شخصیت پرستی تحریر قاری حنیف ڈار

ارسطو نے کہا تھا کہ مرد کے دانت عورت سے زیادہ ھوتے ھیں ،، اس نے دو دفعہ شادی کی مگر دونوں میں سے ایک بیوی کے دانت بھی چیک کر کے نہیں دیکھے ، حالانکہ اس کام کے لئے اسے کہیں اونٹ پر سفر کر کے جانے کی ضرورت نہیں تھی ،، اس دو باتیں معلوم ھوئیں ایک تو یہ کہ جب انسان اپنے علم کے بارے میں تکبر اور مغالطے کا شکار ھو جاتا ھے تو پھر وہ سامنے پڑے ھوئے ثبوت کو بھی کوئی اھمیت نہیں دیتا ،

[“The History of Animals,” book 2, part 1 (translated by D’Arcy Wentworth Thompson):

Males have more teeth than females in the case of men, sheep, goats, and swine; in the case of other animals observations have not yet been made: but the more teeth they have the more long-lived are they, as a rule, while those are short-lived in proportion that have teeth fewer in number and thinly set.
Part 4

دوسری بات کا تعلق عوام الناس کے نفسیاتی مسئلے سے ھے ، کہ جب وہ کسی علمی شخصیت کے رعب میں مبتلا ھو جاتے ھیں تو پھر اس کی بات کو ری وزٹ نہیں کرتے اور مجرد اس کے دعوے کو ھی دلیل سمجھ لیتے ھیں یعنی فلاں کا کہنا ھی کافی ھے یا فلاں کا نام ھی کافی ھے ،جب فلاں نے کہہ دیا ھے تو اس پر دلیل طلب کرنا یا دلیل تلاش کرنا اس شخصیت پر شک کرنا ھے ،، اس کے علمی مقام اور مرتبے کی توھین ھے ،،

اس نفسیاتی رویئے کا ثبوت یہ ھے کہ ارسطو کا یہ بے بنیاد قول کہ عورت کے دانت مرد سے کم ھوتے ھیں ،، پوری صدی جس میں سو سال ھوتے ھیں ،، صرف اس کی شخصی ضمانت اور علمی دبدبے کے رعب میں پوری آب و تاب کے ساتھ چلتا رھا ! اور کسی نے اس کی تحقیق کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی ،،

میں نے دینی مطالعے میں قدم قدم پر ارسطو دیکھے ھیں ،، جن کا فرما دینا ھی دین بن جاتا ھے ،، اس کے خلاف سوچنا توھین و گستاخی ھوتی ھے ،، اور تحقیق کرنا الحاد کہلاتا ھے ،، ھمیں اللہ پاک نے ایک اسوہ اور پیمانہ دیا تھا ،، وھی ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ اور علیؓ کا اسوہ تھے ،، وھی میرا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کا اسوہ ھیں ،، ھم سب کے مل کر ان کی اطاعت کرنے کا نام دین ھے ! یہ اسلاف اسلاف کی رٹ لگانے والے ، ان کی علمی عصمت کے محافظ ،، ھر سانس کے ساتھ ارسطو ارسطو پکارنے والے ھیں !

کسی کا ذاتی تقوی اس کا ذاتی فعل ھے جس طرح ھر بندہ اپنے مزاج کا نمک مرچ کھاتا ھے ،، اللہ کے رسولﷺ سے جب پوچھا گیا کہ آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے تو فرمایا کہ وضو کے اعضاء سے ،میری امت کے وضو کے اعضاء ،، چمک رھے ھونگے ،، اب اپنے مزاج کے مطابق ابوھریرہؓ وضو میں اپنے بازو کہنیوں کی بجائے بغلوں تک دھو دیتے تھے کہ میرا نور بغلوں تک نظر آئے ،،مگر ان کا یہ فعل نہ سنت ھے نہ مستحب ھے اور نہ ھی اسوہ ھے ،، جو بھی اس کو اپنانے کی کوشش کرے گا وہ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کے تو قریب ھو جائے گا مگر نبی کریمﷺ سے دور ھو جائے گا کیونکہ نبئ کریمﷺ سے بغلوں تک ھاتھ دھونا ثابت نہیں !

آپ ایک میٹر کے ساتھ ناپ کر ایک میٹر کپڑا الگ کر لیں ،، پھر میٹر کو الگ رکھ دیں اور اس کٹے ھوئے ایک میٹر کپڑے سے دوسرا میٹر ناپ کر کاٹیں ،، پھر پہلے کپڑے کو چھوڑ دیں اور دوسرے کٹے ھوئے ایک میٹر سے ناپ کر کاٹیں ،، دس دفعہ اس طرح کر کے اب اصلی میٹر کے ساتھ ناپ کر دیکھیں آپ دیکھیں گے کہ جوں جوں پراسس آگے بڑھتا رھا ھے کمی بیشی بھی بڑھتی رھی ھے ! اسلاف سے اسلاف ناپ کر دین جب مرتب کیا جانے لگا تو حالت یہ تھی کہ ایک صحابی زمانہ تابعین میں چیخ اٹھتے ھیں کہ اللہ کی قسم آج اگر رسول اللہ تشریف لے آئیں تو تمہارے اندر سوائے نماز کے کسی چیز کو نہ پہچانیں ،، کوئی کتنا بھی پاٹے خان ھو ، روز جتنے قرآن ختم کرتا ھو ، ایک ٹانگ پہ کھڑا ھو کر چلے کرتا ھو یا الٹا لٹک کر وظیفہ پڑھتا ھو ،،ھفتے میں ایک جو کھا کر گزارہ کرتا ھو ، یا رو رو کر مصلی بھگو دیتا ھو ،، یقین جانیں یہ اس کا ذاتی ذوق ھے ،، خاتم المرسلین کا دین نہیں ھے ،، وہ معتدل اور متوسط اسوہ ،، وہ صرف محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ گرامی ھے جس سے دادا کو بھی ناپا جانا چاھئے پھر باپ کو بھی اور پوتا بھی دادا کو نہیں ،، محمد رسول اللہﷺ کو اپنا اسوہ بنائے ،،

یہ زمانوں اور شخصیتوں کے تقدس کا خراج ھے جو ھم آج تفرقے کی صورت ادا کر رھے ھیں !!

اس کا علاج وہ ھے جو میرے استاد نے کیا ھے !!

میں جب مفتی کے پیپر دے رھا تھا تو آخر میں ایک پیپر میں نے بنانا تھا جسے میرے ممتحن صاحب نے حل کرنا تھا ،، میں نے تقسیمِ وراثت کا پرچہ تیار کیا اور اپنے ممتحن کو دے دیا جو میرے استاد بھی تھے ،، انہوں نے وہ پرچہ حل کر کے مجھے دے دیا اور خود بے نیازی سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگ گئے جب کہ میں پرچہ حل کرنے میں لگ گیا ،،،،،،،،

درمیان میں جا کر معاملہ خراب ھو گیا ، میرے استاد نے غلطیاں کرنا شروع کر دیں تھیں ،، جوں جوں میری بے چینی بڑھتی جا رھی تھی میرے استاذ کی بے نیازی بھی بڑھتی جا رھی تھی ،، میں نے ان کے ھر جواب کو کوئی چار چار بار چیک کیا مگر ان کی غلطی نکل رھی تھی ،، جبکہ ان کی علمی وجاھت کو دیکھتے ھوئے میں سمجھ رھا تھا کہ مجھ سے تو غلطی ممکن ھے میرے استاد سے ممکن نہیں ،، میں ان کے علم اور عمل دونوں سے مرعوب تھا ، اور آج بھی وہ واحد استاد ھیں جن سے میں فون کر کے کوئی مسئلہ ری کنفرم کرتا ھوں ،،

آخر میں نے پیپر مارک کر کے تقریبا روتے ھوئے ان سے کہا کہ ان سے کوئی غلطی ھو گئ ھے ،، وہ دوبارہ اپنا پیپر دیکھ لیں ،، ایک تو ان کی آنکھیں موٹی موٹی تھیں اوپر سے انہوں نے مصنوعی ناراضی کی وجہ سے ان کو اور کھول کر غصے سے کہا کہ غلطی کو واضح کرو ،، پھر اسے درست کر کے بتاؤ یہ غلطی ھوئی ھے ،اس وقت تم استاد ھو اور میں شاگرد ھوں ، میں نے پیپر میں ان کی غلطیاں درست کر کے اسے حل کر کے انہیں دیا ،،،

تب انہوں نے بتایا کہ ایک مفتی کو سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کسی سے مرعوب نہیں ھونا چاھئے ،،یہ دو ھستیاں غلطی سے مبرا ھیں ،، باقی سب سے غلطی کا امکان ذھن میں رکھ کر اسے غلط کہنے اور پھر درست کرنے کی جرات پیدا کرو ،،، یا اس میدان میں مت آؤ ،،،

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...