کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ناکام ہو گئی ہے۔ جواب مولانا مودودی

تاریخ کے ہر طالب علم کو سید مودودی کا پاکستانی سیاست کی بربادی پر دیا گیا جواب ضرور سمجھ لینا چاہیے ،
سوال : کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ناکام ہو گئی ہے تو ہم اس کی بحالی کے لیے کیوں کام کریں، جبکہ یہ بھارت میں بھی خاص طور پر ناکام ہو رہی ہے آپ کی کیا رائے ہے_ سید مودودی جواباً فرماتے ہیں ، ” یہ کہنا غلط ہے کہ جمہوریت ہمارے ملک میں ناکام ہوگئی ہے ، پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جمہوریت نام کس چیز کا ہے ، کہ جمہوریت اس چیز کا نام ہے کہ ایک ملک کے باشندے خود اپنے معاملات طے کرنے کے مختار ہوں اور ملک کے باشندوں کی جو رائے ہو ملک کا انتظام اس کے مطابق چلایا جائے یہ ہے جمہوریت کا مفہوم _ کیا یہ چیز اس ملک کے باشندوں کو حاصل ہے ؟ آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان کا نظام حکومت 1935 کے ایکٹ پر چل رہا تھا انیس سو پینتیس کا ایکٹ اس تصور پر قائم تھا کہ یہ برطانوی پارلیمنٹ ہے جو ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے گویا ہندستان پر اقتدار اعلی برطانوی عوام کا تھا گورنمنٹ آف انڈیا اس ملک کے اندر برطانوی پارلیمنٹ کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرتی تھی تھی جو تھوڑی بہت خودمختاری یہاں دی گئی تھی وہ اس قسم کی تھی جس سے اصل فیصلے کے اختیارات کسی ایسی اسمبلی کو حاصل نہیں تھے جو ملک کے اندر انتخابات سے بنی ہو بلکہ اصل فیصلے کے اختیارات وائسرائے کے ہاتھ میں تھے اور وائسرائے برطانوی پارلیمنٹ کے ماتحت تھا اسی طرح صوبوں میں اصل فیصلے کے اختیارات گورنروں کے ہاتھ میں تھے اور گورنر وائسرائے کے ماتحت تھے اور وائسرائے برطانوی پارلیمنٹ کے ماتحت تھا، اس تصور اور نظریے پر 1935 کا ایکٹ مبنی تھا جب پاکستان آزاد ہوا تو اس ایکٹ ہی کو ملکی دستور کی حیثیت سے اڈاپٹ کر لیا گیا اور جو اختیارات برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے پاکستان کے عوام کو منتقل ہوئے تھے ان اختیارات کی امین دستور سازاسمبلی بنی یعنی برطانوی پارلیمنٹ کی جگہ اس دستور ساز اسمبلی نے لی تھی، باشندوں کی طرف ابھی اختیارات منتقل نہیں ہوئے تھے، دستور سازاسمبلی جب تک دستور نہ بنا دیتی اس وقت تک اختیارات ملک کے باشندوں کی طرف منتقل نہیں ہو سکتے تھے _
دستور ساز اسمبلی نے دستور بنانے کے فرض کی تکمیل میں مسلسل کوتاہی کی 1956 تک دستور نہیں بنا اس کے معنی یہ ہیں کہ 1948 سے 1956، تک جس طرح آپ پہلے برطانوی پارلیمنٹ کی رعایا تھے ، اس طرح اب اس دستور ساز اسمبلی کی رعایا بنے ہوئے تھے ، کیونکہ جو اختیارات برطانوی پارلیمنٹ کو حاصل تھے وہی اس دستور ساز اسمبلی کو حاصل تھے، اور اس نے یہ اختیارات سالہا سال تک اپنے ملک کے باشندوں کو منتقل نہیں کیے ، انتقال اختیارات کا یہ پہلا مرحلہ 1956 ء کے دستور کے ساتھ مکمل ہوا ، لیکن 1956 ء کے دستور کی حد تک بھی صرف نظری طور پر اختیارات آپ کی طرف منتقل ہوئے تھے ،
“عملاً وہ اس وقت تک منتقل نہیں ہو سکتے تھے ، جب تک کہ ملک میں عام انتخابات نا ہو جائیں ” ان عام انتخابات کا مرحلہ آتا تو آپ اپنے ان اختیارات کو عملی طور پر استعمال کرتے ، یعنی کہ ملک پر خود حکومت کرنے کے قابل ہوتے ، لیکن قبل اس کے کہ عام انتخابات ہوتے اور ملک کے باشندے ان اختیارات کو استعمال کرتے جو انکی طرف منتقل کیے گئے تھے ملک پر فوجی آمریت قائم ہو گئی اور مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ، اسطرح انتخابات روک دیے گئے اور وہ ساری طاقت جو برطانوی پارلیمنٹ سے دستور ساز اسمبلی کی طرف منتقل ہوئ تھی اس آمریت کے ہاتھ چلی گئی ، یعنی جس طرح آپ پہلے برطانوی پارلیمنٹ کے غلام تھے اسی طرح اب فوجی آمریت کے غلام بن گئے _
1962 ء تک کوئ آئین نہیں بنایا گیا اور ملک مارشل لاء کے تحت رہا _ 1962 ء میں جو دستور بنا اس میں تمام اختیارات صدر کے ہاتھ میں دے دیے گئے ، عوام کی طرف منتقل نہیں کیے گئے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ 1968 ء تک پورے بیس سال جو گزرے ہیں ان میں ایک دن بھی یہاں جمہوریت بحال نہیں کی گئی _ اب سوال یہ ہے کہ جب یہاں عملاً جمہوریت کا آغاز ہی نہیں ہونے دیا گیا تو اس کی ناکامی کا پروپیگنڈہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ اسے یہاں کام کب کرنے دیا گیا ؟ یہاں جمہوریت قائم کب ہوئی ہے ؟ اور کب اختیارات لوگوں کی طرف منتقل کیے گئے ہیں ؟ جمہوریت کے ناکام ہونے کا جو ڈھنڈورا یہاں پیٹا گیا ہے یا جاتا ہے ذرا اس کو بھی دیکھ لیں جمہوریت نام ہے اس چیز کا کہ ایک ملک کے باشندے اپنے اختیارات سے اپنے ملک کو چلائیں _ اب ایک آدمی یہ دعوٰی کرتا ہے کہ ملک کے باشندے اپنے معاملات کے چلانے کے قابل نہیں ہیں اس لیے میں سارے ملک کے معاملات کو خود چلاؤں گا ، یعنی کہ لوگوں نے اسے یہ نہیں کہا ہے کہ تم ہماری طرف سے معاملات چلاؤ بلکہ اس نے خود ہی یہ دعوٰی کر دیا اور خود ہی سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے _ اس معاملے کو ایک مثال سے سمجھیں _ (تصریحات ، صفحہ 150 تا 152)
مثال
راولپنڈی میں طلبہ اور شہریوں کی ایک نشست میں سوال و جواب کی محفل 11 مئ 1968
“مثلاً ایک پندرہ سال کا ایک لڑکا ہے جسے اپنے باپ کی طرف سے ایک بڑی میراث اور جائیداد ملی ہے اس کے باپ کے ملازموں میں سے ایک منشی جی ہیں جو اس کے معاملات چلایا کرتے تھے ، یہ منشی جی یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ یہ لڑکا اپنی جائیداد سنبھالنے کے قابل نہیں ہے اس لیے میں اس کے سارے معاملات کو چلاؤں گا ، چنانچہ منشی جی تمام اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ، وہ اسے جائیداد میں کوئی کام نہیں کرنے دیتے ، کسی قسم کا اختیار اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور عملا اسکی ساری جائیداد کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ اگر یہ منشی جی اپنے جیتے جی سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھیں تو کیا یہ نوجوان کبھی اپنے معاملات چلانے کے قابل ہو سکتا ہے ، وہ تو اس وقت قابل ہوگا جب اسکی جائیداد اسکے ہاتھ میں ہو، ہو سکتا ہے کہ وہ کسی معاملے میں غلطی کرے ، نقصان اٹھائے یا تکلیفیں جھیلے لیکن اسی طرح وہ وہ حالات کو سمجھے گا ، اسی طرح وہ بہت کچھ سیکھے گا اور اپنے معاملات کو چلانے کے قابل ہو جائے گا ، جمہوریت بھی بھی اسی طرح اپنے معاملات کو خود سمجھنے اور تجربات سے سیکھنے کا نام ہے ، یعنی
Learning by experience
ایک قوم تجربات سے آہستہ آہستہ یہ بات سیکھ جاتی ہے کہ وہ اپنے معاملات کو کس طرح چلائے، لیکن اگر منشی جی عمر بھر بھر جائیداد پر قابض رہیں وہ لڑکا بوڑھا ہو جائے گا لیکن اپنے معاملات کو چلانے کے قابل کبھی قابل نہیں ہو سکے گا ، اور اس کے قبل اسکے کہ منشی جی کا انتقال ہو وہ اپنے بیٹے کو بٹھائیں گے کہ اب یہ یہ معاملات کو سنبھالے گا یا ممکن ہے اپنے کسی بھائ بند کے حوالے کردیں یا انکے دفتر میں کوئی او کلرک صاحب منتظر ہوں اور وہ قابض ہو جائیں اور سب کا یہ ” استدلال” یہ ہو کہ یہ لڑکا کوئی تجربہ نہیں رکھتا ، اس لیے ہم جائیداد کو سنبھالیں گے ، اور اس طرح وہ لڑکا ہی نہیں اس کی اولاد بھی کبھی اس قابل نہیں ہو سکے گی کہ اپنی جائیداد کو سنبھال سکے اسے کبھی تجربہ ہی حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ہاتھ میں کوئی اختیارات ہی نہیں تھے_
چنانچہ جمہوریت کی ناکامی کا دعوئ ایک مکاری ہے جو ایک ملک کے باشندوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنے کے لیے کی جاتی ہے _ “
( تصریحات صفحہ ، 152، 153)
” چنانچہ جمہوریت کی ناکامی کا دعوئ فقط ایک مکاری ہی ہے جو ایک ملک کے باشندوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنے کے لیے کی جاتی ہے ورنہ ظاہر ہے کہ کوئی بھی قوم جب آزاد ہوتی ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ پہلے دن سے ہی اپنے معاملات کو چلانے کے کام میں ماہر ہو جائے _ وہ قوم اپنے اختیارات کو انتخابات کے ذریعے Exercise کرتی ہے _ انتخابات میں وہ دھوکہ کھا سکتی ہے ، غلط قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں اپنے معاملات دے سکتی ہے ، چار پانچ سال تک غلط قسم کے لوگ معاملات کو چلاتے رہتے ہیں ، قوم اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتی رہتی ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے چنا تھا وہ ہمارے ساتھ کیا زیادتیاں کر رہے ہیں ، دوسرے انتخابات کی نوبت آتی ہے تو قوم انہیں اٹھا کر پھینک دیتی ہے ، اور دوسرے لوگوں کو آگے لے آتی ہے، وہ بھی اگر قوم کی امنگوں کا ساتھ نہیں دیتے تو قوم تیسرے انتخابات میں جا کر زیادہ بہتر لوگوں کو آزماتی ہے ، اسطرح اسے جانچنے اور پرکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے ، مگر شرط یہی ہے کہ قوم کو آزادی حاصل رہے ، اسکے بنیادی حقوق محفوظ رہیں حالات لوگوں کے سامنے آتے رہیں ، اخبارات آزاد ہوں ، پبلک پلیٹ فارم آزاد ہو اور لوگ اپنے ملک کے حالات سے با خبر ہوتے رہیں، اس طرح آہستہ آہستہ وہ اس بات کو سیکھتے جاتے ہیں کہ کن لوگوں پر وہ اعتماد کریں اور کیسے لوگوں کے ہاتھ میں اپنے معاملات دیں _______ یہ ہے ایک قوم کی زندگی میں جمہوریت کی کامیابی کا راستہ __ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی قوم آزاد ہوتے ہی پہلے دن جمہوریت کو بڑی کامیابی سے چلانے لگے ، جسطرح قومی خوشحالی کے لیے دو یا تین پنج سالہ منصوبوں کی تکمیل شرط ہوتی ہے ، اسی طرح اگر جمہوریت کی کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک قوم کو دو تین آزادانہ انتخابات کے مراحل سے گزرنا پڑے تو اس میں کیا ہرج ہے، ! اور اگر فرض کیجیے کہ اس دوران میں ملک کے حالات خراب بھی ہو جائیں تو ملک کے کسی ملازم کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ یکا یک ملک پر قابض ہو جائے ، نوکر ہے تو نوکری کرے ، ملک کا مالک بننے کا اسے کیا حق ہے ! “
(تصریحات 153 تا 154)

You might also like More from author

تبصرے

Loading...