گھر کے سراب از قاری حنیف ڈار

شادی کے بعد اور پھر خاص طور پر بچوں کی پیدائش کے بعد میاں بیوی یہ گمان کرتے ھیں کہ اب چونکہ دونوں کے پتے ایک دوسرے کے سامنے شو ھو چکے ھیں ، لہذا اب ایک دوسرے سے جھوٹ بول کر کیوں اپنا منہ کالا کرے کہ ” آپ بہت اچھے ھیں ” آپ مجھے بہت اچھے لگتے ھیں ” بھئ اگر اچھا نہ بھی لگوں تو تم کر کیا سکتی ھو ؟ اس لئے میں اب اچھا لگنے والا کوئی کام کرتا ھی نہیں ھوں ، نہ ھی میں اب تمہاری کسی فیور یا نظرِ کرم کا محتاج ھوں ، اپنی ضرورت زور زبردستی اور مار کٹائی سے بھی پوری کر سکتا ھوں ،،، چنانچہ اچھا بچہ لگنے کے لئے وہ ساری کاوش گھر کے باھر منتقل کر دیتا ھے ، وہ شادی بیاہ کی تقریبات میں سانس بھی سوچ سمجھ کر لیتا ھے ، لفظ تول تول کر نہیں بلکہ درھم دینار کی طرح دانتوں سے پکڑ کر خرچ کرتا ھے ،، سوری ،ایکسکیوز می ، پارڈن ،وغیرہ کو جھاڑ پونچ کر نکالتا ھے ،، دوسروں کے سامنے بیوی کو : ھنی ” ڈارلنگ ، سویٹ ھارٹ ، تک کہہ جاتا ھے ، بچوں کو بیٹا جی ،، میرا چاند کہہ کر بلاتا ھے اور برادری عش عش کر اٹھتی ھے اس عورت کے نصیب پر جسے اتنا مھذب ،نفیس شوھر میسر ھے –

مگر بیوی بچوں کو پتہ ھے کہ وہ آدھے پون گھنٹے کا ایک سہانا خواب دیکھ رھے ھیں ،، ابھی آنکھ کھلے گی اور وھی بد تہذیب ، گنوار انسان چھلانگ مار کے باھر نکل آئے گا ، جو کھوتے دیا پترا اور الو کے پٹھے کے سوا بات نہیں کرتا ، بیوی کو ماں بہن میں سے گندی گالیاں دیتا ھے ،، اور پھر گِلہ کرتا ھے کہ ” تُو مینوں پیار نہیں کردی ” پیار پیزا نہیں ھے جو ڈیمانڈ پہ فری سپلائی کیا جاتا ھے ، پیار ایک چشمے کا نام ھے جو ایک انسان کے اندر سے پھوٹتا ھے اور کسی وجہ سے پھوٹتا ھے ،، اللہ پاک انسان پر اپنے احسانات اسی چشمے کو پھاڑنے کے لئے بیان کرتا ھے ،، کیا ھم کوئی ایسی نیکی ، کوئی ایسی صفت بیان کر سکتے ھیں کہ جس کی وجہ سے بیوی کے اندر سے وہ چشمہ ھمارے لئے پھوٹے ،، یاد رکھیں نکاح نامے کے نام پہ لکھا گیا کاغذ کا ٹکڑا صرف قانون کا پیٹ بھرتا ھے تا کہ کل عدالت میں اپنے اپنے حقوق کو کلیم کیا جا سکے ،، اگر محبت چاھیئے تو محبت کے چشمے کو جاری کرنے کا سامان کرو ،، اپنی ھستی کی تمام خوبیوں کو نکال کر اس کے سامنے سجا دو ،، وہ اس کی امانت ھیں اس کے حوالے کرو ،، نہ کہ اپنی ھستی کا سارا گند نکال کر اس کے منہ پہ مارو اور پھر اس سے تقاضہ کرو کہ وہ تمہیں محبت بھی دے ،دل انسان کے بس میں نہیں ھوتا نہ اپنے دھڑکنے میں اور نہ اپنی سوچ میں ، وہ آزاد پنچھی ھے انسان کو مجبور کیا جا سکتا ھے ، جبر سے اس کی زبان پہ تالے لگائے جا سکتے ھیں مگر دل اپنی سوچ پہ کوئی قدغن برداشت نہیں کرتا ،
کسی کے دل میں جگہ بنانا اور کسی کو اپنی بیوی بنانا دو الگ قسم کے فعل ھیں ، بیوی ھارڈ ویئر سے ھارڈ ویئر کے تعلق کا نام ھے مگر محبت دل سے دل کا انٹرایکشن ھے ،، میں اپنے ایک دوست کے گھر گیا تو ان کے ڈرائنگ روم میں سی پی یو دیکھا ،، پوچھا کمپیوٹر ھے ؟ شرما کر کہنے لگے کہ بیٹے نے اس میں سے پرزے نکال کر کبوتر رکھے ھوئے ھیں – بس کچھ لوگ یہی کچھ کرتے ھیں ،، بظاھر ان کے گھر میں ایک خوبصورت عورت ھوتی ھے مگر اس عورت میں سے عورت پن نکال کر کبوتروں کی کھمبیل بنا رکھی ھوتی ھے ، انسان کی ازدواجی زندگی کی عمر جوں جوں بڑھتی ھے دونوں فریق محبت کے زیادہ ضرورتمند ھوتے ھیں ، مگر بظاھر محبت سے بے نیاز نظر آتے ھیں -شوھر یہ سننا چاھتا ھے کہ بیوی اس کی تعریف کرے کہ وہ بہت سارے شوھروں سے اچھا ھے ، نتیجے میں وہ مزید اچھا بننے کی کوشش کرتا ھے ،مگر بیوی بھی ما شاء اللہ ایک ایک سہیلی کا بندہ چن کر بیٹھی ھوتی ھے کہ فلاں کا شوھر تو یہ بھی کر کے دیتا ھے ،، فلاں کے شوھر نے تو صحن دھونا اور برتن دھونا تو پکا پکا اپنے ذمے لے رکھا ھے ، فلاں کا شوھر تو فلاں فلاں کام کرتا ھے ،،، آخر مجبور ھو کر شوھر کو کہنا پڑتا ھے کہ کیوں نہ آپ کو فارغ کر دیا جائے تا کہ آپ بھی جا کر اس فلاں شوھر کی خدمات حاصل کر سکیں ،

پہلی تو یہ بات کہ یہ خواتین ایک دوسرے سے جھوٹ بھی بہت بولتی ھیں ، جس طرح کپڑے اور زیور کے معاملے میں جھوٹ بولتی ھیں ،شوھروں کے بارے میں بھی جھوٹ بولتی ھیں ،، تا کہ ناک لمبی ھو ،، اور وہ پاگل عورت یہ سب سن کر اپنے شوھر سے ڈو مور کا مطالبہ کرتی ھے اور پھر پچھتاتی ھے – دوسرا وہ عورتیں اس کو کبھی نہیں بتاتیں کہ ان کا شوھر پھینٹی بھی دوا کی طرح صبح ، دوپہر ،شام لگاتا ھے، یاد رکھیں خواتین جو کچھ اپنی زبان اور کجی ادائی سے کھو دیتی ہیں وہ وظیفوں سے کبھی حاصل نہیں کر سکتیں ، پریم گرنتھ سے طاقتور آج تک کوئی منتر دریافت نہیں کیا جا سکا ـ جبکہ ذرا ذرا سی بات میکے پہنچا دینے اور والدین کو انوالو کر لینے والی کو والدین صرف طلاق دلا سکتے ہیں چاہے وہ صدر مملکت کی بیٹی ھو یا کسی جج کی ـ دوسری طرف چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو انوالو کر لینے والے شوھر کا گھر ہمیشہ باری کے بخار یعنی ٹائیفائڈ کا شکار رہتا ھے ـ پیار سزا نہیں جو عدالت میں سنائی جا سکے ،، حسن سلوک کوئی جینٹاسین نہیں جو فارمیسی سے خرید کر استعمال کر لیا جائے ـ اپنے اندر کی زمین سے یہ چشمے جاری کرو اور اپنے گھر کو جنت بنا لو ـ

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...