قرآن کا حق

حضرت مولانا سجاد صاحب نعمانی فرماتے ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ کچھ ﻧﺎﮔﺰﯾﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﻗﺖ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺩکھ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺩﻻﺳﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﺟﻮﮌ لونگا۔ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﻮﺭہ ﻣﺰﻣﻞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ سامنے ﺁﮔﺌﯽ :

ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻳُﻘَﺪِّﺭُ ﺍﻟﻠَّﻴﻞَ ﻭَﺍﻟﻨَّﻬﺎﺭَ ﻋَﻠِﻢَ ﺃَﻥ ﻟَﻦ ﺗُﺤﺼﻮﻩُ ﻓَﺘﺎﺏَ ﻋَﻠَﻴﻜُﻢ ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥِ ﻋَﻠِﻢَ ﺃَﻥ ﺳَﻴَﻜﻮﻥُ ﻣِﻨﻜُﻢ ﻣَﺮﺿﻰ ﻭَﺁﺧَﺮﻭﻥَ ﻳَﻀﺮِﺑﻮﻥَ ﻓِﻲ ﺍﻷَﺭﺽِ ﻳَﺒﺘَﻐﻮﻥَ ﻣِﻦ ﻓَﻀﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺁﺧَﺮﻭﻥَ ﻳُﻘﺎﺗِﻠﻮﻥَ ﻓﻲ ﺳَﺒﻴﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻨﻪُ:

ترجمہ: ﺍﻟﻠﮧ ﮨﯽ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭکھ ﺳﮑﺘﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﭘﺲ ﺟﺘﻨﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺗﻢ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﭘﮍھو۔ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ کچھ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﯾﺾ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ کچھ ﺭﺯﻕ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ کچھ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ ۔ ﭘﺲ ﺟﺘﻨﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺑﺂﺳﺎﻧﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ہے ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺎ ﮐﺮو۔ (73:20)

کس قدر ﭘﯿﺎﺭ ﺑﮭﺮﯼ ﻧﺪﺍ ﮨﮯ میرے ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ۔ ﮐﮧ اے ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ، روزی کی طلب(یعنی معیشت) ﺣﺘﯽ ﮐﮧ میری ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﺩ کرنا بھی ﻗﺮﺁﻥ پڑھنے ﺳﮯ ﻧﮧ ﺭﻭﮐﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮭﻮﮌﯼ سی محنت ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮐﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩیتا ہوں بس میری طرف متوجہ ہوجا۔

کتنا مہربان ہے میرا رب جس نے مجھے اتنی ﺳﮩﻮﻟﺖ دے رکھی ہے اگر میں پھر بھی قرآن کو نہیں پڑھتا تو صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہوں۔ کیونکہ میں قرآن پڑھونگا نہیں تو سمجھوں گا کیسے اور سمجھوں گا نہیں تو اسکے احکامات پر عمل کیسے کرونگا؟ یہ یاد رکھنا کہ قرآن کو اللہ نے ہم پر فرض کیا ہے۔

إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ

بے شک(اے پیغمبر) جس (اللہ) نے تم پر قرآن کو فرض کیا ہے(28:85)

میری آپ سے درخواست ہے کہ قرآن کو اپنی روزمرہ روٹین میں شامل کریں اور روزانہ کم از کم ایک رکوع تو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر لازمی پڑھیں۔ ورنہ جو لوگ قرآن نہیں پڑھتے وہ قرآن کا یہ فرمان بھی سن لیں!! جب قیامت کے دن نبی کریم ﷺ ان کی شکایت اللہ سے اس طرح فرمائیں گے۔

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا

اور پیغمبرﷺ کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا (25:30)

تو کوشش کریں کہ قرآن کو اپنی زندگی میں شامل رکھیں۔ ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻭ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﻮ اس آیت کو ﻧﮧ ﺑﮭﻮﻟﻨﺎ۔۔۔

ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥ ِ

*پس ﺟﺘﻨﺎ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ہوسکے اتنا قرآن ﭘﮍھ لیا کرو*۔

اللہ تعالیٰ ہم کو قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے والا بنادے اور اس پر عمل کرنے والا اسکو دوسرے لوگوں تک پہنچانے والا بنادے آمین۔

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...