 ہے :

وَإِذْ نَجَّيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ ﴿٤٩﴾ 
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی (49) 
ترجمہ مولانا مودودی

ایک اور آیت پیش خدمت ہے۔ یہ سورہ القصص کی آیت 4 ہے :

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿٤﴾ 
واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا (4) 
ترجمہ مولانا مودودی

اوپر دونوں ترجمے میں نے مولانا مودودی کے لگائے ہیں ۔ دونوں آیات میں ذبح کا لفظ انسانوں کے لئے ہی استعمال ہوئے ہیں ۔ 
آخری بات جس سے یہ بلکل صاف ہو جائے گی کہ قرآن میں ذبح قتل کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔

یہ سورہ اعراف کی آیت 127 ہے :

وَقَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ ﴿١٢٧﴾ 
فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا “کیا تو موسیٰؑ اور اُس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟” فرعون نے جواب دیا “میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے” (127) 
ترجمہ مولانا مودودی

پھر ایک اور آیت ملاحاظہ ہو۔ حالانکہ یہ آیت ایک نبی کا خواب تھا اور خواب تمثیلی ہوتے ہیں لیکن یہاں بھی قتل کے لئے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ ذبح ہی ہے۔ یہ سورہ الصافات آیت 102 ہے :

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ﴿١٠٢﴾ 
وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، “بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟” اُس نے کہا، “ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے” (102) 
ترجمہ مولانا مودودی

اس لئے یہ اعتراض بھی اتنا قوی نہیں کہ اگر یہ ایک انسان کا نام ہوتا تو یہاں قتل کا لفظ استعمال ہوتا کیوں کہ قرآن نے ذبح اور قتل مترادف معنوں میں استعمال کئے ہیں ۔

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...