مشتاق احمد یوسفی، ڈاکٹر یونس بٹ اور سرقہ از حافظ حامد محمود

خیالات خلا میں پیدا نہیں ھوتے انہیں پروان چڑھانے کے لیے معاشرے کی ضرورت ھوتی ھے، مطالعہ کی اور بصیرت کی بھی!! یہ آمیزش نئے جہانِ رنگ و بُو پیدا کرتی ھے۔ لیکن جب معاشرے کا ایک فرد کسی دوسرے کے خیالات کو من و عن اپنے نام سے مشتہر کر دے تو چوری کہلاتا ھے۔ ادب کی زبان میں “سرقہ”!!
ڈاکٹر یونس بٹ نے جہاں لطیف مزاحیہ ادب میں جگت بازی کی بنیاد رکھی وھاں انہیں خیالات چرانے میں بھی مہارت حاصل ھوئی۔ ڈاکٹر یونس بٹ اس بات کا اظہار بلا واسطہ یوں کرتے ھیں:
“اب آپ کو کیا بتائیں، جس سیانے کی بات یاد رھتی ھے، اس کا نام یاد نہیں رھتا، جس کا نام یاد رھتا ھے، اس کی بات یاد نہیں رھتی۔” (ڈاکٹر یونس بٹ۔ کلاہ بازیاں)
حافظہ کی خرابی جب عادت میں ڈھل میں جائے تو ایسا ادب تخلیق ھوتا ھے جو صنفِ مزاح کو “جگتوں” کے زمرے میں شامل کر دیتا ھے۔
مشتاق احمد یوسفی مزاح کے اس درجہ پر ھیں جہاں ناقدینِ فن کو یہ کہنا پڑا کہ “ھم اردو مزاح کے “عہدِ یوسفی” میں جی رھے ھیں۔” اردو مزاح کے اس لیجنڈ کے اثرات اپنے معاشرے پر ھمہ گیر ھونا ھی تھے لیکن ڈاکٹر یونس بٹ نے مشتاق احمد یوسفی کے اثرات کسی اور نہج سے وصول کیے۔ ذیل میں مشتاق احمد یوسفی اور ڈاکٹر یونس بٹ کے چند جملے پیش کیے جاتے ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ (یاد رھے کہ پوسٹ کی طوالت کی بنا پر فقط چند جملوں پر اکتفا کیا جائے گا ورنہ ایسے جملے قریب قریب ڈیڑھ سے دو سو تک ھیں۔)
مشتاق احمد یوسفی: “میں نے اپنے بیوی کی پسند کی شادی کی۔” (زرگزشت)
ڈاکٹر یونس بٹ: “سب کام خاوند کی مرضی سے کرتی ھے، اس نے شادی بھی خاوند کی مرضی سے کی۔” (شناخت پریڈ)
مشتاق احمد یوسفی: “پیشانی اور سَر کی حدِ فاصل اُڑ چکی ھے، لہٰذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔” (چراغ تلے)
ڈاکٹر یونس بٹ: “سر اور منہ نے حد بندی ختم کر رکھی ھے، اس لیے پتہ نہیں چلتا کہ منہ کہاں ختم ھوا اور سر کہاں سے شروع ھو گیا۔” (شناخت پریڈ)
مشتاق احمد یوسفی: “ایسی گرم جوشی سے ملے کہ انہیں خدشہ ھونے لگا کہ ھم قرض نہ مانگ بیٹھیں۔” (خام بدھن)
ڈاکٹر یونس بٹ: “ایک ھی ملاقات میں اس قدر بے تکلف ھو جاتا ھے کہ دوسرا گھبرانے لگتا ھے کہ کہیں قرض ھی نہ مانگ بیٹھے۔” (شناخت پریڈ)
مشتاق احمد یوسفی: “ڈزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاھتا ھے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ھوں۔” (چراغ تلے)
ڈاکٹر یونس بٹ: جب اپنی پسند کا کالم پڑھنا چاھے، کاغذ قلم لے کر بیٹھ جاتا ھے۔” (شناخت پریڈ)
مشتاق احمد یوسفی: “ھماری صورت میں کوئی ایسی بات ضرور ھے کہ ھر شخص کا بے اختیار نصیحت کرنے کو جی چاھتا ھے۔” (خام بدھن)
ڈاکٹر یونس بٹ: “صورت ایسی بنائے رکھتی ھے کہ بے اختیار نصیحت کرنے کو جی چاھتا ھے۔” (شناخت پریڈ)
مشتاق احمد یوسفی: “وہ وصل کی اس طور پر فرمائش کرتا ھے، گویا کوئی بچہ ٹافی مانگ رھا ھو۔” خاکم بدھن)
ڈاکٹر یونس بٹ: “ھیرو سے اظہارِ محبت کر رھی ھو تو لگتا ھے اس سے ٹافیاں مانگ رھی ھے۔” (شناخت پریڈ)
مشتاق احمد یوسفی: “مستقل اپنی ھی صحبت نے ان کو خراب کر دیا۔” (چراغ تلے)
ڈاکٹر یونس بٹ: “یوں وہ اپنی ھی صحبت میں رہ کر خراب ھو گئے۔” (شناخت پریڈ)
مشتاق احمد یوسفی: “خود دیباچہ لکھنے میں وھی سہولت اور فائدے مضمر ھیں جو خودکشی میں ھوتے ھیں یعنی تاریخِ وفات، آلۂ قتل اور موقعۂ واردات کا انتخاب صاحبِ معاملہ خود کرتا ھے۔” (خاکم بدھن)
ڈاکٹر یونس بٹ: “خودکشی کرنے میں اگر کوئی خرابی ھے تو وہ یہ کہ سب کچھ خود کرنا پڑتا ھے۔” (شیطانیاں)
مشتاق احمد یوسفی: “یہ واحد جرم ھے جس کی سزا صرف اس صورت میں ملتی ھے کہ ملزم ارتکابِ جرم میں کامیاب نہ ھو۔” (خاکم بدھن)
ڈاکٹر یونس بٹ: ” یہ واحد جرم ھے جس کی صرف اس کو سزا ملتی ھے جو ناکام ھو جائے۔” ( شیطانیاں)
مشتاق احمد یوسفی: “آدمی ایک دفعہ پروفیسر ھو جائے تو عمر بھر پروفیسر ھی کہلاتا ھے خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ھی کیوں نہ کرنے لگے۔” (خاکم بدھن)
ڈاکٹر یونس بٹ: “وکیل چاھے وکالت چھوڑ دے اور سچ بولنے لگے پھر بھی لوگ اسے وکیل ھی کہتے ھیں۔” (شیطانیاں)
مشتاق احمد یوسفی: “مرد پہلے بحث کرتے ھیں، پھر لڑتے ھیں، عورتیں پہلے لڑتی ھیں اور بعد میں بحث کرتی ھیں۔” (چراغ تلے)
ڈاکٹر یونس بٹ: مرد لڑنے سے پہلے وجہ ڈھونڈتے ھیں اور عرتیں لڑنے کے بعد۔” (شیطانیاں)
مشتاق احمد یوسفی نے ڈاکٹر یونس بٹ کی انہی کارستانیوں کی بدولت کہا تھا:
“میں یونس بٹ کو یہ مشورہ دینا چاھوں گا کہ وہ مجھے کم پڑھا کریں، اگر مجھے پڑھنا ضروری ھے تو مجھے quote نہ کیا کریں اور اگر مجھے quote کرنا بھی ضروری ھے تو خدارا واوین میں کیا کریں اور اگر میرے جملے بڑھ جائیں تو اپنے واوین میں کر لیا کریں اس طرح کم از کم ان کے جملے میرے کھاتے میں تو نہیں پڑھیں گے۔” (طارق حبیب۔ یوسفیات)
انگریزی ادب کے معروف نقاد جانسن نے کہا تھا:
“This book is both goo and original. But unfortunately where it is good, it is not .
original and where it is original, it is not good.”
گماں ھوتا ھے کہ آنے والا دور ڈاکٹر یونس بٹ کے بارے میں بھی یہی الفاظ دھرانے پر مجبور نہ ھو گا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــ

 

You might also like More from author

تبصرے

Loading...