تلفظ از رشید حسن خان

تلفظ
از رشید حسن خان

املا اور انشا دونوں کا تعلق لکھنے سے ہے۔ یہ ٹھیک ہے؛ مگر جو کچھ لکھا گیا ہے، اسے پڑھا بھی جائے گا، یوں تلفظ بھی اس عمل کا ضروری حصہ بن جاتا ہے۔ جس طرح غلط املا پر اعتراض کیا جائے گا، اسی طرح غلط تلفظ پر بھی ٹوکا جائے گا۔ لفظوں کا صحیح تلفظ نہ معلوم ہو تو بار بار شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔ سبق پڑھنے یا پڑھانے کے دوران کسی لفظ کو صحیح طور پر نہیں پڑھا، تو درجے میں سب کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا۔ کوئی مضمون پڑھ کر سنایا اور کسی ایک لفظ کا تلفظ بھی غلط ہو گیا تو بڑی رسوائی ہوگی۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ اچھے طالب علم لفظوں کو صحیح طور پر ادا کریں گے۔ ہم اپنے صحیح لکھے ہوئے کو غلط کر کے پڑھیں، یہ کوئی اچھی بات نہیں۔
مثال کے طور پر ایک لفظ "گذشتہ” کو لیجیے۔ اسے "گزشتہ” لکھا گیا تو یہ املا کی غلطی ہوگی۔ لکھا تو صحیح طور پر "گذشتہ” (ذال کے ساتھ) لیکن جب پڑھنے کھڑے ہوئے تو "گذشتہ” (ذال کے نیچے زیر)، یہاں لکھاوٹ صحیح رہی، تلفظ غلط ہوگیا۔ اس لفظ کا صحیح تلفظ "گُذَشتہ” ہے(گاف پر پیش، ذال پر زبر)۔ کاغذ پر لفظ صحیح طور پر لکھا ہوا ہے، مگر وہ کاغذ تو آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے، سننے والے تو آپ کی زبان سے غلط تلفظ سن رہے ہیں۔
لفظ کا صحیح املا معلوم ہو، یہ ضروری ہے۔ یہ بھی اسی قدر ضروری ہے کہ اس لفظ کا صحیح تلفظ بھی معلوم ہو۔ سبق پڑھتے ہوئے اگر "تَوَ جِّہ” کیا گیا تو ٹوکا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ "تَوَ جُّہ” کہنا چاہیے۔ عُلما، اُدبا، طَلبہ کہا جائے ، تب بھی ٹوکا جائے گا۔ یوں کہ ان کا صحیح تلفظ ُعلَما، اُدَبا اور طَلَبہ ہے۔
زیادہ مشکل ان لفظوں میں پیش آتی ہے جن میں تلفظ کی تبدیلی سے معنی بدل جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ "مجاز” کو لیجیے۔ اسے "مَجا ز” (میم کے زبر کے ساتھ) پڑھا جائے تو یہ حقیقت کا متضاد ہوگا۔ اقبال کے اس شعر میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے:
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
اب اس جملے کو دیکھیے: "ہم نے ان کو مجاز کردیا ہے کہ وہ ہماری طرف سے یہ کام کریں گے”۔ اس جملے میں بھی "مجاز” آیا ہے، مگر یہاں یہ دوسرے لفظ کے طور پر آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں: اجازت رکھنے ولا، جس کو اجازت دی گئی ہو۔ اگر اس جملے میں "مَجاز” پڑھا جائے گا تو مفہوم خبط ہوجائے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ "مَجا ز” اور "مُجا ز” دو الگ الگ لفظ ہیں۔ املا ایک ہے، تلفظ مختلف ہے اور اسی نسبت سے معنی بھی الگ الگ ہیں۔
"شہید” کی جمع "شُہَد ا” ہے (شین پر پیش، ہ پر زبر)، جیسے شہداے کربلا۔ ایک اور لفظ ہے "شُہد ا” (شین پر پیش ، ہ ساکن)۔ یہ آوارہ ، بدکردار جیسے مفہوم میں آتا ہے (پہلے اس کے کچھ اور معنی تھے)۔ اگر "شُہَد ا” کو "شُہد ا” کہا جائے تو مفہوم پر کیا گذر جائے گی؟
"فاضِل” کی جمع "فُضَلا” ہے (ف پر پیش، ض پر زبر)۔ ایک اور لفظ ہے "فُضلہ” (جیسے، سارا فضلہ خارج ہوگیا)۔ املا مختلف ہے، تلفظ ایک ہے۔ "فُضَلا” کو اگر "فُضلا” پڑھا جائے گا تو پھر یہ لفظ تلفظ میں آ کر "فضلہ” بن جائے گا۔ آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ یہ کچھ اچھی بات نہیں ہوگی۔
ہم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ صحیح تلفظ مَرَض یا مَر ض، حَلَق ہے یا حَلق، عَرَ ق ہے یا عَر ق، عِطر ہے کہ عِطَر، وَرَق ہے کہ وَرق (وغیرہ)۔ جب ہم مَرَ ض، وَرَق، عَرَ ق، حَلق، عِطر کہیں گے، تب سمجھا جائے گا کہ ہمیں ان لفظوں کا تلفظ معلوم ہے۔
ایک لفظ ہے "شادی مرگ”۔ اصل میں "مرگِ شادی” تھا۔ اضافت مقلوب نے اسے "شادی مرگ ” بنا دیا ۔ اسے "شادیِ مرگ” کہا جائے تو تلفظ غلط ہوجائے گا ٭۔ یا جیسے”پس منظر” کو "پسِ منظر” کہا جائے، تب بھی یہی کہا جائے گا کہ تلفظ غلط ہوگیا۔ یا جیسے "سرورق” اور "سرِ ورق” ، دو مختلف لفظ ہیں۔ دونوں کے معنی الگ الگ ہیں۔ مثلاً یہ کہا جائے کہ اس کتاب کا سرِ ورق خوب صورت ہے، تو مفہوم بگڑ جائے گا۔ یہاں "سرورق” کہنا چاہیے تھا (اضافت کے بغیر)۔ ان لفظوں کو یہاں محض بہ طور مثال لکھا گیا ہے۔ ان کی مفصل بحث اسی کتاب کے دوسرے حصے میں "اضافت کا زیر” کے عنوان کے تحت ملے گی۔
مرزا غالب کا مشہور شعر ہے:
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
"تیز رَو” (رے پر زبر) کے معنی ہیں: تیز چلنے ولا۔ فارسی کا ایک مصدر ہے "رفتن”، اس کے معنی ہیں: چلنا۔ "رفتار” اسی سے بنا ہے۔ اسی سے "رَو” بنا ہے اور اسی "رَو” سے "تیز رَو” بنا ہے۔
فارسی میں ایک اور مصدر ہے”روئیدن”۔ اس کے معنی ہیں: اُگنا۔ "روئیدگی” اسی سے بنا ہے۔ اس مصدر سے فعل امر”رُو” بنتا ہے۔ اس سے ایک اسم فاعل "خود رُو” بنا ہے۔ اس کے معنی ہیں: اپنے آپ اُگ آنے والا؛
لالۂ خود رُو نہیں ہے خون نے فرہاد کے
جوش میں آکر لگا دی کوہ کے دامن میں آگ
"لالہ” مشہور پھول ہے سرخ رنگ کا۔ اس کا اصلی وطن ایران ہے، جہاں یہ پہاڑوں کے دامن میں کھلتا ہے۔ بے شمار پھول ہوتے ہیں۔ دور سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ کے دامن میں آگ لگی ہوئی ہے، دہکتے ہوئے انگارے بکھرے ہوئے ہیں۔ "لالۂ خود رو” کے معنی ہیں: اپنے آپ اُگ آنے والا لالہ۔ اسے اگر "لالۂ خود رَو” پڑھا جائے تو اس کے معنی ہوں گے: اپنے آپ چلنے والا لالہ۔ مطلب چوپٹ ہوگیا نا! تیز رَو: تیز چلنے والا۔ خود رُو: اپنے آپ اُگنے والا۔ یہ معنوی فرق نہ معلوم ہو تو ظاہر ہے کہ "رو” کا تلفظ غلط ہوسکتا ہے۔ تلفظ غلط ہو تو معنی بدل جائیں گے، بلکہ یہ کہیے کہ بگڑ جائیں گے۔
فراق گورکھپوری نے ایک نظم لکھی ہے جس میں بچپن کا ذکر کیا ہے کہ بچہ کس چیز کو کیا سمجھتا ہے۔ اسی نظم کا ایک ٹکڑا ہے:
سمجھ سکے کوئی اے کاش عہد طفلی کو
نمود لالہ ٔ خود رو میں دیکھنا جنت
کرے نظارۂ کونین اک گھروندے میں
اس میں بھی "لالۂ خود رو” (رے کے پیش کے ساتھ) ہے۔
میر تقی میر کا مشہور شعر ہے:
دلّی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ "مُصَوِّر” اور "مُصَوَّر” دو مختلف لفظ ہیں۔ "مُصَوِّر” کے معنی ہیں: تصویر بنانے والا۔ یہ عربی کا اسم فاعل ہے۔’مُصَوَّر” (واو کے زبر کے ساتھ) اسم مفعول ہے۔ معنی ہیں: وہ تصویر جسے بنایا گیا ہے۔ "اوراقِ مُصَوَّر” کا مطلب ہے ایسے ورق جن پر تصویریں بنی ہوئی ہیں۔ (مرقع ایسے ہی اوراق کے مجموعے کو کہتے ہیں)۔ شاعر نے دلّی کے گلی کوچوں کو "اوراق مصور” کہا ہے اور ان دنوں کو یاد کیا ہے جب دلّی کی ہر گلی خوب صورت چہروں سے معمور تھی۔
فیض احمد فیض کی ایک مشہور نظم کا عنوان ہے: "آج بازار میں پابہ جولاں چلو”۔ نظم اس طرح شروع ہوتی ہے:
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
"جُولاں” (جیم پر پیش) کے معنی ہیں: بیڑی۔ "پابہ جُولاں” کے معنی ہوئے: جس کے پیروں میں بیڑیاں پڑی ہوئی ہوں۔
ایک اور لفظ ہے "جَو لاں” (جیم کے زبر کے ساتھ)۔ اسی سے "جَو لانی” بنتا ہے اور اس سے "جولانیِ طبع” بنا ہے، جس کے معنی ہیں: طبیعت کی روانی ، امنگ۔ "جَو لاں” کے لفظی معنی ہیں: گھوڑا دوڑانا، کدانا۔
مطلب یہ ہوا کہ "جُولاں” اور "جَو لاں” دو مختلف لفظ ہیں۔ فیض کی اس نظم میں "پابہ جُولاں” (جیم کے پیش کے ساتھ) آیا ہے۔ اسے اگر جیم کے زبر کے ساتھ "پابہ جَولاں” پڑھا جائے تو مطلب بدل جائے گا۔ بدل کیا جائے گا، بگڑ جائے گا۔
مرزا غالب کا مشہور شعر ہے:
چاک مت کر جیب بے ایام گل
کچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے
پہلے مصرعے میں ایک لفظ "جیب” آیا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں؛ جَیب، جِیب۔ "جِیب ” کے معنی ہیں: پاکٹ، مثلاً قمیص کی جیب میں روپے ہیں۔ "جَیب” کے معنی ہیں: گریبان، جسے شاعروں کی روایت کے مطابق عاشق جوش میں آ کر چاک کردیا کرتا تھا۔ غالب کے اس شعر میں "جَیب” ہے۔ اسے "جِیب” پڑھا جائے، یعنی؛ چاک مت کر جیب بے ایام گل۔ توشعر کے معنی چوپٹ ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ سننے والے یہی راے قائم کریں گے کہ اس شخص کو اس لفظ کا نہ تلفظ معلوم ہے اور نہ یہ اس کے معنی جانتا ہے۔ یہ کچھ اچھی بات تو نہیں ہوگی۔
تلفظ کے بیان کو اب ختم کیا جاتا ہے۔ لکھنے کو تو بہت کچھ ہے، مگر بات گنجایش کی ہے۔ اصل مقصد یہ تھا بھی نہیں کہ بہت سی مثالیں جمع کی جائیں۔ اصل مقصد یہ تھا کہ اس طرف متوجہ کیا جائے کہ لفظوں کے املا کے ساتھ ساتھ ان کا صحیح تلفظ بھی معلوم ہونا چاہیے۔ لغت دیکھنے کی عادت ڈالنا چاہیے اور جاننے والوں سے پوچھتے بھی رہنا چاہیے۔

["انشا اور تلفظ”، مکتبہ جامعہ لمٹیڈ، دہلی، 2011]

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
Leave A Reply

Your email address will not be published.