قصص الانبیاء-(پوسٹ 5، 6) حضرت نوحؑ , تحریر کومل شہاب

آپکا نام و نسب یہ ہے نوح بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام۔ آپکا نام بعض جگہ “عبد الشکور اور عبد الغفار” اور ابنِ جوزی نے ابو سلیمان دمشقی کے حوالے سے “سکن” نقل کیا اور سب جگہ “نوح” آپکا لقب مانا گیا ہے۔ ‘نوح’ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی’رنجیدہ رہنے والے یا گریہ و زاری’ کرنے کے ہیں۔ چونکہ آپ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت زیادہ گریہ و زاری کرتے اسی لیے آپکا لقب ” نوح” پڑگیا۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان تیرہ صدیوں کا زمانہ تھا۔

ِ نوح علیہ السلام:

آپکی قوم کا نام “بنوراسب” تھا، یہ بُت پرست قوم تھی۔ ان کے پانچ مشہور بتوں کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔

“اور کہنے لگے اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔” (نوح: 23)

بنو راسب بت پرستی، مے خوری، گناہوں، کھیل تماشوں اور بے حیائیوں میں غرق رہتے تھے۔ نیز اللّٰہ کی نافرمانی اور ناراضگی کے تمام کام کرتے۔، لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے بندوں پر رحم کرتے ہوئے اور انہیں دوبارہ راہِ راست پر لانے کے لیے حضرت نوح علیہ السلام کو بھیجا۔

سب سے پہلی بت پرست قوم:

اللّٰہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو توحید کی دعوت کے ساتھ دنیا میں بھیجا اور انہوں نے اپنی نسل کو یہی تعلیم منتقل فرمائی۔ جو نسل در نسل چلتی رہی لیکن پھر آہستہ آہستہ لوگ دینِ حق کو ترک کر کے بتوں کی پرستش کرنے لگے۔ ابنِ حبان کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا؛ “یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے؟” فرمایا، “ہاں، اللّٰہ ان سے کلام کرتا تھا۔” اس نے پوچھا، ” ان کے اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا زمانہ ہے؟” فرمایا؛ “دس صدیاں جو سب کی سب اسلام پہ تھیں۔” اور اسلام بتاتا ہے کہ قوم ِنوح بت پرست تھی لہٰذا ثابت ہوا کہ بت پرستی کا ارتکاب کرنے والی وہ پہلی قوم تھی۔

قومِ نوح کے بُت کون تھے اور یہ بُت پرستی میں کیسے مبتلا ہوئے؟

بت پرستی کی ابتداء یکایک نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ لوگ عقیدہ توحید کو چھوڑ کر بتوں کو پوجنے لگے۔ دراصل اس کا تعلق انسان کی محسوسات سے بھی ہے۔
ود، سواع، یغوث وغیرہ اس قوم کے صالحین میں سے تھے، ان کی وفات کے بعد لوگ دکھی ہوتے،ان کو یاد کرتے، شیطان نے اس موقع سے فایدہ اٹھا کر لوگوں کو بہکایا اور ان کو اس چیز پہ اُکسایا کہ وہ رونے اور دکھی ہونےکے بجائے ان کی مورتیاں بنا لیں اس طرح وہ انہیں ہمیشہ یاد کر سکیں گے۔ اور آہستہ آہستہ لوگ اس بات کے قائل ہوتے گئے اور ایک وقت آیا کہ باقاعدہ بتوں کی پوجا میں مصروف ہوگئے۔

سورۂ نوح کی جو آیت پہلے ذکر کی گئی اس کی تفسیر میں حضرت ابنِ عباس لکھتے ہیں، “یہ قوم نوح کے صلحاء کے نام ہیں،جب یہ لوگ مرگئے تو ان کے بت کھڑے کر کے انہیں پوجا جانے لگا۔ اس قصے سے یہ بات ثابت ہے کہ بت پرستی کا اتباع صدیوں پر محیط ہے اور یہ سلسلہ دور ِ جاہلیت کا ہی شاخسانہ نہیں بلکہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی دیگر مذاھب کے لوگ بتوں کو پوجتے ہیں، ان سے دعائیں مانگتے ہیں۔ اور نہ صرف بتوں کو بلکہ اب تو قبروں کو بھی اس کا مرکز بنا لیا گیا ہے۔اور اسی قسم کی بہت سی خرافات ہماری زندگیوں میں سرایت کرتی جارہی ہیں، جو ہمیں با آسانی شرک کا مرتکب کرتی ہیں۔
سیّدہ عائشہ صدیقہ راویہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات فرمایا؛

“یہود ونصاریٰ پر اللّٰہ کی لعنت ہو،کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی قبروں کو مسجدیں بنا ڈالا۔”

ایک اور روایت ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں،

“اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا تو آپ اپنی قبر اونچی بنواتے مگر آپکو ڈر تھا کہ کہیں اسے مسجد نہ بنالیا جائے۔” (مسلم)

یہاں ثابت ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک سے بچنے کے تمام راستے بند کرواے لیکن افسوس آج کل ہم قبروں کی تعظیم و تکریم میں مصروف ہیں، ہم کیا کچھ نہیں کرتے قبروں پہ سجدے کرنا، نذر و نیاز ماننا، ان سے فریاد کرنا کیا یہ سب شرک کے زمرے میں نہیں آتا؟ یہ ہم صرف بتوں کے مجسمے نہ بنا کر اس شرک کے راستے سے بری الزمہ ہوجاتے ہیں؟

حضرت نوح علیہ السلام کی رسالت:

قومِ نوح کی حالت دیکھتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ انکی طرف ایک رسول بھیجا جائے جو ان کو راہ حق واضح کرے تاکہ کوئی حجت نہ رہے۔ یہ رسول حضرت نوح علیہ السلام تھے۔
یہاں یہ ذکر بھی کرتے چلیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی رسالت میں “اولیت” کی کیا سچائی ہے۔
حدیثِ رسالت میں آیا ہے کہ روزِ قیامت جب لوگ میدان حشر کی ہولناکی سے گھبرا کر بھاگیں گے تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس سفارش لائیں گے، “کہ آپ ساری انسانیت کے باپ ہیں ہماری مدد فرمائیں،” لیکن آدم علیہ السلام ان کو حضرت نوح علیہ السلام کے پاس بھیج دیں گے، پھر وہ ان کے آگے سفارش کریں گے “کہ اے نوح علیہ السلام! آپ زمین کی طرف بھیجے جانے والے پہلے رسول ہیں، ہماری سفارش کریں”۔ یہاں یہ صفت بیان کی گئی کے وہ پہلے رسول تھے، اس کہ علاوہ قرآن مجید میں بھی پیغمبروں میں سب سے پہلے انکا ذکر ملتا ہے۔ جیسا کہ؛

“اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے تم سے پہلے نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔اور ابراہیم اور اسمائیل اور اسحاق اور یعقوب اور آلِ یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی۔”
(النساء: 163)

اس کے علاوہ جہاں ایک کہ بعد دوسری قوم کا خلیفہ بنانے کا ذکر ہے وہاں بھی نمایاں ہے؛

“اور یاد کرو جب اس نے قوم ِنوح کے بعد تم کو سردار بنایا اور تمہیں پھیلاو زیادہ دیا۔”
(الانعام: 63)

ان آیات سے آپکا پہلے رسول ہونا واضح ہے،لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ سے پہلے کوئی پیغمبر نہ تھا، قرآن میں صاف مذکور ہے کہ ادریس علیہ السلام سچے نبی تھے، اور اس سے پہلے آدم علیہ السلام کی نبوت کا ذکر بھی کردیا گیا ہے۔

نوح علیہ السلام کی تعلیمات اور قوم نوح کی سرکشی:

آپ نے اپنی قوم کے ساتھ رسالت کا آغاز بڑی نرمی اور عمدہ نصیحت کے ساتھ کیا۔ فرمایا؛
“اے میری قوم کے لوگوں! اللّٰہ کی عبادت کرو، کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مجھے تمھارے بارے میں بڑے دن کے عذاب سے ڈر ہے۔” (الاعراف: 59)

آپ نے اپنی قوم کو بہت نصیحت کی اور راہِ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی، آپ نے آ سے وعدہ کیا کہ اگر تم توبہ کر کے نیکی کے راستے پر آجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمھیں بے شمار نعمتوں سے نوازے گا۔
آپ نے قوم کو اس بات پہ بھی اُبھارا کہ وہ کائنات پہ غور کریں تو ہر چیز اللہ کی وحدانیت کا ثبوت دیتی ہے۔ لیکن قوم گمراہی میں اس قدر غرق ہو چکی تھی کہ آپ کی دعوت پر غور کرنے کو راضی نہ تھی، البتہ ان کے بارے میں گمان کرتے کہ یہ کیسی نئ نئ باتیں بتاتے ہیں، ہمیں یہ سیدھے رستے پہ نہیں لگتے۔
“نوح کی قوم کے سردار کہنے لگے، ہم تمہیں صاف صاف گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں۔”
(الاعراف: 60)

الغرض وہ کسی بھی طرح آپ پر یقین کرنے کو تیار نہ تھے، اور الٹا آپ پہ مظالم کرتے، لیکن آپ ہر طرح کا تشدد سہ کہ بھی اللّٰہ کے سامنے گڑگڑا کر اپنی قوم کے لئے دعا کرتے کہ اے اللہ انھیں معاف کر دے، یہ جانتے نہیں۔
لیکن افسوس اس وعظ و نصیحت، شفقت و مہربانی کے نتیجے میں ان کی جہالت بڑھتی گئی اور کہنے لگے٬

“نوح اگر تم باز نہ آئے تو سنگسار کر دیے جاؤ گے۔” (الشعراء: 116)
اسی حالت میں آپ نے ساڑھے نو سو (950) سال قوم میں گزار دیے لیکن بہت کم لوگ آپ پر ایمان لائے، آخر ایک دن آپ نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا لیے،

“پروردگار! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا،اب تو میرے اور ان کے درمیان کھلا فیصلہ کردے، اور مجھے اور میرے ساتھ ایمان لانے والوں کو بچا لے۔”
(الشعراء: 117-118)

تو اللہ نے ان کو بتلا دیا کہ میں جلد ہی منہ موڑنے والوں کو ہلاک کرنے والا ہوں، اور آپ اللّٰہ کے حکم کے مطابق کشتی بنانے میں مصروف ہو گئے،لیکن یہ لوگ آپکا تمسخر کرتے۔ اور پھر آپ اللّٰہ کے حکم سے کشتی میں سوار ہو گئے۔

“یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا (یعنی ایک نر اور ایک مادہ) لے لو، اور جس کی نسبت حکم ہو چکا کہ ہلاک ہو جائے گا اسے چھوڑ دو اور اپنے گھر والوں میں سے جو ایمان لائے انہیں کشتی میں لے کر سوار ہو جاؤ.
(یہاں تنور سے مراد پانی کے لئے گئے ہیں کہ وہ ہر طرف سے جوش میں تھا)

“اور بہت کم ہی ہیں جو تمہارے ساتھ ہوں گے” (ھود: 40)

لہٰذا آپ اللّٰہ کے حکم کے مطابق کشتی میں سوار ہو گئے. پھر اللہ نے آسمان وزمین کو حکم دیا:
“پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیے اور زمین پر چشمے جاری کر دیئے، تو پانی جس کام کے لیے (یعنی قوم نوح کی تناہی) حکم ہو چکا تھا جمع ہوگیا۔” تو نجات پانے والے کشتی میں محفوظ رہے اور باقی سب غرق ہو گیے۔

اور آپنے اپنے بیٹے کو بھی پکارا لیکن وہ انکار کرنے والوں میں ہوا، اس نے پہاڑ پہ سہارا لیا کہ بچ جائے گا لیکن طوفان نے اُسے بھی غرق کردیا۔
“اتنے میں ان دونوں کے درمیان ایک لہر آئی اور وہ ڈوب گیا۔”
(ھود: 43)
اس طرح اللہ کی قدرت نے اہل ایمان کو نجات دی۔ اس کے آگے کی تفصیلات کے انکی کشتی کہاں اور کس دن ٹھہری، وغیرہ کے بارے میں جاننے کی زیادہ ضرورت نہیں۔اسلئے تفصیلات کا ذکر نہیں کر رہی۔

نوح علیہ السلام کی وفات:

آپ نے وفات سے پہلے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی، “کہ میں تمہیں دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں، 1. “لا الہ الااللہ” اور 2. “سبحان اللہ وبحمدہ” اور دو چیزوں سے روکتا ہوں، 1. شرک، 2. تکّبر۔ ان کو تھامے رکھنا۔

آپکی قبر کے متعلق متعدد اقوال ہیں کہ حرم شریف میں ہے، اور کچھ کا قول یہ ہے کہ آپکی قبر اس شہر میں ہے جسے آج کل “کرک نوح” کہتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

قصّہ نوح علیہ السلام میں سیکھنے کی باتیں:

1. شرک/بت پرستی سے بچنا:

شرک صرف بتوں کو پوجنے کا نام نہیں، ہمارے دلوں میں جو خواہشات کے بت ہیں، ہمارے اندر جو اللّٰہ اور اس کے رسول سے بڑھ کر دنیا کی چاھ ہے، اس سب سے بچنا ہے، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں سونپ دینا ہے۔اسی میں دونوں جہانوں کی بہتری ہے۔

2.گریہ و زاری کرنا:

اپنی خطاؤں پر اللّٰہ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر معافی مانگنا اور توبہ کرنا۔

3. تکبر سے بچنا:

بڑائی کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے، اسلئے کسی بھی انسان کو غرور و تکبر نہیں کرنا چاہیے، ورنہ تاریخ گواہ ہے وقت کے فرعونوں کا کیا انجام ہوا۔

4.نرمی اختیار کرنا/درگزر کرنا:

بظاہر آسان لیکن سب سے مشکل کام ہے، نوح علیہ السلام کی قوم نے ان پر کتنے مظالم ڈھائے لیکن وہ پھر بھی اللّٰہ سے ان کے لئے دعا کرتے رہے، ہم اپنے آپ پر غور کریں تو ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آج ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کسی کی چھوٹی سی بات برداشت نہیں کر سکتے، ہم سے کوئی دین کے حوالے سے سوال کرلے تو ہم اس کا مذاق بناتے ہیں۔ یہ غلط ہے،ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہے اور لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ہے یہی ہمارے انبیاء کرام کی تعلیم ہے اور یہی راہِ نجات۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے آمین۔

آخیر میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا، جو روزمرہ زندگی کی آزمائشوں اور مشکلات میں ہمارے لئے بہترین ہے۔

رَبّيِ أِنّي مَغلوبُٗ فاَنتَصِر۔

“اے میرے رب! مجھے سخت تکلیف آپہنچی ہے، اور تو رحم کرنے والا ہے مجھ پر رحم فرما۔”
(الانبیآء: 83).

(میری اصلاح،اپنی رائے اور سوالات کے لیے کمنٹ کریں، اور املا کی کوئی غلطی ہو تو اصلاح ضرور فرمائیں۔ شکریہ) دعاؤں کی طالب:

 

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...