سورۃ الملک، آیت 5 (تفسیر)۔ تحریر محمد نعیم خان

سورۃ الملک، آیت  5 (تفسیر)۔

تحریر محمد نعیم خان

ی ڈی ایف فائل لنک)

سورۃ الملک کی آیت 5 کے حوالے سے میری  یہ رائے  میرا  اپنا فہم ہے جو اس خیال کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ  اس میں غلطی کی گنجائش موجود ہے اور یہ حرف آخر نہیں ۔ اب ائیے آیت پر غور کرتے ہیں ۔

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ ﴿5﴾

ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے (5) [ترجمہ مولانا مودودی]

جیسا کہ میں اکثر اپنی تحریروں میں اس بات کو بیان کرتا ہوں کہ قران کی کسی آیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس موضوع سے متعلق جہاں جہاں قران میں آیات بیان ہوئی ہیں ان کو ایک جگہ جمع کر کے ان پر غور کیا جائے تو آیت کا صحیح مطلب سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قران کی بنیادی تعلیمات اور اس کی زبان کا اسلوب بھی ذہن میں رہے تو بات کو سمجھنے میں کوئ دشواری پیش نہیں اتی۔

یہ مضمون سورہ الحجر اور سورہ الصافات میں بھی بیان ہوا ہے۔ سورہ الحجر کی آیات ہیں :

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ ﴿16﴾ وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ ﴿17﴾ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ ﴿18﴾ 

یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کیا (16) اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا (17) کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا، الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے(18) [ترجمہ مولانا مودودی]

سورہ الصافات کی آیات ہیں :

إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ ﴿6﴾ وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ ﴿7﴾ لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ ﴿8﴾ 

ہم نے آسمان دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے (6) اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے (7) یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں(8) [ترجمہ مولانا مودودی]

اب ان آیات پر غور کریں تو سورہ الملک کی آیت 5 میں جن کو مَصَابِيحَ اور سورہ الحجر کی آیت میں بُرُوجًا کہا ہے اس کو سورہ الصافات کی آیت میں الْكَوَاكِبِ نے کھول کر تشریح کردی کہ ان سے مراد ستارے ہیں ۔ اب آگے بڑھتے ہیں اور سورہ الملک کی آیت میں استعمال ہونے والے الفاظ رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ پر غور کرتے ہیں ۔

رجم کا مادہ ر ج م ہے ۔ ابن فارس کے مظابق اس کے معنی ہیں پتھروں سے مارنا۔ پھر اس کے معنی قتل کردینا بھی ہوگئے۔ جھڑک کر نکال دینا وغیرہ۔ اس ہی سے بطور استعارہ کے کسی پر تہمت لگاتا یا گالی دینے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے۔ تاج کے مطابق اس کے معنی کسی کو چھوڑدینا یعنی قظع تعلق کرلینا۔ نیز تاج کے نزدیک الرجم کے معنی ہیں کسی کو مطعون کرنا۔

اس کے علاوہ رجم کے ایک معنی اٹکل پجو باتیں کرنا بھی ہیں ۔ رجم الرجل بلغیب کے معنی ہیں اس آدمی نے غیب کےمتعلق ایسی باتیں کہیں جو وہ جانتا نہیں ۔ اس ہی طرح قاله رجما کے معنی ہیں اس نے یوں ہی اٹکل پجو بات کہہ دی۔ اس ہی کو سورہ الکہف کی آیت 22 میں اللہ نے رَجْمًا بِالْغَيْبِ سے تعبیر کیا ہے ۔

الشیطان کا مادہ ش ط ن ہے اس شے کو جو دور ہو اسے شطین یا شاطن کہتے ہیں ۔ ابن فارس نے بھی اس کے معنی دور ہونے کے لکھے ہیں ۔ اس لئے شطن کے معنی ہیں وہ بہت دور چلا گیا۔ تاج اور لین کے مطابق شیطان کے معنی مخالف اور سرکشی ہیں ۔ اس ہی اعتبار سے شیطان وہ ہستی جو رحمت الہی سے دور ہو۔ اس ہی کو سورہ الحجر کی آیت 34 میں رجیم نے کھولا ہے کہ اس سے مراد وہ ہستی جو ملعون ہو ، لعنت زدہ ہو۔ اللہ کی رحمت سے دور ہو۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اس کو کسی نے پتھر مارے تھے۔

ان الفاظوں کی تفسیر کے بعد اب ان الفاظوں رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ سے مراد یہ نہیں کہ ان کو پتھر مارے جاتے تھے یا شہاب ان پر پھینکے جاتے تھے اس لئے ان کو شیطان رجیم کہتے ہیں درست نہیں ۔ سورہ الحجر میں شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ اور الصافات میں شَيْطَانٍ مَّارِدٍ کے الفاظ آئے ہیں ۔ جس نے ان الفاظوں کی مزید تشریح کردی ہے۔ بلکہ اس سے مراد ، جیسا کہ قران نے شیطان کے لفظ کو انسانوں پر بھی استعمال کیا ہے (جیسے سورہ البقرہ کی آیت 14 میں ) وہ شیطان یعنی کاہن جو لوگوں کو غیب کی باتیں بتایا کرتے تھے اور ان کا دعوی یہ ہوتا تھا کہ یہ باتیں آسمان سے سن کر اتے ہیں ۔ اللہ نے ان ہی اٹکل پچو باتوں کی تردید کی ہے اور یہی کہا ہے کہ اگر کبھی اتفاق سے کوئ بات ٹھیک نکل آئے  تو ٹھیک لیکن یہ لوگ غیب کا کوئ علم نہیں رکھتے۔ دیکھیں اس ہی بات کو اللہ نے سورہ الطور میں یوں بیان کیا ہے :

أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿38﴾ 

کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل (38) [ترجمہ مولانا مودودی]

پھر اس ہی سورہ کی آیت 41 میں پھر اس ہی بات کو دہرایا ہے: 

أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ﴿41﴾ 

کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اُس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں؟ (41) [ترجمہ مولانا مودودی]

آسمانوں کے شیطانوں سے محفوظ کرنے کا جو آکر ان آیات میں آیا ہے اس کا یہی مظلب ہے کہ ان کاہنوں یا نجومیوں کو علم غیب میں کوئی دسترس حاصل نہیں اور اللہ اپنے علم غیب میں انسانوں میں سے جس کو چاہتا ہے شامل کرتا ہے جن کو ہم رسول یا نبی کہہ کر پکارتے ہیں ۔ 
اب دو سوال رہ گئے جن کا جواب معلوم کرنا ابھی باقی ہے۔ پہلا یہ کہ  شیطانوں کے کچھ سن گن لینے سے کیا مراد ہے جسے سورہ الحجر میں

اسْتَرَقَ السَّمْعَ سے تعبیر کیا ہے؟ اور دوسرا شہاب ثاقب کے مارے جانے سے کیا مراد ہے؟

 پہلے سوال کا مطلب اگر یہ لیا جائے کہ یہ شیطان ملائکہ سے کچھ باتیں اچک لیتے تھے اور اس کو کاہنوں کے کانوں میں ڈال دیتے تھے اور پھر یہ کاہن اس میں سو باتیں ملا کر لوگوں کو بتاتے تھے تو یہ مطلب لینے سے اللہ کی قدرت پر اثر پڑتا ہے کہ اللہ اپنے رازوں کی حفاظت بھی نہ کر سکا اور شہاب ثاقب اس کے پیچھے اس کو مارنے کے لئے بھیجے جاتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ یہ بات کاہن تک پہنچا دیتے تھے ۔ پھر آسمانوں کی حفاظت کیسے ہوئی؟۔

اس لئے اسْتَرَقَ السَّمْعَ کو سورہ الصافات کی آیت 10 نے کھولا ہے جہاں قرآن کے الفاظ ہیں :

إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ﴿10﴾ 

مگر جو ایک آدھ بار اُچک لے چلا تو روشن انگارہ اس کے پیچھے لگا، (10) [ترجمہ احمد رضا خان]

دیکھیں اس آیت نے سورہ الحجر کی بات کو سمجھنا آسان کردیا کہ یہ کاہن یا نجومی جو ایک آدھ بات میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ بلکل ایسا ہے کہ انسان قیاس آرایاں کرتا ہے اور اٹکل پچو باتوں سے غیب کی خبریں بتاتا ہے تو اس میں کوئی ایک آدھ بات درست بھی ہوجاتی ہے لیکن رسول اور نبی کا رابطہ کیوں کہ اللہ سے ہوتا ہے اس لئے ان کا پیغام حق ہوتا ہے اور ان کی غیب کی خبریں پرحق ہوتی ہیں ۔ پھر سورہ الصافات کی آیات میں تو كُلِّ شَيْطَانٍ اور لَّا يَسَّمَّعُونَ کے الفاظ لا کر کلی طور پر اس بات کی نفی کر دی کہ یہ شیطان یعنی کاہن یا نجومیوں کی کوئی دسترس ان غیب کی علم میں نہیں ہے اور وہاں سے یہ کوئی بات سن نہیں سکتے ہیں ۔ پھر ان کا سننا فرشتوں کی باتیں سننا نہیں ہے کیوں کہ اللہ قادر مطلق ہے اور وہ اپنے رازوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے بلکہ ان کے اس دعوی کا بیان ہے کہ یہ جو غیب کی خبریں پہنجاتے ہیں یہ آسمان سے سن کر اتے ہیں اس کو استعارہ کے طور پر اسْتَرَقَ السَّمْعَ اور خَطِفَ الْخَطْفَةَ سے تعبیر کیا ہے اور پھر سورہ الشعرا کی ایت 226 میں تو اس کو اور کھول دیا ہے آیت ہے :

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿222﴾ يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ ﴿223﴾ 

لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟ (221) وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں (222) سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں (223) [ترجمہ مولانا مودوی]

اس آیت میں الفاظ يُلْقُونَ السَّمْعَ نے اس بات کی تفسیر کی ہے کہ یہ جھوٹی باتیں لوگوں کے کانوں میں ڈالتے ہیں اور دعوی یہ ہوتا ہے کہ یہ باتیں آسمان سے سن کر آرہے ہیں ۔ اس میں سے سو باتیں کرتے ہیں اور کوئ دو چار ٹھیک ہوجائیں تو یہ محض اتفاق ہی ہے۔ اس ہی لئے قران نے بار بار ان کو یہ چیلنج دیا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے کہ رسول اللہ نے یہ کلام اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے یا کوئی کاہن یا نجومی اس کو یہ باتیں بتاتا ہے تو تم بھی ایسی ہی ایک آیت لے او اور اس کو لکھ لو۔ اس کوشش میں اللہ کے سوا جتنے بھی تمہارے مدگار ہیں ان کو بلا لو۔

اب آخری اور اہم بات رہ گئی کہ پھر شہاب کا شیطان کے پیچھے آنے کا کیا مطلب ہے۔ شہاب کا لفظ لغت کی رو سے ہر شعلہ پر صادق آتا ہے اور اس شعلہ پر بھی جو آسمان کی فضا میں بعض اوقات دکھائی دیتا ہے ۔ شہاب کا گرنا جسے ہم ستاروں کا ٹوٹنا کہتے ہیں اصل میں یہ بعض پتھر ہیں جو آسمان کی فضا میں چکر لگاتے ہیں جیسے بڑے بڑے سیارے چکر لگاتے ہیں جب ان میں سے کوئ ٹکڑا زمین کے مدار میں داخل ہوتا ہے تو ہوا کی رگڑ اور اپنی تیز رفتار حرکت کی وجہ سے اس میں آگ بھڑک اٹھتی ہے اور پھر یہ ایک شعلہ کی مانند نظر آتا ہے ۔

 اس کے متعلق لوگوں نے یہ قصے مشہور کیے ہوئے ہیں کہ پہلے شیاطین کو آسمانوں میں بلا روک ٹوک آنے جانے کی اجازت تھی تو وہ وہاں سے کچھ راز اچک لیا کرتے تھے پھر جب حضرت عیسی کی پیدایش ہوئی تو ان کو تین آسمانوں تک جانے کی اجازت تھی اور جب رسول اللہ کی پیدائش ہوئی تو پھر ان کا آسمانوں پر جانا بند ہوگیا۔ لیکن یہ تمام بے معنی قصے ہیں کیوں کہ شہاب کا سلسلہ اس وقت سے ہے جب سے یہ دنیا بنی تھی اس لئے ان بے سروپا قصوں کی کوئ اہمیت نہیں ۔ پھر سورہ الجن کی آیت 9 یہ لوگ اپنے حوالے کے لئے پیش کرتے ہیں:

وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا ﴿9﴾ 

اور یہ کہ “پہلے ہم سن گن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے، مگر اب جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہاب ثاقب لگا ہوا پاتا ہے” (9) [ترجمہ مولانا مودوی]

یہ غلطی اس وجہ سے ہوئی کہ قران کا اسلوب جیسا کہ دوسری آیات میں استعمال ہوا ہے اس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اس کو استعارہ میں لینے کے بجائے اس کو حقیقی معنوں میں لیا گیا۔ اس آیت سے شِهَابٌ مُّبِينٌ یا شِهَابٌ ثَاقِبٌ کے الفاظوں پر روشنی پڑتی ہے ۔ شہاب ،جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہمیشہ سے تھے،لیکن سورہ الجن کی ایت 9 ہمیں بتا رہی ہےکہ شہاب ظاہری پہلے بھی تھے لیکن آیت کہتی ہے کہ پہلے کاہن یا نجومی اپنا کام باآسانی کر لیا کرتے تھے لیکن اب ان سے کچھ اور سلوک ہوتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شہاب سے ظاہری شہاب مراد نہیں بلکہ اس سے استعارہ ایسی روشنی مراد ہے جو ان کے استراق سمع کے اثر کو زایل کردیتی ہے۔ یعنی پہلے جو کاہن یا نجومی اٹکل پجو باتیں جو سچ نکل اتی تھیں اور اس سے لوگوں پر جو اثر ہوتا تھا اس کو زائل کرنے والی کوئی چیز نہیں تھی اس لئے لوگ کاہن اور نجومی کے اثر کے قائل تھے لیکن اب اللہ کی طرف سے کوئ ایسی روشنی آ گئی ہے جو ان کے اثر کو دور کردیتی ہے ۔ یہ شہاب رسول اللہ کے آنے سے خاص ہے جبکہ ظاہری شہاب رسول اللہ کے آنے سے خاص نہیں ۔

 پس ان تمام دلائل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہاں شہاب سے مراد رسول اللہ کی وہ کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نجومیوں کی پیشگوئیوںں کو باطل کردیتی ہیں ۔

محمد اسد سورہ النجم کی آیت وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ﴿1﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ زیادہ تر مفسرین نے تو اس کا یہی روایتی ترجمہ کیا ہے لیکن تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ لفظ نجم کا مادہ فعل نجما سے ہے جس کے معنی ظاہر ہونا، ابتدا، نکلنا، کسی چیز کاآہستہ آہستہ بلا اقساط نازل ہونے کو بھی النجم کہتے ہیں ۔ پھر محمد اسد ، عبداللہ ابن مسعود(جس کا حوالہ طبری نے اپنی تفسیر میں دیا ہے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب انہوں نے قران کریم کا آہستہ آہستہ نازل ہونا لیا ہے جس کی تاہید راغب، زمخشری ، رازی، ابن کثیر اور دوسرے مفسرین نے کی ہے ۔ اس ہی طرح سورہ الواقعہ کی آیت 75 میں فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ﴿75﴾ میں بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ سے مراد قران کریم ہے ۔ جس کو ایک آیت کے بعد ہی قران کریم کہہ کر بیان کردیا کہ جس کے لئے قسم کھائی جا رہی تھی اس سے مراد قران کریم ہی ہے۔

فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ﴿75﴾ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿76﴾ 

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی (75) اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے (76)

یہاں بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ سے مراد قران کریم کی محکم آیات ہیں۔ جس کو اس ہی سورہ کی آیت 77 میں قران کریم کہا گیا ہے ۔

إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ﴿77﴾ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ﴿78﴾ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ﴿79﴾ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿80﴾ 

کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے (77) ایک محفوظ کتاب میں ثبت (78)جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا (79) یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے(80)

ختم شد

٭٭٭٭٭

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...