ہاروت و ماروت کا قصہ تحریر محمد نعیم خان

ہاروت و ماروت کا قصہ
تحریر محمد نعیم خان
(پی ڈی ایف فائل لنک)

ہاروت اور ماروت کا قصہ ہمیں سورہ البقرہ کی آیت 102 میں ملتا ہے ۔ آج اس آیت پر غور کریں گے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آیت کچھ یوں ہے۔

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚوَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿102﴾

اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیا طین، سلیمانؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمانؑ نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیتے تھے وہ پیچھے پڑے اُس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ “دیکھ، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو” پھر بھی یہ لوگ اُن سے وہ چیز سیکھتے تھے، جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ظاہر تھا کہ اذنِ الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے، مگراس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان د ہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا۔(102)

 اس آیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

1۔وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ 

اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیا طین، سلیمانؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے

اب سوال یہ ہے کہ شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر کیا پیش کیا کرتے تھے؟ ایسی کیا چیز تھی جس کوآگے اس ہی آیت میں اللہ نے کفر سے تعبیر کیا ہے۔

 جب انسان کا بھروسہ اللہ سے اٹھ جائے اور اس کی کتاب کو انسان پس پشت ڈال دے اور اس کی ہدایات پر عمل نہ کرے تو پھر وہ تعویز، گنڈوں اور دوسرے شیطانی کاموں میں پناہ ڈھونڈتا ہے اور اس کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی ہوجاتی ہے۔

اس آیت کے ٹکڑے میں اس ہی بات کا ذکر ہے  یہاں ان یہود کے گروہ کا تذکرہ ہے جس نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا تھا اور پھر ایسی باتوں کے پیچھے پڑ گئے تھے۔

وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّـهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿101﴾

اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی، تو اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں(101)

یہاں سے آگے بڑھنے سے پہلے تھوڑا سا تعویز، گنڈوں کی تاریخ پر نظر ڈال لی جائے۔

تعویذ کو اردو میں تعویذ (گنڈا)جبکہ عربی میں حرز کہتے ہیں۔ لفظ تعویذ اعوذ سے مشتق ہے ۔جس کے معنیٰ :پناہ: کے ہیں ۔جیسے: اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم :تعویذ اس کا اسم مبالغہ ہے لہذا اسکے معنیٰ : پناہ دینے والے: کے ہیں۔

 تعویذ عام طور پر اس مقدس تحریر یا نقش کو کہتے ہیں جو مستقبل میں کسی امید کے (پیدائش اولاد،بیماری سے صحت یابی،کسی مقصد میں کامیابی،پیار و محبت ،میاں بیوی کے درمیان محبت و علیٰحدگی،روزگار میں فراوانی،معاشی ابتری وغیرہ)بر آنے یا کسی خطرے سے تحفظ کے لیے جسم کے کسی حصے یا بچوں اور بڑوں کے گلوں ،بازوؤں یا زیر ناف کی صورت میں لٹکایا جاتا ہے۔یا کسی مکان،باڑہ،درخت کی جڑ یا بوسیدہ قبر میں دفن کرتے ہیں جس کو تعویذ کا نام دیا جاتا ہے۔جبکہ کالے،لال،پیلے دھاگے کو گنڈا کہا جاتا ہے۔گنڈا تحفظ،تبرک اور تمنا کے لئے بازوؤں ،ہاتھوں کی کلائیوں میں گرہ لگا کر باندھا جاتا ہے۔

تعویذ کا رواج عموماً دور جاہلیت خصوصاً بت پرست اقوام میں قدیم ترین زمانے سے چلا آرہا ہے لیکن یقینی طور پر اسکی ابتداء کی صحیح طور پر کوئی تاریخ متعین نہیں کی جا سکتی ہے۔ یہودی تعویذتیار کرنے والوں کو ابتداء میں ربانی،ربی اور امام کے نام سے پکارتے تھے ۔لیکن بعد میں ان کے لئے ایک خاص نام وضع کیا گیا جو عبرانی زبان کے دو حروف کا مرکب تھا پہلا لفظ : من:جس کے معنی عبرانی زبان میں:تعویذ:کے ہیں اور دوسرا لفظ:لا: جس کے معنی: بیچنے والا:کے ہیں۔چنانچہ ایسا امام جو توریت و زبور کی آیات کو اعداد میں تبدیل کرنے کا ماہر ہوتا ہے اس کوایک مخصوص نام :من لا: سے پکارا جاتا تھا ۔ 

 اللہ پر ایمان لانے والا اور اس کی کتاب کا مطالعہ کرنے والا یہ بات تو اچھی طرح جانتا ہے کہ نفع اور نقصان اس ہی کے ہاتھ میں ہے۔ جو بھی مصیبت یا آزمائش ایک انسان پر آتی ہے وہ اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آتی۔ یہ سب اللہ نے اپنے نوشتہ میں لکھ رکھا ہے۔ لیکن شیطان نے احباروھبان(پیرومولویوں)کے ذریعے عوام الناس کو یہ باور کروایا کہ وہ تعویذ گنڈوں پر اعتقاد کریں،اس سے ان کی تقدیر بدل جائے گی۔گودیں ہری ہو جائیں گی،مرادیں بر آئیں گی ،مقدمہ میں جیت ہو جائے گی۔غرض ہر وہ چیز جس کا ایمان اوربھروسہ اللہ کی ذات مقدسہ پر ہونا چاہے تھا ۔ اس سے عوام الناس کو پھیر دیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ کفر ہے اور ایسا کفر اللہ کا نبی یا رسول تو ہر گز نہیں کرسکتا۔ اس ہی کا ذکر اس آیت کے دوسرے ٹکڑے میں کیا ہے۔

2۔وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُو

حالانکہ سلیمانؑ نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے

دیکھیں کتنے آسان لفظوں میں اللہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ جو شیطان، سلیمان کا نام لے کراسم اعظم اور نقش سلیمانی وغیرہ لوگوں میں پیش کرتے تھے وہ کفر کے مرتکب ہوتے تھے اور سلیمان نے ایسا کفر ہر گز نہیں کیا تھا۔ بلکہ ایسی باتوں کو مقبول عام بنانے کے لئے ان شیطانوں کو کسی ایسی ہستی کی ضرورت ہوتی ہے جس کا نام سن کر لوگ ان کی باتوں کا یقین کرلیں ۔ ایسی سند کی ضرورت ہوتی ہے جس کا انکار ناممکن ہو اور اللہ کے رسول و نبی سے بڑھ کر سند اور کیا ہوسکتی ہے۔ یہ شیاطین سلیمان کا نام لے کر اس کو پیش کیا کرتے تھے اور یہودی اس کی پیروی کرنے لگے۔ یہودیوں کا سارا مذہب ہی سحرو ساحری اور ان کے معبد اس قسم کی کرشمہ سازیوں کی آماہ جگاہیں تھیں۔ پھرآگے ان کی ایک اور کفرانہ عمل کا  ذکر ہے۔

3۔يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ 

جو لوگوں کو السِّحْرَ کی تعلیم دیتے تھے

السحر کو سمجھ لیں ۔ یہ میں پہلے بھی بہت مرتبہ بیان کر چکا ہوں کہ اس کے بنیادی معنی موڑنے اور پھیرنے کے ہیں ۔ صاحب محیط نے کہا ہے کہ اس کا مطلب باطل کو حقیقت کے روپ میں پیش کرنا ہے۔

 کسی چیز کو اس کی اصل حقیقت سے غیر حقیقت کی طرف پھیر دینے کو السحر کہتے ہیں ۔ صاحب تاج العروس نے کہا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کا ماخذ لطیف و دقیق ہو۔ پھر یہ لفظ عام دھوکے کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔

 السحر کا مطلب جادو بھی اس ہی وجہ سے ہے کہ جادو میں جو چیز نظر آرہی ہوتی ہے وہ حقیقت میں ایسی نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف نظر کا دھوکہ ہوتا ہے۔ اس ہی لئے ساحرین فرعون نے لوگوں کی آنکھوں پر سحر طاری کردیا تھا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ۔

 پھر ہر رسول کی قوم نے اپنے رسول کو ساحر کہہ کر پکارا ہے کیوں کہ ان کی باتیں لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور دل کو موہ لیتی تھیں ۔

یہ شیاطین لوگوں کو ان باتوں کی ترغیب دیتے تھے اور ان کو اللہ پر پھروسہ کے بجائے ان جنتری منتریوں کے پیچھے لگاتے تھے اور باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ بناتے تھے۔

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿42﴾ 

باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو(42)

اللہ نے ان باتوں کی تردید کی ہے کہ یہ السحر اللہ نے اپنے فرشتوں کے ذریعے سے اپنے کسی نبی کے اوپر نہیں اتارا تھا۔ اس ہی کا ذکر اس آیت کے اگلے حصے میں ہے۔

4۔وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ 

اور وہ بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر نہیں اتارا گیا اور نہ وہ دونوں کسی کو سکھاتے تھے یہاں تک کہ کہتے کہ ہم تو صرف فتنہ ہیں پس کافر نہ بن۔

آیت کے اس حصے میں ”ما“ اسم موصول نہیں بلکہ حرف نفی ہے۔ یہاں اس بات کی اللہ نفی فرما رہا ہے کہ نہ تو ان دونوں پر کوئی ایسی چیز اتری جو یہ شیاطین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور جب ایسی کوئی چیز ہی نہیں اتری تو پھر یہ بات بھی ان فرشتوں سے کیسے منسوب کی جا سکتی ہے کہ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے جاتے اور ساتھ میں یہ بھی کہتے کہ ہم فتنہ ہیں پس کافر نہ ہوجانا۔

کچھ مثالیں “ما” حرف نفی کی قرآن سے:

1۔ایک مثال تو سورہ البقرہ کی آیت 16 ہے

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿16﴾ سورہ البقرہ

  1. فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ (حرف نفی)
  2. وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ (حرف نفی)

2۔دوسری سورہ النساء کی آیت 157 ہے

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿157﴾

  1. وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ (حرف نفی)
  2. وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا (حرف نفی)

3۔تیسری مثال سورہ البقرہ کی آیت 145 ہے

وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ ﴿145﴾ سورہ البقرہ

  1. مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ (حرف نفی)
  2. وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ (حرف نفی)
  • وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ (حرف نفی)

ہاروت و ماروت کا قصہ بنانے والوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ فرشتے اوندھے منہ بابل کے کنوئیں میں لٹکے ہوئے تھے اور لوگوں کو جادو سکھاتے تھے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں اس لئے ہم سے جادو سیکھ کر کافر نہ بن جاؤ۔

اللہ نے اس بے سرو پا قصہ کی نفی کی ہے اور یہی کہا ہے کہ جب وہ کچھ سکھاتے ہی نہیں تھے تو پھر ان سے ایسی بات منسوب کیسے کی جا سکتی ہے۔ اللہ نے خود جادو سیکھنے سکھانے کو شیاطین کا عمل قرار دیا ہے۔ پھر غور طلب بات یہ ہے کہ فرشتے اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتے۔ ان کو جو حکم ملتا ہے وہ اس حکم کو بجا لاتے ہیں ۔ اس کو اللہ اپنے کلام میں بیان کیا ہے۔

وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ﴿49﴾ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩﴿50﴾

 زمین اور آسمانوں میں جس قدر جان دار مخلوقات ہیں اور جتنے ملائکہ ہیں سب اللہ کے آگے سر بسجود ہیں وہ ہرگز سرکشی نہیں کرتے(49)
اپنے رب سے جو اُن کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی کے مطابق کام کرتے ہیں(50)(سورہ النحل)

یہ تمام باتیں لوگوں کا اعتقاد اللہ سے ہٹا کر ان تعویز، اسم اعظم ، نقش سلیمانی وغیرہ کی طرف پھیرنا ہے تاکہ لوگوں کو دین سے دور کیا جا سکے۔ کیوں کہ شیطان نے اللہ سے فرمایا تھا کہ:

وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ ۔۔۔۔

میں انہیں بہکاؤں گا، میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ۔۔۔۔(سورہ النساء آیت 119)

اب ان آرزوؤں کی ایک لمبی فہرست ہے اور ہرآرزو کے لئے ایک تعویز: 

گودیں ہری ہو جائیں اس کا ایک تعویز ،

مرادیں بر آئیں اس کا الگ تعویز

کسی کو اللہ نے بیٹیاں  دیں توبیٹا پیدا ہو تو اس کا الگ تعویز 

اولاد کو فرمابردار بنانے والا تعویذ۔

 اور پھر اولاد کے لیے بھی تعویذ بنایا گیا ہے کہ جس سے والدین اولاد کی بات مانیں گے۔

شوہر کے لیے تعویذ کہ اس کی بیوی اس کی تابیدار رہے۔

اور بیوی کے لیے تعویذ کہ اس کا شوہر اس کا تابیدار بن کر رہے۔

 اور شریکوں کے لیے بھی تعویذ موجود ہے جس سے شوہر اور بیوی میں ناراضگی پیدا کی جائے۔

اگر کسی کو کینسر ہے تو بھی تعویذ حاضر ہے۔

 یعنی دنیا کی کوئی بھی بیماری ہو آپ کو یہ تعویذ ساز اس کا تعویذ ضرور بناکر دیں گے۔

مقدمہ میں جیت ہو جائے اس کا ایک تعویز وغیرہ۔

 جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے کہ یہ تمام باتیں اللہ اورفرشتوں سے منسوب کر کے لوگوں میں بیان کرنا تاکہ لوگوں کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ بات حق ہے اور اس میں کوئ جھوٹ نہیں ۔

 جبکہ یہ بات بلکل واضح ہے کہ اللہ نے کسی فرشتے کو زمین پر رسول بنا کر نہیں بھیجا جو لوگوں میں گھل مل کر ان کو ہدایت دیں یا ان کو جادو سکھائیں جبکہ اللہ یہ بات بیان کر چکا ہے کہ جادو دھوکہ ہے اور اللہ سے ایسی بات کو منسوب کرنا کہ وہ لوگوں کو ناحق سکھائے ، دھوکہ کی باتیں بنائے ۔ اللہ ناحق کا خکم نہیں دیتا بلکہ وہ تو حق بیان کرتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کفار پر تو اس بات کا الزام لگائے کہ وہ لوگوں کو باطل کی، دھوکے کی تعلیم دیتے ہیں اور خود اپنے فرشتوں کے ذریعے سے اس کی تعلیم دے۔ دیکھیں اللہ کیسے ان کفار کو جواب دیتا ہے جب وہ اللہ کے رسولوں سے یہ سوال کرتے تھے کہ اللہ نے اپنے پیغام کو پہنچانے کے لئے کسی فرشتے کو کیوں نہیں چنا اور ان ہی جیسا ایک انسان چن لیا۔ اللہ فرماتا ہے:

قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا ﴿95﴾

اِن سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے(95)

اس لئے یہ کہنا کہ فرشتے زمین پر لوگوں کو السحر کی تعلیم دیتے رہے بلکل غیر قرانی عقیدہ ہے۔ اس کی وجہ اس آیت میں ”ما“ کو اسم موصول لینے سے یہ غلطی ہوئی اگر اس میں اس کو حرف نفی کے معنوں میں لیں تو بات بلکل واضح اور صاف ہوجاتی ہے۔ یہاں اللہ ان شیاطین کی ان تمام باتوں کی نفی کر رہا ہے جو وہ اللہ اور اس کے فرشتوں سے منسوب کر کے پیش کیا کرتے تھے۔

5۔فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ 

سو وہ ان دونوں (ذریعوں) سے باتین سیکھتے ہیں  جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں

اس میں ”مِنْهُمَا“ کی ضمیر ان دونون ذریعوں کی طرف جاتی ہے یعنی ایک وہ کفر کی باتیں جو وہ سلیمان کی طرف منسوب کر کے بیان کیا کرتے تھے حلانکہ سلیمان کا ان سے کوئی تعلق نہیں اور دوسرا وہ سحر جس کا نازل کرنا بابل میں ہاروت اور ماروت پر بیان کیا جاتا ہے اور پھر اس آیت کے حصے نے یہ واضح کردیا کہ ان ذریعوں سے وہ کیا سیکھتے تھے ۔

 اب جن میاں بیوی کا اعتقاد کمزور ہو ان میں جدائی کا سبب ہی یہ بنتا ہے کہ جب کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان میں سے کسی نے دوسرے پر تعویز کروایا ہوا ہے جبکہ اللہ نے آگے اپنے کلام میں یہ بات بیان کی ہے کہ کوئی مصیبت کوئی آزمایش اس کے اذن کے بغیر نہیں آسکتی۔

6۔وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚوَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿102﴾

ظاہر تھا کہ اذنِ الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے، مگراس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان د ہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا۔(102)

 اس آیت میں کوئ ابہام نہیں ۔ آیت اپنے مطلب میں بلکل واضح ہے۔ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی مصیبت نہیں آتی اس کو اللہ نے اپنے کلام میں بیان کیا ہے۔

مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗوَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿11﴾

کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اذن ہی سے آتی ہے جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو اللہ اس کے دل کو ہدآیت بخشتا ہے، اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے(11) سورہ تغابن

پھر اس سے اگلی ہی آیت میں یہ بات بیان کردی کہ اگر وہ ایمان لاتے اور اللہ کا تقوی اختیار کرتے تو اللہ کے پاس اس کا اجر پاتے ۔ 
وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ خَيْرٌ ۖلَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿103﴾

اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے، تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا، وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا، کاش اُنہیں خبر ہوتی(103)

اللہ مسلمانوں کو ان تعویز، گنڈوں ، جادو سیکھنے سکھانے جیسے عمل سے دور رکھے اور ہم سب کا بھروسہ اور اعتقاد اللہ کی ذات پر مضبوط کرے ۔آمین

ختم شد

٭٭٭٭٭

You might also like More from author

تبصرے

Loading...