قصص الانبیاء-(پوسٹ 8) حضرت صالحؑ ، تحریر: کومل شہاب

صالح کے معنی ہیں نیک پرہیز گار، پارسا یا متّقی۔ آپ کا نسب یہ ہے “صالح بن عبد بن ماسح بن عبید بن حاجر بن ثمود بن عابر بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام”.

: ثمود
گناہ: سرکشی و تکّبر
عذاب: چنگھاڑ کا عذاب

آپ اللّٰہ کے پیغمبر تھے آپ کو قوم ِ ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا۔ یہ قوم بھی “عرب ِ عاربہ” میں سے ہے، جو حجاز اور تبوک کے درمیان وادی حجر میں آباد تھی۔ قرآن میں اس وادی کا تذکرہ کیا گیا ہے:
” تحقیق حجر والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا”. (الحجر: 80)
ان کی عمریں بہت طویل ہوا کرتی تھیں یہاں تک کہ اگر ان میں کوئی پختہ مکان بناتا تو ایک وقت ایسا آتا کہ وہ مکان بوسیدہ ہو جاتا مگر وہ آدمی زندہ ہوتا۔ یہ صورتحال دیکھ کر ان لوگوں نے پہاڑوں میں گھر بنانا شروع کر دیے۔ (الکامل)

کا نام ایک آدمی کے نام پہ رکھا گیا ہے۔ یہ قومِ عاد کے بعد ہوے، اور قرآن کریم میں ان دونوں کا ذکر متعدد مقامات پر ایک ساتھ ہی آیا ہے۔
بلیناس نے لکھا ہے، ثمود کی آبادیوں میں ‘دمثہ’ (Domutha) اور ‘ھجرہ’ (Hegra) مشہور ہیں۔
شاید یہ دونوں مقامات ‘جوف’ میں “دومہہ الجندل” کے چشمے کے پاس ہیں۔
غرض ان کے بارے میں مختلف قصے نقل کیے گئے ہیں۔

قومِ ثمود کی اونٹنی:

یہ قوم توحید کو چھوڑ کر بت پرستی میں غرق تھی۔ جب حضرت صالح علیہ السلام ان کے پاس آئے:
” انہوں نے کہا، اے میری قوم! اللّٰہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اس نے تمکو زمین سے پیدا کیا ہے اور اس میں آباد کیا تو اللّہ سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔”
(ھود: 61)

اور انہیں بتایا اللّٰہ کی نعمتوں کے بارے میں، لیکن وہ ماننے کے بجائے تکذیب کرنے لگے اور کہا:

” تم تو آسیب زدہ لگتے ہو، تم ہماری ہی طرح کے ایک آدمی ہو، اگر سچے ہو تو نشانی پیش کرو۔”
( الشعراء: 153-154)

پھر انہوں نے خود ہی کہ دیا کہ ہمیں اس پہاڑی سے ایک اونٹنی نکال کر دکھاؤ جو دس ماہ کی گابھن ہو۔
چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے پہاڑی کو حکم دیا اور بالکل ویسے ہی اونٹنی نکال کر دکھا دی، لیکن وہ پھر بھی کفر پہ اڑے رہے۔ صالح علیہ السلام نے کہا:

” یہ اونٹنی اللّٰہ کی طرف سے نشانی ہے تو اسے زمین میں چھوڑ دو جہاں چاہے چرے، اور اس کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا ورنہ تم پہ جلد عذاب آئے گا۔” (ھود:64)

خیر کچھ عرصے وہ اونٹنی ان میں چلتی پھرتی رہی پر ایک دن انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔وہ اونٹنی گر کر مر گییہ دیکھ کر آپ نے اپنی قوم سے کہا،

“اپنے گھروں میں تین دن تک اور فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔” (ھود: 46)

لوگوں نے اس بات کو نہ مانا اور الٹا آپ کے قتل کا ارادہ کرلیا۔ چنانچہ جب وہ اس کام کے لیے نکلے اللّٰہ نے پتھروں کی بارش کرکے انہیں ہلاک کر دیا۔

قومِ ثمود کی ہلاکت:

حضرت صالح کی مہلت کے عین مطابق، پہلے دن ان سب کے چہرے سرخ ہوگئے، پھر اگلے دن سب کے چہرے زرد ہو گئے، شام میں پھر اجلاس ہوا کہ دوسرا دن بھی گیا۔ پھر تیسرے دن سب کے چہرے ایسے سیاہ ہوگئے جیسے تارکول مل دیا ہو۔ اس کے بعد سورج نکلتے ہی سب میدان میں جمع ہوگئے کے دیکھیں تو عذاب کیسا ہوتا ہے؟. پھر آسمان سے چنگھاڑ آئی اور اس آواز سے زمین لرز اٹھی، پس آواز کی دھشت سے سبکی روحیں پرواز کر گئیں اور سب وہیں ڈھیر ہو گئے۔ قرآن کریم میں انکی ہلاکت کے منظر کو یوں بیان کیا گیا ہے:

” ہم نے ان پر (عذاب کے لیے) ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑے والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ” (القمر: 31)

قصّہ قومِ ثمود میں سب کے لیے عبرت:

اگرچہ اس واقعے کو صدیاں بیت گئیں لیکن یہ ہر متکبر اور سرکش کے لیے آج بھی سامانِ عبرت ہے۔
یہاں تک کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس واقعے سے عبرت دلائی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وادی ِ حجر سے گزرے تو فرمایا، “ان عذاب پانے والوں کی بستی سے روتے ہوئے گزرو، اگر روتے ہوئے نہیں گزر سکتے تو مت گزرو کہیں تم پر بھی ان جیسا عذاب نہ آجائے۔ (متفق علیہ)

قصّہ صالح علیہ السلام میں سیکھنے کی باتیں:

1. سرکشی اور تکّبر سے بچنا:

تاریخ گواہ ہے کہ اللّٰہ کے راستے سے روگردانی اور سرکشی کرنے والوں کا انجام ہمیشہ بُرا ہوا ہے۔ بڑائ صرف اللّہ کے لئے ہے، انسان تو خاک سے بنا ہے اور خاک ہوجائے گا،تو غرور کا بات کا۔

2.مال و دولت پہ غرور نہ کرنا:

جیسے قوم ثمود نے چٹانوں میں گھر بنائے ہوئے تھے انکو لگتا تھا ان سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں لیکن اللّٰہ نے انکو عبرتناک انجام کو پہنچایا، آج ہم بھی اپنی دولت کے گھمنڈ میں آخرت کو بھول بیٹھے ہیں۔۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ان تمام فتنوں سے بچتے ہوئےصحیح دین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

(میری اصلاح،اپنی رائے اور سوالات کے لیے کمنٹ کریں، اور املا کی کوئی غلطی ہو تو اصلاح ضرور فرمائیں۔ شکریہ) دعاؤں کی طالب: