قصہ تخلیق آدم پر شیخ ابن عربی کی تفسیر کا خلاصہ۔ خلاصہ زاہد مغل

قصہ تخلیق آدم پر شیخ ابن عربی کی اس تفسیر سے بہتر کوئی تفسیر میں نے آج تک نہیں پڑھی جو فتوحات مکیہ میں درج ہے

قصہ تخلیق آدم کے وقت اللہ اور فرشتوں کے مابین جو گفتگو قرآن مجید میں ذکر ہوئی اس پر مجھے ابتداء سے تین سوالات رہے ہیں:
1) جب فرشتوں نے یہ کہا “نسبح و نقدس” (یعنی ھم آپ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں) تو یہ آدم کس لئے، یہ تو فساد کرے گا (نہ کہ تسبیح و تقدیس)؟ اللہ نے کہا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے (اعلم مالا تعلمون)۔
2) پھر اللہ نے آدم کو تمام “اسماء” سکھائے اور فرشتوں سے کہا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو (ان کنتم صدقین) تو ان اسماء کے نام بتاؤ اور فرشتے اس میں ناکام رہے (لا علم لنا الا ما علمتنا)۔ یہاں تین سوالات ہیں:
(الف) ایک یہ کہ کیا فرشتوں کے ساتھ کوئی چیٹنگ کی گئی کہ انہیں یہ اسماء سکھائے بغیر ہی ان سے پوچھ لئے گئے؟
(ب) دوسرا یہ کہ نام نہ بتا سکنے سے فرشتوں کا دعوی (نسبح و نقدس لک) کیسے غلط ہوا؟
(ج) آیت میں “اسماء” سے کیا مراد ہے؟

ان سوالات کو حل کرنے کے لئے اردو زبان میں تفاسیر لکھنے والے مختلف علمائے کرام نے مختلف انداز اختیار کئے ہیں۔ مثلا کسی نے کہا کہ اللہ نے آدم کو ہر چھوٹی بڑی شے کے نام سکھائے (پیر کرم شاہ اور علامہ غلام رسول سعیدی)، یہ اشیاء کو نام دے سکنے کی صلاحیت تھی (مولانا مودودی)، آدم کی ذریت کے نام تھے (مولانا اصلاحی)، مادی کائنات میں جو کچھ ہونے والا تھا اس کا علم بالقوۃ (potential) انسان کے اندر رکھ دیا گیا (ڈاکٹر اسرار احمد) وغیرہ۔ چنانچہ ہر مفسر نے ان تعبیرات کی رو سے فرشتوں کے ظاہری اشکال پر گفتگو کی ہے کہ اس سے وہ کیونکر غلط ثابت ہوا۔ بعض مفسرین اس مقام پر گفتگو کو اس طرف لے جاتے ہیں کہ آدم کو عبادت یا تسبیح و تقدیس کے لئے پیدا نہیں کیا گیا تھا بلکہ خلافت ارضی کے لئے پیدا کیا گیا تھا وغیرہ۔ لیکن اس سے فرشتوں کا اعتراض کیسے رفع ہوا جس پر اللہ نے کہا تھا “ان کنتم صدقین”؟ نیز کیا فرشتوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ اے اللہ ہم تیرے سب اسماء جانتے ہیں کہ اسماء نہ بتانے سے ان کا دعوی غلط ثابت ہوگیا؟

اگر ان جوابات کو تسلی بخش سمجھ بھی لیا جائے تو پھر بھی تیسرا سوال باقی رہ جاتا ہے:
3) گفتگو کے آخر میں کہی گئی اس بات کا کیا مطلب تھا: “انی اعلم ما تبدون وما کنتم تکتمون” یعنی میں جانتا ہوں اسے بھی جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپا رے تھے؟ کیا فرشتوں نے اپنے اشکال میں جان بوجھ کر کوئی بات چھپائی تھی کہ اللہ نے انہیں یہ جتلایا؟ اکثریت مفسرین نے اس آیت اور سوال سے تعرض ہی نہیں کیا، وہ یونہی آگے بڑھ گئے ہیں (گویا یہ دیگر مقامات کی طرح اللہ کی وسعت علمی کا عمومی بیان ہو)۔ مولانا اصلاحی اور مفتی احمد یار خان نعیمی کے یہاں اس پر گفتگو ملتی ہے۔

اب اس پس منطر کو سامنے رکھیں اور اس مکالمے پر شیخ ابن عربی کی گفتگو کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں اور دیکھئے کس نے اس مکالمے کو بہتر سمجھایا ہے۔ آیات کے مطالعے سے قبل شیخ کا یہ بنیادی مقدمہ ذھن نشین رہے کہ کائنات اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی تجلیات کا مظہر ہے، صرف انسان ایسی مخلوق ہے جس پر اللہ کی تمام صفات کی تجلی پڑی ہے، باقی سب موجودات ناقص ہیں (اسی لئے وہ انسان کو کائنات اکبر کہتے ہیں)۔
– فرشتوں نے جب کہا اے اللہ ہم آپ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں تو آدم کیوں، کیا ہماری تسبیح ناقص ہے؟ پھر اللہ نے آدم پر تمام اسماء کی تجلی ڈالی، یوں وہ ایسی صفات (عدل کرنے والا، رحم کرنے والا، تواب، جواد وغیرہ وغیرہ) سے متصف ہوگئے جن سے فرشتے محروم تھے (یوں سمجھئے کہ فرشتوں کے سامنے ان سے کئی گناہ زیادہ اکمل مخلوق آن کھڑی ہوئی)
– اب فرشتوں سے کہا گیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو (کہ میری جو بڑائی تم بیان کرتے ہو آدم وہ نہیں کرسکے گا) تو ان اسماء کے نام بتاؤ؟ فرشتے عاجر آگئے اور پکار اٹھے: “لا علم لنا الا ما علمتنا”۔ پھر آدم نے وہ اسماء ظاہر کردئیے جن کی تجلی ان پر پڑی تھی (یہ گویا خدا کے تمام اسماء کا شعور رکھنے والی مخلوق کی تسبیح و تقدیس تھی جس سے فرشتے محروم تھے اور ان پر ظاہر ہوگیا کہ وہ آدم کی طرح اللہ کی بڑائی بیان کرنے والے نہیں)۔ یہی آدم کی خلعت خلافت کی وجہ تھی کہ وہ اس کائنات میں اللہ کی ایسی بڑائی بیان کرے گا اور ایسی عبادت کرے گا جو کوئی دوسری مخلوق نہیں کرسکتی۔
– آیت کے آخر میں جو فرشتوں سے کہا گیا کہ “انی اعلم ماتبدون وما کنتم تکتمون” تو یہاں فرشتوں سے یہ کہا گیا کہ میں جانتا ہوں کہ اپنے وجودی اعتبار سے تم میرے کن اسماء کو ظاہر کرنے والے ہو اور کسے چھپانے والے تھے۔

سچی بات یہ ہے کہ میں عرصے تک ان سوالات کی وجہ سے ان آیات پر کسی تفسیر کے داخلی نظم سے مطمئن نہیں ہوپاتا تھا یہاں تک کہ شیخ کی کتاب پڑھتے ہوئے چند سطروں میں یہ حل ہوگئے۔ شیخ “خدا اور کائنات کے تعلق” سے متعلق اپنے مخصوص نظام فکر میں جب ایسی آیات پر گفتگو کرتے ہیں جن میں کائنات کے ابدی حقائق بیان ہوئے ہیں تو ایسے موتی نکال لاتے ہیں جہاں تک متکلم، فقیہہ، انقلابی، داعی الغرض کسی کی نظر نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے اکثر مقامات پر ان کی طویل تفاسیر یا تو خاموش ہوتی ہیں اور یا مفسرین سرسری بات کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں جبکہ شیخ ان پر ڈیرے ڈالتے ہیں۔

اب ذرا یہ بھی نوٹ کیجئے کہ شیخ کے نظرئیے کی رو سے انسان کا کیا مقام ہے اور ڈارون ازم انسان کو کیا بنا رہی ہے۔

You might also like More from author

تبصرے

Loading...