قصص الانبیاء-(پوسٹ 7) حضرت ہودؑ ، تحریر کومل شہاب

حضرت هود علیح السلام
: عاد
بُرائی/گناہ:تکّبر اور سرکشی
عذاب: آندھی/تیز ہوا کا عذاب
ہود علیہ السلام کا نسبیہ ہے “ہود بن خالد بن ارفخشد بن سام بن نوح” طوفان نوح اور کفار کی ہلاکت کے بعد اولاد ِ نوح ہی بچی تھی، جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: “اور نوح کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہ باقی رہ گئے۔” (الصافات: 77) پھر آگے چل کر آپکی اولادوں میں سے بھی سرکشی پر اتر آئے، ان کی طرف اللّٰہ نے پیغمبر بھیجے لیکن ان کو جھٹلانے والے نیست و نابود ہو گئے۔ آگے چل کر ان میں سے دو لوگ زندہ بچے، دونوں ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے، ایک عاد اور دوسرا ثمود. عاد کا نسب یہ ہے ‘عاد بن عوز بن ارم بن سام بن نوح’۔ اسی کی نسل کو بعد میں’قوم عاد’ کہا گیا ہے۔ یہی وہ ‘عاد ِ اولٰی’ ہیں جنکی آبادیاں “شحر، عمان اور حضر موت” کے درمیان سر زمین احقاف میں واقع تھیں۔ اسی جگہ کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے. “اور قومِ عاد کے بھائی (ھود) کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمینِ احقاف میں ہدایت کی۔” (سورۂ الاحقاف: 21) یہ “عرب عاربی” میں سے تھے۔
طوفان کے بعد از سرِ نو بتوں کو پوجنے والی یہی سر کش قوم ہے۔انہوں نے اپنی عبادت کے لئے تین بُت بنا رکھے تھے” صد، صمود اور ھر”.
قرآن کریم میں صاف ظاہر ہے کہ یہ بڑی سرکش اور باغی و نافرمان قوم تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انکی ہدایت کے لیے ہود علیہ السلام کو بھیجا تھا۔ یہ مالدار تھے اور مرفہ الحال اور دولت مند تھے۔ انکی اسی معاشی و اقتصادی ترقی نے انکو سرکش بنا دیا تھا۔ نے انکو دین کی طرف بلانے کے لیے فرمایا: “بھلا تم ہر اونچی جگہ پر جو بیکار نشان تعمیر کرتے ہو اور محل بناتے ہو کہ شائد تم ہمیشہ رہو گے۔ اور جب کسی کو پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو، تو اللّہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اُن چیزوں سے مدد دی جن کو تم جانتے ہو۔ اس نے تمہیں چار پایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے۔ مجھ کو تمھارے بارے میں بڑے سخت دن کے عذاب کا خوف ہے۔” (الشعراء: 128-135)
آپ نے انہیں دین کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی، انہیں اللّٰہ کا پیغام پہنچایا،اور اس کے عذاب سے ڈرایا: “اور اے قوم! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو، پھر اس کے آگے توبہ کرو، وہ تم پہ موسلادھار مینہ برسائے گا۔ اور تمھاری طاقت پہ طاقت بڑھائے گا اور دیکھو گنہگار بن کر روگردانی نہ کرنا۔” (ھود: 52) لیکن ان پہ کوئی اثر نہیں ہوا،اور انکی سرکشی بڑھتی گئی۔اور وہ آپ کی دعوت پہ جھکنے کے بجائے آپ کی عداوت پر اتر آئے. “کہنے لگے، ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔ یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں، ہم پر کوئی عذاب نہیں آنے والا۔” (الشعراء: 36-38)
غرض انکی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ان پہ تین سال تک مینہ نہیں برسا اور وہ شدید پریشانی میں آگئے۔ اس وقت کا رواج تھا کوئی مشکل آتی تو بیت الّلہ کا واسطہ دے کر دعا کرتے۔ اس وقت بھی ان میں سے ایک وفد کو بیت اللّہ کے پاس دعا کے لئے بھیجا گیا،لیکن وہ وہاں بھی پہنچے سے پہلے ایک ماہ تک بیچ میں ٹھر گئے اور شراب نوشی اور دیگر خرافات میں مشغول ہوگئے۔ پھر ایک ماہ بعد قوم کا خیال آیا تو جاکر دعا کی، بس دعا کرنے کی دیر تھی کہ آسمان پر تین بادل نمودار ہوئے، سرخ، سفید اور سیاہ۔ اور ایک آواز آئی کہ اپنی قوم کے لئے ایک بادل لو۔ انہوں نے فوراً سیاہ بادل کا انتخاب کیا، چنانچہ سیاہ بادل ان پر چھا گیا، قوم خوش ہوگئ کہ دیکھو کیسی دعا قبول ہوئی، لیکن ھود علیہ السلام نے فرمایا”یہ وہی عذاب ہے جسکی تم جلدی کیا کرتے تھے” چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے بادلوں سے ہوائیں چلیں جس نے انہیں نیست و نابود کر دیا بس ھود علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے محفوظ رہے۔ “اور ان پر یہ ہوائیں سات دن اور آٹھ راتیں چلتی رہیں جس نے سب کو ہلاک کر ڈالا۔”
الحاقہ: ھود علیہ السلام اس کے کچھ سالوں بعد جوارِ رحمت سے جا ملے۔
آپ کی قبر مبارک: اس کے بارے میں دو اقوال ہیں
1. حضر موت کے علاقے شحر میں ہے۔
2.مکہ میں ہے۔ جبکہ بعض نے دمشق بھی بتایا ہے۔
پہلی روایت کے بارے میں زیادہ تائید کی گئی ہے۔ “عامر بن وائل کہتے ہیں کہ حضرت علی رضہ کہ وہ حضر موت کے ایک آدمی سے کہہ رہے تھے، “کیا تم نے حضر موت کی سر زمین میں فلاں جگہ ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہے، جو سرخ ریت اور سرخ مٹی والا ہے اور وہاں پیلو آور بیری کے درخت ہیں؟” اس نے کہا، “امیر المومنین آپ تو اس جگہ کا حال ایسے بیان کر رہے ہیں جیسے آپ نے دیکھ رکھی ہے؟” آپ نے فرمایا “میں نے دیکھی نہیں لیکن لوگوں نے مجھے اس جگہ کا حال بیان کیا ہے۔” اس نے کہا، “آپ اس جگہ کے بارے میں اتنا پوچھ رہے ہیں (اسکا کیا معاملہ ہے؟)” فرمایا: “اس جگہ اللّٰہ کے پیغمبر حضرت ھود علیہ السلام کی قبر ہے۔” (تفسیر ِ طبری)
قصّہ ھود علیہ السلام سے سیکھنے کی باتیں:
1. سرکشی اور تکّبر سے بچنا: تاریخ گواہ ہے کہ اللّٰہ کے راستے سے روگردانی اور سرکشی کرنے والوں کا انجام ہمیشہ بُرا ہوا ہے۔ 2.آخرت کو یاد رکھنا: جیسے قوم ِ عاد نے اللّٰہ کو اور روزِ آخرت کو بھلا دیا تھا اور زمین میں اپنے بڑے بڑے گھروں میں ایسے بستے تھے جیسے کبھی انکو موت نہیں آنی۔ آج ہمارا بھی یہی حال ہے ہم دنیا کی رنگینیوں میں اور ظاہری شان و شوکت میں اس قدر گم ہوگئے ہیں ک اپنی اصل منزل کو بھلا بیٹھے ہیں۔
3. بڑائی صرف اللّہ کے لئے ہے: بھلے ہم دنیا میں کتنی ہی ترقی کر لیں یا کتنے بھی بڑے آدمی بن جائیں،ہم ہر چیز کے لئے اللّٰہ کے محتاج ہیں، لحاظہ خود کو بڑا سمجھنا یا یہ سوچنا کہ ہمارے پاس ہر چیز کا علم اور اختیار ہے،صرف اور صرف رب سے روگردانی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ان تمام فتنوں سے بچتے ہوئےصحیح دین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

 

(میری اصلاح،اپنی رائے اور سوالات کے لیے کمنٹ کریں، اور املا کی کوئی غلطی ہو تو اصلاح ضرور فرمائیں۔ شکریہ)

دعاؤں کی طالب: