کبھی میکدے سے گزرے،کبھی ھم حرم سے گزرے ، تحریر: قاری حنیف ڈار

کبھی میکدے سے گزرے،کبھی ھم حرم سے گزرے !
تیرے در پہ پہنچنے تک ، بڑے پیچ و خم سے گزرے !

اب یہ کہنا کہ اختلافی باتیں چھوڑیں اور اتحادی باتیں پکڑیں تو جناب جو قومیں وحی کو چھوڑ کر لغویات میں کھو جاتی ھیں وہ اتفاق اور اتحاد سے سزا کے طور پر محروم کر دی جاتی ھیں،، ھم نے مدارس سے لے کر روزمرہ زندگی کے عملی معاملات تک تو مقام وحئ الہی کو دیا ھے ٹھیک وھی مقام اللہ کی نگاہ میں ھمارا ھے ،، ھم نے بھی کتاب اللہ کو صرف پڑھنے تک محدود کر دیا اور ثواب کمانے تک محدود کر دیا ،، اور ساری دلچسپیاں دیگر مشاغل کو دے دیں،،جس طرح یہود نے کیا تھا ،، ھمارے علماء ولا تکونوا کالتی نقضت غزلہا من بعد قوۃ انکاثا ،،کا مصداق بن گئے،،

علوم ظاھری سے فراغت کے بعد جو کہ اصلاً نبوی امانت تھی پھر اس امانت کا بیڑہ غرق کرنے اور محنت سے کاتے گئے سُوت کو اپنے ھاتھوں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے علوم باطنیہ کی طرف متوجہ ھوتے ھیں،،اور پھر ان حجروں مین ڈاکٹر ھائیڈ اینڈ جیکل تیار ھوتے ھیں،، ایک عالم منبر پر ھمیں بتاتا ھے کہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے ھوتا ھے،کوئی کچھ نہیں کر سکتا،،وہ جس کا نام محمد ﷺ ھے کسی چیز پر تصرف نہیں رکھتا، اللہ پاک نے قرآن میں دو جگہ صاف صاف فرما دیا ھے کہ و ان یمسسک اللہ بضرٍ فلا کاشفَ لہ الۜا ھو ، اور یہ کہ نبی ﷺ نے یہودیوں کے سوال کے جواب مین ان شاء اللہ کہے بغیر کہہ دیا کہ کل جواب دوں گا پھر وہ کل لگ بھگ ایک ماہ تک محیط ھو گئی،آسمان سے وحی رک گئی،،اور جب شروع ھوئی تو پہلی اصولی بات کہی گئی کہ ” ولا تقولن لشئٍ انی فاعل ذلک غداً الاۜ ان یشاء اللہ،،آئندہ خبردار کسی چیز کے بارے میں ان شاء اللہ کہے بغیر یہ کبھی مت کہنا کہ میں یہ کل کر دوں گا،،، یہ ھی عالم جب خود کانگرس کے جلسے میں شریک ھوتا ھے،تو ایک نئی ھی داستان رقم کرتا ھے ،، ساون کا مہینہ ھے بادل گر گر کر آ رھے ھیں اور کانگرس پریشان ھے کہ بارش کی صورت میں جلسہ درھم برھم ھو جائے گا،،اسی سراسیمگی کی حالت میں ایک بکھرے بالوں والا درویش نما ادمی کہیں سے نمودار ھوتا ھے،،اور کہتا ھے،، ۔۔۔۔۔ سے کہہ دو کہ اس علاقے کا ذمہ دار ( قطب ) میں ھوں اگر بارش روکنی ھے تو بات کرے !

مرید خیمے کے اندر گیا،،جناب —- صاحب کروٹ کے بل ھاتھ گال کے نیچے ٹیکے لیٹے تھے ،، مرید نے درویش کی بات بیان کی ،، ۔۔۔۔۔۔۔۔ صاحب جو خود قطبِ دوراں تھے، جلال میں آ گئے اسی حالت مین لیٹے لیٹے ایک خاص کیفیت میں مرید سے فرمایا،، جاؤ اسے بتا دو بارش نہیں ھو گی ، اور بارش نہ ھوئی ،، خدا را بتائیے کیا یہ دو دیوتاؤں کی لڑائی نہیں تھی ؟ اس میں کہیں اللہ نظر آیا ھے،، نبی ﷺ ان شاء اللہ نہ کہے تو اللہ نبی کی بات پوری نہ ھونے دے ،،اور حسین احمد ایک خاص کیفیت میں ان شاء اللہ کہے بغیر کہہ دے کہ جا اؤؤؤؤؤئے بارش نہیں ھو گی،،اور اللہ بارش روک لے ؟؟ یہ ایک قطب کی بات نہیں، ھمارا ھر بزرگ دیوتاؤں کی سی شکتیاں رکھتا ھے۔۔،، یہ منبر پر بتاتے ھیں کہ بارش نہ ھو تو نبیﷺ نماز استسقاء پڑھا کرتے تھے ،،مگر خود یہ اپنی سوانح عمریوں میں لکھتے ھیں کہ ھمارے فلاں صاحب تو اس قدر صاحب تصرف تھے کہ پیسوں سے بارش بیچا کرتے تھے،،یعنی اتنے پیسے لنگر میں جمع کرا دو ،،اور کل اتنے بجے بارش ھو جائے گی،،

خدایا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں ؟
کہ درویشی بھی عیاری ھے سلطانی بھی عیاری !

قرآن اور حدیث والی توحید عوام کی توحید ھے ،ان خواص کی توحید بھی کچھ اور ھی ھے ! اور خاص الخواص کی توحید تو اللہ کی پناہ ! یہ جبرائیل کی شراکت پسند نہیں کرتے اور اسے گردانتے ھیں،، ابنِ عربی جس کا فرمایا ھمارے صوفی علماء کے لئے حق الیقین ھوتا ھے ،لکھتا ھے ” ھم نبی اور نبوت کو اعزازاً اور احتراماً مانتے ھیں کیونکہ ھمیں اس کا حکم دیا گیا ھے ،، ورنہ ھم نبیﷺ کے محتاج نہیں،،ھم براہ راست احکامات وھاں سے لیتے ھیں جہاں سے جبریل لیتا ھے ” ان کی نگاھیں ھر وقت لوح محفوظ پر رھتی ھیں اور یہ تقدیروں کے بدلنے پر قدرت رکھتے ھیں،،

اگر سورہ انبیاء اللہ پاک کی قدرتِ مطلق اور نبیوں کی بے بسی کی داستان سناتی ھے ،،ان کا بلک بلک کر رب سے مانگنا،،کانوا یدعوننا،،وہ ھمیں سے مانگ مانگ کے لئے لیا کرتے تھے،چاھے اولاد ھو یا صحت،، نجات ھو یا ھدایت ،، تو ہمارے یہاں شکتی مان دیوتا ابدالوں ، قطبوں اور غوثوں کی سلطنت ہے ،، بقول ان کے اسی لئے تو نبوت سے افضل ھوتی ھے، کیونکہ نبی کا رخ مخلوق کی طرف اور ولی کا رخ اللہ کی طرف ھوتا ھے،، یہ ھے ھندوستان کا اسلام ( اسلام کا ھندی سروپ ) اور یہ ھیں ھمارے علماء ،،جن کے قول و فعل کا تضاد روزِ روشن کی طرح عیاں ھے،، ان کا منبر کا قول کچھ اور ھے ،، حجروں کا فعل کچھ اور ھے ! انسان جب چلہ کشی کے نتیجے میں آوازیں سنتا اور صورتیں دیکھتا ھے( تنہائی میں جب چلہ کشی کی جاتی ھے تو انسانی ذھن یکسانی سے اکتا کر اپنی دلچسپی کے لئے تصویریں اور آوازیں تخلیق کرتا ھے،، جنہیں سن کر اور دیکھ کر ان کو اپنے تصوف کے حق ھونے کا علم الیقین حاصل ھو جاتا ھے، پھر قرآن ان کا کچھ نہیں بگاڑتا،ظاھر ھے انکھوں دیکھے کو کون جھٹلا سکتا ھے؟

اس لئے یہ دلیل سے زیادہ کہتے ھیں کہ کر کے دیکھو،، اور پھر اپ بھی اسی راہ سے گزر کر علم الیقین پا لیتے ھو ! میں نے پہلا چلہ تقریبا ً ساڑھے نو یا دس سال کی عمر میں کیا تھا اور پھر اس تصوف کی دنیا کا ھر پتھر الٹ کر رکھ دیا،، کبھی میکدے سے گزرے،کبھی ھم حرم سے گزرے،،تیرے در پہ پہنچنے تک بڑے پیچ و خم سے گزرے،،،، مگر مجھے پتہ ھے یہ انسان کی نفسانی قوتوں کا کھیل ھے ،،اس کا دین کے ساتھ نہیں ریاضت کے ساتھ تعلق ھے،،اور یہ ھر مذھب والا اور بے مذھب حاصل کر سکتا ھے،، جس طرح کرکٹ کا تعلق محنت اور پریکٹس کے ساتھ ھے، مذھب کے ساتھ نہیں،،اسی طرح اس یوگا کا تعلق بھی پریکٹس کے ساتھ ھے مذھب کے ساتھ نہیں ،،مگر یہ بات جتنی آسانی سے آج سائنسی طور پر ثابت کی جاسکتی ھے،،گزرے کل تک اسے اس طرح ثابت کرنا ممکن نہ تھا لوگ اسے اپنی کرامت سمجھتے رھے اور ایمان ضائع کرتے رھے،، اس یوگا یا تصوف کی ایک ایک مشق اور اس کے اثرات کی سائنسی توجیہہ کی جا سکتی ھے،،حبسِ دم سے لے کر تسبیح یا مالا تک،،کہ ان کا سائنٹیفک آؤٹ پٹ کیا ھے،، ( ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا ،، آمین یا رب العالمین)

سورس

Posted by | View Post | View Group
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...