وحی خفی

وحی خفی !
ــــــــــــــــــــــــــــ
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ 
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ 
عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ 
۔ مَیں آپ کو وہ آیات بعد میں پیش کروں گا جن میں قرآن کے علاوہ نبی علیہ سلام پر وحی نازل ہونے کی نفی ہوتی ہے ۔ پہلے سورۃ النجم کی آیات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۔ الھوٰی سے مُراد انسان کی ہر خواہش نہیں ہے ۔ اس سے مُراد وہ خواہشات جو وحی کے مقابل انسان کو گُمراہ کرتی ہیں ۔ جو آیات پیش کی گئی اُن میں الھوٰی کے مقابل یُوحٰی آیا ہے ۔ الھوٰی کی وضاحت کے لئے درج ذیل آیات ملاحظہ فرمائیں
۔ ۷۹:۴۰ ۔ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ 
۴۱ : فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ 
۔ مندرجہ بالا آیات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو تمام خواہشات سے روکے گا وہ جنّت میں جائے گا ۔ اس کا مطلب ہے وہ خواہشات جو وحی کے مقابل انسان کو گُمراہ کرتی ہیں۔ مزید وضاحت کے لئے درج ذیل آیت ملاحظہ فرمائیں
۔ ۳۸:۲۶ ۔ يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ 
۔ اس آیت میں الْهَوَىٰ کی پیروی سے داؤد علیہ سلام کو منع کیا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہاں الھوٰی سے مُراد ہر خواہش نہیں ۔ بلکہ الْهَوَىٰ سے مُراد وہ خواہش یا خواہشات ہیں جو انسان کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیتی ہیں۔ 
اس لئے رسول کا نطق الھوٰی کے مقابل وحی کے ذریعے ہوتا ہے جس کا تعلق عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ سے ہے۔جس کی وضاحت درج ذیل آیات سے بھی ہو جاتی ہے
۔ ۴۵:۲۳ ۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ 
۔ ۲:۱۲۰ ۔ وَلَنْ تَرْضَىٰ عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
120: اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو اللہ( کے عذاب) سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار ۔

۔ مندجہ بالا آیات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ الھوٰی سے مُراد وہ خواہشات ہیں جو وحی کے مخالف ہیں اور انسان کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیتی ہیں ۔ 
۔ اگر نبی کی ہر بات وحی کے تابع ہوتی تو نوح علیہ سلام اپنے بیٹے کے لئے اللہ سے فریاد نہ کرتے اور یونس علیہ سلام اپنی قوم کو چھوڑ کر نہ جاتے۔

۔ چند آیات پیشِ خدمت ہیں جن سے نبی علیہ سلام پر قُرآن کے علاوہ وحی نازل ہونے کی نفی ہوتی ہے
۔ ۱۷:۷۳،۷۴،۷۵ ۔ وَإِنْ كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ ۖ وَإِذًا لَاتَّخَذُوكَ خَلِيلًا
73: اور اے پیغمبر جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے علاوہ ہماری طرف منسُوب کر دو ۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے
74: وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا
74: اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے
75: إِذًا لَأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا
75: اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا مزا چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے ۔
۔ مندرجہ بالا آیات میں قُرآن کے علاوہ اللہ کی طرف وحی منسُوب کرنے پر نبی علیہ سلام کو دُنیا اور آخرت میں دُگنا عذاب ملنے کی وارننگ دی گئی ہے
۔ ۵:۱۰۱ ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ
101: مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) اللہ نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے 
۔ اگر قُرآن کے علاوہ وحی نازل ہو رہی ہوتی تو سوالوں کے جواب دینے کے لئے قُرآن کے نازل ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔
۔ ۲:۱۵۹ ۔ إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ
159: یقینًا جو لوگ چُھپاتے ہیں جو ہم نے الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ میں سے نازل کیا ہے اس کے بعد کہ ہم نے اسے انسانیت کے لئے الکتاب کے اندر ہی واضح کر دیا ہے ۔ ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں ۔

۔ جیسے بنی اسرائیل کو اللہ تعالٰی نے الکتاب کا وارث بنایا تھا ایسے ہی اس اُمّت کو الکتاب کا وارث بنایا
۔ ۴۰:۵۳ ۔ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْهُدَىٰ وَأَوْرَثْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ
53: اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا 
۔ ۳۵:۳۱،۳۲ ۔ وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ
31: اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے۔ اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بےشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے
32: ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ
32: پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھیرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں۔ اور کچھ اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے ۔

منقول

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...