حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ تحریر محمد نعیم خان

حضرت ایوب علیہ السلام کا زکر قرآن میں چار مقامات میں آیا ہے سورہ النسا کی آیت 163، سورہ الانعام کی آیت 84، سورہ الانبیا کی آیات 83 ، 84 اور سورہ ص کی آیات 41 سے 44 تک میں ۔ ہمارے ہاں جیسے اور بہت سی باتیں مشہور ہیں ویسے ہی حضرت ایوب علیہ السلام کے متعلق بھی یہ بات مشہور ہے کہ ان کو کسی قسم کی جلدی بیماری لگ گئ تھی اور ان کے پورے جسم پر پھوڑے اور پھنسیاں نکل آییں تھیں لیکن مفسرین اس بات کے حوالے کے لئے نہ تو کسی قرآن کی آیت کو پیش کرتے ہیں اور نہ ہی کسی حدیث کو بلکہ بائبل میں موجود ایک ایسے قصے کو بنیاد بناتے ہیں جس کو اگر آپ پڑھیں تو اس میں حضرت ایوب علیہ السلام اللہ سے شکوہ کرتے ہوئے دکھائ دیتے ہیں ۔ جس میں خود آپس میں اتنے اختلافات ہیں کہ اس پورے باب کو جو بائبل میں حضرت ایوب علیہ السلام کے نام سے لکھا گیا ہے پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کلام اللہ کا نہیں ہوسکتا۔ یہ کسی انسانی ذہن کا تراشیدہ ہے اور جیسے دوسرے واقعات بائبل میں انبیا کرام سے منسوب ہیں اور جن میں انبیا کی عصمت پر حرف آتا ہے بلکل ایسے ہی بائبل کے اس قصے پر یقین کرنے سے آتا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر اصل واقعہ کیا ہے؟۔ حضرت ایوب سے متعلق واقعہ تھوڑا تفصیل سے سورہ ص میں آتا ہے۔ اب چونکہ ہمارے پاس کسی حدیث یا کسی تاریخی واقعہ کا حوالہ نہیں ہے اس لئے تصریف الایات سے ہی اس پورے واقعہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ کا ارشاد ہے :

وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ﴿٤١﴾ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَـٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ﴿٤٢﴾ 
اور ہمارے بندے ایوبؑ کا ذکر کرو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے (41) (ہم نے اُسے حکم دیا) اپنا پاؤں زمین پر مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے (42) 
ترجمہ مولانا مودودی

یہاں ترجمہ مولانا مودودی صاحب کا لگایا ہے جو قریب قریب اس آیت کا ہے۔ اب اس آیت میں جو قابل غور الفاظ ہیں وہ مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ ہیں جو اس پورے واقعہ کو کھولتے ہیں ۔ سورہ الانبیا کی آیت 83 میں مَسَّنِيَ الضُّرُّ کے الفاظ آئے ہیں جس کے معنی تکلیف کے ہیں اور یہاں سخت تکلیف کے الفاظ آئے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کونسی تکلیف؟؟؟؟ ۔ یہ بات یاد رہے کہ نزول کے اعتبار سے سورہ ص پہلے نازل ہوئ ہے اور پھر سورہ الانبیا۔

اگر لفظ شیطان پر غور کریں تو بات بلکل سادہ سی ہے کہ یہاں لفظ شیطان کا مطلب سانپ ہے۔ عربوں کے ہاں بد صورت سانپ کو شیطان بھی کہتے ہیں ۔ قرآن میں بھی یہ لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ سورہ الصافات کی آیات 36 اور 37 میں اللہ کا ارشاد ہے:

إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ ﴿٦٤﴾ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ﴿٦٥﴾ 
بے شک وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی جڑ میں اُگتا ہے (64) اس کا پھل گویا کہ سانپوں کے پھن ہیں (65) 
ترجمہ احمد علی

اس آیت میں رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ سے مراد سانپوں کے پھن ہیں ۔ اس لئے قرآن بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ عربوں کے ہاں بد صورت سانپ کو شیطان بھی کہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ قرآن میں تلاش کریں کہ مس الشیطان اور کہاں استعمال ہوا ہے تو سورہ البقرہ کی آیت 275 میں بھی اللہ نے سود کھانے والوں کو اس شخص سے تشبیہ دی ہے جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کر دیا ہو ۔ جیسے ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ کیا تمہیں کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو ایسی پاگلوں والی باتیں کرتے ہو بلکل اس ہی طرح یہاں بھی یہ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہی دو آیات ہیں جہاں شیطان کے چھونے اور نقصان پہنجانے کا زکر ہے۔

اس لئے اب اس لفظ کی تشریح کے بعد یہ واقع سمجھنا آسان ہوگیا کہ کسی سفر میں حضرت ایوب علیہ السلام کو کسی سانپ نے ڈس لیا تھا۔ قرآن ”مس“ کرنے یا چھونے کو ان ہی معنوں میں استعمال کرتا ہے جیسے حضرت مریم نے کہا تھا کہ مجھے کسی بشر نے نہیں چھوا۔ بلکل اس ہی طرح یہاں بھی شیطان کا چھونا ان ہی معنوں میں آیا ہے ۔ اس کے بعد کی آیت بھی اس ہی بات کی تائید کرتی ہے کہ اس مشکل وقت میں جب حضرت ایوب علیہ السلام نے اللہ کو پکارا تو اللہ نے ان کو ایک خاص مقام پر چلے جانے کی ہدایت کی جہاں ایک چشمہ تھا۔ عربی میں ارْكُضْ کے معنی کسی جانور کو ایڑھ لگانے کے ہیں یا بھاگنے کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ سورہ النبیا کی آیت 12 اور 13 میں یہ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس لئے اللہ نے اپنے نبی کو جلدی سے بھاگتے ہوئے یا اگر وہ کسی سواری پر سوار تھے تو اس کو دوڑاتے ہوئے ایک چشمہ کی طرف چلے جانے کی ہدایت کی جو کہ اس وقت ان کے قریب ہی واقعہ تھا۔

اب اگر سورہ ص کی آیت 42 پر غور کریں تو وہاں تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ یعنی نہانے کے لئے، ٹھنڈا پانی اور پینے والا پانی۔ غور کریں تو ان الفاظ سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟؟؟؟ ٹھنڈے پانی سے نہانے سے نہ صرف یہ کہ وہ پرسکون رہیں گے، ان پر بخار نہیں چڑھے گا اور انفکشن کے امکانات کم ہونگے۔ اس کے علاوہ پانی پینے کی بھی ہدایت ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی واقع نہ ہو اور بھاگنے اور تھکان سے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے اور اگر کوئ زہریلا مواد جسم میں پہنچ گیا ہو وہ جسم سے نکل جائے یا پانی میں مل کر اس کے اثر کو زائل کردے ۔ اس کے بعد کی آیات میں زکر ہے:

وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴿٤٣﴾ وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚنِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿٤٤﴾ 
ہم نے اُسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر (43) (اور ہم نے اس سے کہا) تنکوں کا ایک مٹھا لے اور اُس سے مار دے، اپنی قسم نہ توڑ ہم نے اُسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا(44) 
ترجمہ مولانا مودودی

اس طریقہ سے حضرت ایوب علیہ السلام میں اتنی قوت پیدا ہوگئ کہ وہ واپس اپنے اہل و اعیال کے پاس واپس پہنچ جاتے ہیں ۔ اب زرا تصور کریں کہ ایک شخص اکیلا صحرا میں سانپ کے ڈسنے سے موت کے قریب پہنچ جاتا ہے اور پھر اللہ ان کو موت کے منہ سے بچا لاتے ہیں ۔ بلکل ایسا ہی ہے کہ ایک نئ زندگی کا ملنا۔ اب یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اوپر کی آیات میں ان کے گھر والوں اور ان کی مثل کا زکر ہے یعنی جب گھر پہنچے ہیں تو سب ان کے گھر واپس نہ آنے کی وجہ سے پریشان تھے ۔ جس میں ان کے اپنے گھر والے اور وہ جو ان پر ایمان لائے تھے کیونکہ نبی کے اہل اس پر ایمان لانے والے بھی ہوتے ہیں اس ہی لئے اس آیت میں ان کے اپنے گھر والوں کے زکر کے ساتھ ان کا بھی زکر کیا ہے جو ان کے اپنے گھر والے تو نہیں لیکن ان کی مثل تھے۔

اب یہاں پہنچ کر اللہ نے پھر وحی کے ذریعہ ان کو ان کی تکلیف کا علاج بتایا کہ چند جڑی بوٹیاں لے کر اس کو اس جگہ پر لگاو جہاں سانپ نے کاٹا ہے۔ وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا یعنی مٹھی بھر جڑی بوٹیاں لے کر ان کو زخم پر لگاو۔ ضِغْثًا کا معروف معنی ہی مٹھی بھر جڑی بوٹیاں ہیں اتنی جو ایک ہاتھ میں آسکیں ۔ پھر ضرب بھی ان ہی معنوں میں آیا ہے جیسے بنی اسرائیل کے لئے کہ زلت و مسکنت ان پر تھوپ دی گئ یا سورہ نور میں ضرب اوڑھنیوں کو اپنے سینوں پر ڈالنے کے لئے آیا ہے۔ 
اس کے بعد کی آیت کا ٹکڑا یوں ہے کہ جب اس سے شفا یاب ہوجاو تو پھر اپنی قسم کو نہ توڑو جو ظاہر ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو یہ واقعہ ایک ایسے سفر میں پیش آیا کہ آپ اللہ کا پیغام پہنجانے کے مشن پر تھے۔ اس لئے اللہ کا یہ کہنا کہ جب تم صحت یاب ہو جاو تو پھر اس کام کی طرف دوبارہ نکل پڑنا۔

یہ بھی قرآن میں کوئ ایسا واقعہ نہیں کہ اللہ نے زاتی حثیت میں اپنے نبی کی مدد کی ہو۔ ایسے واقعات قرآن میں آپ کو اور بھی ملیں گے کہ حضرت نوح کو کشتی بنانے کا علم وحی سے دیا، حضرت یونس علیہ السلام کی مدد اس وقت کی جب وہ ایک مچھلی کا لقمہ بنے والے تھے یا حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد سے توازا وغیرہ ۔ 
یہ میرا فہم ہے ۔ اس سے آپ کو اختلاف کا حق ہے۔

سورس

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ اللہ نے ان کو صاپر کا لقب دیا۔ آئیے قرآن سے دیکھتے ہیں کہ کیا یہی صابر تھے یا دوسروں کو بھی اللہ نے الصابرین کہہ کر پکارا ہے

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ ۚ بَلَاغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٣٥﴾ 
پس اے نبیؐ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو اِنہیں یوں معلوم ہو گا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے بات پہنچا دی گئی، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہو گا؟ (35) 
سورہ الاحقاف آیت 35
ترجمہ مولانا مودودی

سورہ الانبیا میں جہاں حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے وہیں اس قصے کے بعد یہ آیات نازل کیں ۔

وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِينَ ﴿٨٥﴾ 
اور یہی نعمت اسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے (85)
سورہ النبیا آیت 85
ترجمہ مولانا مودودی

وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا ۗ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ ﴿١٤٦﴾ 
اِس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں اُن پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی، وہ (باطل کے آگے) سرنگوں نہیں ہوئے ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے (146) 
سورہ آل عمران آیت 146
ترجمہ مولانا مودودی

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر میری دلیل کو رد کرنا تھا تو احباب کہتے کہ نہیں جناب شیطان کا مطلب عربوں کے ہاں سانپ نہیں ہے۔ یا وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا کا مطلب مٹھی بھر جڑی بوٹیاں اپنے ہاتھ میں لینے کا بیان نہیں ہے یا نہانے ، پانی پینے کا بیان اس بارے میں نہیں ہے لیکن کیوں کہ جب یہ نہ کر سکے تو پھر کسی نہ کسی طرح تو اس کو رد کرنا تھا اس لئے بس دلیل یہ دی کہ جناب یہ سانپ کا کاٹنا بھی کوئ آزمائش ہوئ۔ آزمائش تو یہ ہے کہ ان کو کوئ مستقل بیماری لگ جائے۔

حضرت ایوب علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ان کی زمہ داری اللہ کا دین پہنجانہ تھا۔ اب جو شخص خود ہی پھوڑے پھنسیوں میں مبتلا رہے وہ کیا دین پہنچائے گا؟؟؟؟ وہ کیا اللہ کا پیغام پہنجائے گا؟؟؟؟۔ کمال یہ ہے کہ قرآن کو الفرقان بھی مانتے ہیں اور اس کا انکار بھی کرتے ہیں ۔ ہاتھوں سے لکھی تحریروں کو منجانب اللہ بھی قرار نہیں دیتے اور رہنمائ بھی وہیں سے لیتے ہیں ۔ یہ لوگ دو کشتیوں میں سوار ہیں ۔

آزمایش چھوٹی بڑی ہر لمحہ انسان کے ساتھ جاری ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ ﴿٣٥﴾
ہر جاندار کو مَوت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں آخرکار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے (35)
سورہ الانبیا آیت 35
ترجمہ مولانا مودودی

پھر اللہ فرماتا ہے:

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ﴿٣٤﴾
اور (دیکھو کہ) سلیمانؑ کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا (34)
سورہ ص آیت 34
ترجمہ مولانا مودودی

پھر اللہ نے حضرت داود علیہ السلام کو بھی آزمایا اور یہ آزمائش بہت ہی تھوڑے وقت کے لئے تھی:

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ ۗ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ۩ ﴿٢٤﴾
داؤدؑ نے جواب دیا: "اِس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں” (یہ بات کہتے کہتے) داؤدؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کر لیا (24)
سورہ ص آیت 24
ترجمہ مولانا مودودی

اللہ ایک جگہ اور فرماتا ہے :

إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّـهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿١٥﴾
تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے (15)
سورہ التغابن آیت 15
ترجمہ مولانا مودودی

یہ سب کیوں ہے اس لئے کہ اللہ دیکھ لئے کہ کون شکر کرنے والا ہے اور کون جب مصیبت سے نجات مل جائے تو اکڑنے والا ہے ۔ اس ہی کو اللہ یوں بیان کرتا ہے:

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ ﴿٣﴾
حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون (3)
سورہ النکعبوت آیت 3
ترجمہ مولانا مودودی

اگر وہ چاہے تو ایک اوٹنی کو بھی آزمایش بنا دے۔ ایک اور آیت ملاحظہ ہو:

فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٤٩﴾
یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں (49)
سورہ زمر آیت 49
ترجمہ مولانا مودودی

حضرت ایوب اور دوسرے انبیا اپنی مصیبت دور ہوجانے پر اس کو اللہ کا کرم قرار دئتے ہیں ۔ یہی حضرت ایوب علیہ االسلام نے کیا۔

سورس

 

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
Leave A Reply

Your email address will not be published.