سورہ 4 آیت 4 اور شوہروں کی اطاعت۔ تحریر محمد نعیم خان

سورہ 4 آیت 4 اور شوہروں کی اطاعت۔

تحریر محمد نعیم خان

ہمارے ہاں عورت کو مارنے کا حق سوره النساء کی آیت ٣٤ سے تو اخذ کیا ہی جاتا ہے لیکن ایک بات اس آیت سے یہ بھی اخذ کی جاتی ہے کہ بیویوں کو اپنے شوہروں کی اطاعت بھی کرنی چاہیے .

آیت کے جس ٹکڑے سے یہ استدلال کیا جاتا ہے وہ یہ ہے .

“فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ”
جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں

اس کے لیے قرآن سے ہی پوچھتے ہیں کہ وہ اس لفظ قَانِتَاتٌ کو کن معنوں میں استعمال کرتا ہے .

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ﴿١٢ ﴾
اور عمران کی بیٹی مریمؑ کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونک دی، اور اس نے اپنے رب کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی (١٢ )

الْقَانِتِينَ = اطاعت گزار

سب جانتے ہیں کہ حضرت مریم کا کوئی شوہر نہیں تھا . اس لیے یہاں اطاعت گزار صرف الله کے لیے استعمال ہوا ہے کہ حضرت میریم اپنے رب کی اطاعت گزار تھیں .

اس ہی بات کو اس آیت میں پیش کیا گیا ہے .

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴿٣٥ ﴾
بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے (٣٥ )

الْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ = اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں

قرآن میں یہ لفظ صرف الله کی اطاعت کے لیے استعمال ہوتا ہے . اس سے مراد قرآن میں الله کے آگے جھکنے والے مرد اور عورت مراد ہوتی ہے .

٣٣:٣٥

ایک مثال اور دیکھ لیں …

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٢٠ ﴾
واقعہ یہ ہے کہ ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا (١٢٠ )

١٦:١٢٠

سوره بقرہ کی اس آیت نے تو بات بلکل ہی کھول کر بیان کردی ہے .

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّـهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ ﴿١١٦ ﴾
ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اللہ پاک ہے ان باتوں سے اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں، سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں (١١٦ )

كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ = سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں

ان تمام مثالوں کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اوپر پیش کی گئی آیت میں قانتات کا مفہوم شوہر کی اطاعت کے زمرے میں ہرگز نہیں آتا .

فیس بک پوسٹ

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...