مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ سے کیا مراد ہے؟ تحریر محمد نعیم خان

سورہ المائدہ کی آیت 112 میں ہمیں مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ کا زکر ملتا ہے۔ زیادہ تر مفسرین نے اس کو حقیقی معنوں میں لیا ہے۔ کچھ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ خوان آسمان سے نازل ہوا تھا اور کچھ اس بات کو مانتے ہیں کہ اللہ کے ڈرانے پر حوارین اس بات سے دستبردار ہوگئے تھے۔ 
میرے نزدیک یہ غلطی اس وجہ سے ہوئ کہ مفسرین نے حواریوں کے الفاظوں کو حقیقی معنوں میں لیا۔ اگر ایسا کوئ خوان نازل ہوا ہوتا تو اس کا زکر بائیبل میں ضرور ملتا یا پھر عیسایوں اور یہودیوں کی تاریخ میں اس کا زکر تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچتا لیکن ایسا کوئ واقعہ ہمیں کہیں نہیں ملتا ۔ حتی کہ کسی حدیث میں بھی ہمیں ایسے واقعہ کی کوئ جھلک دکھائ نہیں دیتی۔ 
اب اگر آپ بائیبل کا مطالعہ کریں تو وہاں آپ کو حضرت عیسی اور ان کے حواریوں کے درمیان بات چیت تمثیلی انداز میں ملے گی۔ بائیبل کے اوراق پلٹتے جائیں آپ کو حضرت عیسی اور ان کے حواریوں کے درمیان یہی انداز کلام ملے گا۔
یہ بات تو قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ انبیا کرام کی بعثت معاشرہ میں اللہ کا نظام قائم کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اس کے لئے وہ معاشرے میں اپنی دعوت پیش کرتے ہیں اور پھر جو لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ان کو اپنے ساتھ ملا کر اور ان کی تربیت کر کے ایک جماعت کی تشکیل کرتے ہیں۔ پھر یہ جماعت سب سے پہلے اپنے اندر اس نظام کو قائم کرتی ہے اور پھر اس کی جدوجہد اس کو پورے معاشرے میں قائم کرنے کی ہوتی ہے۔ وہ ان لوگوں کو جو اس کی دعوت کو دل سے تسلیم کرنے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے قوانین پر عمل کرنے کا لازمی نتیجہ رزق کریم کا حصول ہے۔ اس ہی کا زکر اللہ نے سورہ المائد کی آیت 66 میں کیا ہے :

وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ۚمِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ ﴿٦٦﴾ 
کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں ایسا کرتے تو اِن کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا اگرچہ اِن میں کچھ لوگ راست رو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے(66)

یہ بات اہل کتاب کو بیان کر جارہی ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تو اس بات کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ آسمان سے رزق برستا اورنیچے سے ابلتا۔ ہر طرف سے اللہ کی تعمتوں کا حصول ہوتا لیکن ان قوانین سے سرکشی کا لازمی نتیجہ ذلت و رسوائ کا عذاب ہے۔ اس کو اللہ ایک اور مثال سے قرآن میں سورہ النحل کی آیت 112 میں بیان کرتا ہے:

وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ﴿١١٢﴾ 
اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں (112)

اللہ کے قوانین سے سرکشی اور اس کی نعمتوں کا کفران کا لازمی نتیجہ بھوک اور خوف کا عذاب ہے۔ 
بلکل اس ہی طرح ان حواریوں نے بھی حضرت عیسی سے اس رزق کریم کے متعلق سوال کیا تھا۔ یہاں مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ سے حواریوں کی مراد اس ہی رزق کریم کا حصول ہے ۔ اس ہی معاشرہ کی خواہش ہے جہاں سب کو ان کے حقوق ان کی ضروریات مساوی انداز میں ملیں ۔ یہاں یہ بات بھی کافی غور طلب ہے کہ سورہ المائدہ کی آیت 111 میں یہ حوارین حضرت عیسی پر ایمان لاتے ہیں اور یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اللہ کے اختیار میں سب کچھ ہے لیکن پھر ان کا یہ کہنا کہ کیا تیرا رب اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ آسمان سے خوان نازل کرے گا کسی صورت بھی اس بات کو قابل قبول نہیں بناتا۔ جبکہ ان حواریوں کے ایمان کا زکر ہمیں سورہ آل عمران کی آیت 52 میں ملتا ہے :

فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّـهِ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿٥٢﴾ 
جب عیسیٰؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا “کون اللہ کی راہ میں میرا مدد گار ہوتا ہے؟” حواریوں نے جواب دیا، “ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے، گواہ رہو کہ ہم مسلم (اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے والے) ہیں (52)

وہ یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے اختیار سے باہر کوی بات نہیں ۔ میرے نزدیک یہ غلط فہمی سورہ المائدہ کی آیت 112 میں لفظ يَسْتَطِيعُ کے معنی طاقت کے لینے کی وجہ سے پیدا ہوئ۔ اس کے معنی طاقت، استعطاعت ، فرمانبرداری ، اطاعت کے بھی ہیں لیکن اس کا ایک معنی قبول کرنے یا کسی کی بات مان لینے کے بھی ہیں۔ یہ لفظ ان معنوں میں سورہ مومن (جسے سورہ غافر بھی کہتے ہیں ) کی آیت 18 میں ملتا ہے۔ اس لئے حواریوں کا یہ سوال اس کے متعلق تھا کہ کیا تیرا رب ہماری اس عرض کو قبول فرمائے گا کہ رزق کریم کا نظام قائم ہوجائے۔ جس کے جواب میں حضرت عیسی نے جواب دیا کہ تم اللہ کے قوانین کی باسداری کرتے رہو اس لئے کہ تم مومن ہو جس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ اس کے قوانین پر عمل کرنے والوں کے لئے نعمتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں اور زمین سے ابلتی ہیں ۔ پھر آگے کی آیات بھی اس بات کو کھولتی ہیں کہ حواریوں کی خواہش کیا تھی اور پھر حضرت عیسی نے بھی اس کی دعا کی ۔ حضرت عیسی کی دعا کے یہ الفاظ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ اس بات کو بلکل واضع کردیتے ہیں کہ حواریوں کے مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ کے متعلق سوال سے مراد اس ہی رزق کریم کی درخواست تھی۔ 
یہ سوال ظاہر ہے کہ ان حواریوں نے اپنے دل کے اطمینان کے لئے کیا تھا۔ جس طرح کا ایمان ایک وقت کے نبی کا ہوتا ہے ویسا ظاہر ہے کہ اس کے حواریوں کا نہیں ہوسکتا اس لئے اگر آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو سورہ الانفال میں اللہ جماعت مومنین کو اس بات کی خبر دیتا ہے کہ ان کی مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہے تو یہ بات بتانے کی غرض اللہ نے اس سورہ کی آیت 10 میں بیان فرمائ ہے:

وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿١٠﴾ 
یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتا دی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں، ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، یقیناً اللہ زبردست اور دانا ہے (10)

اس بات کو بتانے کی غرض مومنین کے دلوں کو اطمینان دلانا تھا۔ بلکل اس ہی طرح حواریوں کی عرض دل کا اطمینان تھا تاکہ وہ اس نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرکے اس بات کی تصدیق کریں جو حضرت عیسی نے ان سے کہی تھی اور وہ خود اس کے شاہد بھی ہوں ۔ اس دعا کے جواب میں اللہ نے اپنے قانون کا ذکر کیا کہ کفر کرنے والے کو بہرحال اللہ کے قانون ہی کے تحت پھر عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ بات بھی یاد رکھیے کہ یہ دعا صرف حضرت عیسی نے نہیں کہ بلکہ ہر نبی یہی دعا مانگتا رہا ہے اس میں سے ایک دعا جو حضرت ابراہیم نے کی تھی اس کا زکر ہمیں قرآن میں ملتا ہے:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴿١٢٦﴾ 
اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی: “اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے” جواب میں اس کے رب نے فرمایا: “اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تومیں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے” (126)

یہ وہی دعا ہے اور وہی اللہ کا جواب ہے جو اس نے اپنے ہر نبی کو دیا کہ اللہ کے قوانین پر عمل رزق کریم کا حصول اور اس سے سرکشی بھوک اور خوف کا عذاب ۔ 
یہ میرا فہم ہے جو قرآن کے مطالعہ سے میں نے سمجھا۔ آپ کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں ۔ یقینن اس میں غلطی کا امکان ہوگا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمین قرآن پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...