سورہ الکہف کی آیت 86 پر ملحدین کا اعتراض

سورہ الکہف کی آیت 86 پر ملحدین کا اعتراض

سورج کا کیچڑ میں غروب ہونا

(سورۃ کہف آیت 86)

جواب از محمد حنیف

قرآن کریم انسانوں کی راہنمائی کی کتاب ہے ۔ عربی مبین میں نازل کی گئی ایک کتاب ہے ۔ چنانچہ کسی بھی زبان میں استعمال ہونے والی تمام اصناف، استعارے ، مثالیں ، تشبیہات ، دیگر انسانوں کے حوالے ، تاریخی واقعات وغیرہ ۔سب اس کتاب میں بھی موجود ہیں ۔
قرآن کریم نے متعدد مقامات پر مختلف لوگوں کے تجربات ، اقوال بھی نقل کئے ہیں ۔ ہر کتاب میں ایسا ہوتا ہے ۔ 
مصنف اپنی بات کو بیان کرتے ہوئے کچھ لوگوں کے حوالے دیتا ہے ، ان کی تحریر کے اقتباسات پیش کرتا ہے ۔ تو کیا لازم ہے کہ جس شخصیت کا حوالہ دیا جا رہا ہو، یا جس کی تحریر کا اقتباس پیش کیا جا رہا ہو ، یہ مصنف اس سے متفق بھی ہو؟؟

کیا کسی دوسرے کا تجربہ ، یا تصور اگر ہم بیان کر رہے ہوں تو کیا یہ اس بات کی سند ہے کہ ہم اس تجربہ یا بیان سے متفق ہیں ؟؟ 

قرآن کریم میں حضرت یعقوب علیہ سلام کے حوالے سے ان کے بیٹوں کا ایک قول درج ہے ۔ 

إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ [١٢:٨]
یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا “یہ یوسفؑ اور اس کا بھائی، دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان با لکل ہی بہک گئے ہیں [ابوالاعلی مودودی] 

آیت بالا میں حضرت یوسف علیہ سلام کے بھائیوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا حوالہ ہے ۔ جس میں وہ اپنے باپ ، جو اللہ کے پیغمبر تھے کے حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارا باپ بہک گیا ہے ۔ 

اب آپ بتائیں کہ کیا ہم اس بیان کی بُنیاد پر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ واقعی حضرت یعقوب علیہ سلام معاذ اللہ بہک گئے تھے ؟؟
کہنے کو تو یہ قرآن کی آیت ہی ہے اور کوئی کہہ سکتا ہے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ حضرت یعقوب ؑ ، بہک گئے تھے ۔کیا واقعی کو ئی ذی شعور ، منصف المزاج انسان ایسا کہہ سکتا ہے ؟؟ 

دوسری جگہ لکھا ہے ۔

فَلَمَّا رَأَىٰ قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ [١٢:٢٨]
جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا “یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑ ے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں [ابوالاعلی مودودی]

آیت بالا میں ، عزیز مصر کا ایک قول درج ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں ، اور یہ چالیں بڑے غضب کی ہوتی ہیں ۔ تو کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ عورتوں کی چالاکی کی حوالے سے یہ بیان ، بیان خداوندی ہے ؟؟ 
قرآن کا بیان ہے ؟؟ 
ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ 

آپ نے جو آیت مبارکہ پیش کی ہے ۔وہ کچھ اس طرح ہے ۔ 

حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًا ۗ قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا [١٨:٨٦]
حتیٰ کہ جب وہ غروب آفتاب کی حَد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں اُسے ایک قوم ملی ہم نے کہا “اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ اِن کے ساتھ نیک رویّہ اختیار کرے” [ابوالاعلی مودودی] 

چونکہ آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے جناب موددی علیہ رحمہ کا ترجمہ پیش کیا ہے ۔ 
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس ترجمہ میں کہاں پر ” کیچڑ ” کا لفظ استعمال ہوا ہے ؟؟ 

آیت مبارکہ میں ایک انسان ” ذوالقرنین” کی مہم کے حوالے سے کچھ بیانات ہیں ۔ 

تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ اس مہم کی ابتدا ، ذوالقرنین نے جہاں سے شروع کی تھی ، وہ علاقہ بحرہ اسود کا علاقہ تھا ۔ چنانچہ اس آیت مبارکہ میں ” ذوالقرنین ” کے حوالے سے بیان ہے ، کہ جب وہ بحرہ اسود کے کنارے پر پہنچا ، تو اس نے دیکھا کہ سورج سیاہ پانی میں غروب ہو رہا ہے ۔ 

ہم اکثر یہاں کراچی میں ، غروب آفتاب کے وقت بحیرہ عرب کے کنارے کھڑے ہو کر سورج کو غروب ہوتا دیکھتے ہیں ۔ 

عربی زبان کا کوئی بھی طالب علم جانتا ہے کہ لفظ” وَجَدَهَا ” فعل ماضی کا صیغہ ہے یعنی ” ذوالقرنین” نے ایسا دیکھا ۔ 

اب آپ بتائیں کہ کسی ایک انسان کے مشاہدے کو آپ کس طرح بطور قانون بیان کر سکتے ہیں جیسا کہ آپ نے لکھا ” سورہ کہف آیت 86 … اس آیت میں ہے کہ سورج کیچڑ میں غروب ہوتا ہے”؟؟؟؟؟

دنیا میں اربوں انسان مختلف معاملات میں مختلف مشاہدات سے گزرتے ہیں ۔ کسی انسان کا مشاہدہ ، قانون کس طرح کہلایا جا سکتا ہے ؟؟؟

آپ نے لکھا۔۔۔۔۔۔

جناب آپ صحیح فرمارہے ہیں ہم سب کو پتہ ہے کہ سورج غروب نہیں ہوتا …پھر بھی ہم اس لیے کہتے ہیں کہ یہ سب ہم اس وقت سے کہتے آرہے ہیں کہ جب انسان یہ سمجھتا تھا کہ سورج غروب ہوتا 
“”””””””””””””””””””””””””””””””””
میرے محترم بھائی !!!

ہم اردو زبان کے لوگ ہیں ، جب کہ قرآن کریم عربی زبان میں ہے ۔ لوگ قرآن کریم کے حوالے سے بغیر تحقیق نہ جانے کیا کچھ کہتے چلے جاتے ہیں ۔ 

چلیں ہم بھی جانیں کہ آپ کے خیال میں غروب کے کیا معنی ہوتے ہیں ؟؟؟

آپ نے لکھا ۔۔۔۔
…یہ تو جدید سائنس نے تصور دیا اور ثابت کیا کہ سورج غروب نہیں ہوتا ..قران اس وقت کا لکھا ہوا ہے جب ہنوز یہی سمجھاجاتا تھا کہ سورج غروب ہوتا ہے …قران کا بیان اس دور کے انسان کے شعور اور علم کی ترجمانی کررہا ہے
“””””””””””””””””””””””””””””””””
میرے بھائی !!!
یہ ہی تو افسوس ہے ۔ لوگ قرآن کریم کو سمجھے بغیر اس پر تبصرہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بلکل ٹھیک ہیں ۔ 

ساتویں صدی عیسوی میں جب آپ کی سائنس ، کبھی زمین کو ساکت قرار دے رہی تھی ، کبھی سورج کو ساکت قرار دے رہی تھی ، قرآن وہ حقیقت بیان کررہا تھا جو اُنیسویں صدی میں جا کر آج کی سائنس نے دریافت کیا ہے ۔ 

میں ان شاء اللہ ، پوری ذمہ داری اوردلیل سے اپنی بات ثابت کروں گا ۔ 

پہلے آپ مجھے بتائیں کہ آپ کے نزدیک ” غروب” کے کیا معنی ہوتے ہیں ؟؟؟

میرے محترم بھائی !!!

میں نہ تو کٹ حجتی کا قائل ہوں اور نہ ہی خود کو کوئی دانشور تصور کرتا ہوں ۔ ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں جو ہر لمحہ اپنی اصلاح کے لئے تیار رہتا ہوں۔ علم کہیں سے بھی ملے حاصل کرنے کی سعی کرتا ہوں ۔ 

آپ سے بھی کچھ سیکھنے کو مل جائے تو آپ کا بھی احسانمند رہوں گا ۔ 

امید کرتا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کو کچھ سکھا پائیں گے ۔ 
سلامت رہیں

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...