وحی صرف بذریعہ واسطہ ہوتی ہے تحریر محمد نعیم خان

ہمارے ہاں ایک عقیدہ یہ پایا جاتا ہے کہ وحی کی ایک قسم یہ بھی ہے جس میں الله اپنے نبی سے براہ راست بلا کسی واسطے کے کلام کرتا ہے . اس میں نبی الله کی آواز سنتا ہے پردے کی پیچھے سے . کیا قرآن اس کی تائید کرتا ہے ؟

یہ بات یاد رکھئے کہ تمام انبیا پر اللہ کی وحی فرشتے کے توسط سے آتی تھی . اس میں تین فریق ہوتے ہیں ، ایک الله ، ایک اس کا فرشتہ اور تیسرا اس کا نبی جس پر وحی نازل ہوتی ہے . اس میں بعض اوقات الله براہ راست اپنے نبی سے خطاب کرتا ہے ، جو اس کا فرشتہ نبی تک پہنچاتا ہے ، کبھی الله کی اجازت سے فرشتہ نبی کے سوال کا جواب دیتا ہے اور کبھی جب نبی فرشتے سے سوال کرتا ہے تو اس کا جواب فرشتہ الله کے حضور پیش کر کے اس کا جواب لاتا ہے .

جو آیت اس کے حق میں پیش کی جاتی ہے کہ حضرت موسیٰ سے الله نے براہ راست کلام کیا وہ سوره النساء کی آیت ١٦٤ ہے .

وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴿١٦٤ ﴾

ہم نے اُن رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اِس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا ہم نے موسیٰؑ سے اِس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے (١٦٤ )

یہاں احباب سوال کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا الگ سے ذکر کرنے کی کیا وجہ تھی ؟. اس کا جواب دینے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس ہی آیت سے ایک آیت پہلے سوره النساء آیت ١٦٣ میں الله یہ بات بیان کر چکا ہے کہ حضرت موسیٰ کو بھی اس ہی طرح وحی کی گئی جیسے اور دوسرے انبیا کو . آیت ہے.

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ﴿١٦٣ ﴾

اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوحؑ اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی ہم نے ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ، عیسیٰؑ، ایوبؑ، یونسؑ، ہارونؑ اور سلیمانؑ کی طرف وحی بھیجی ہم نے داؤدؑ کو زبور دی (١٦٣ )

یہ آیت اس بات میں بلکل صاف ہے کہ حضرت موسیٰ سے کوئی الگ انداز میں کلام نہیں کیا گیا بلکے اس کی بھی وہی صورت تھی جو دوسرے انبیا کے لیے تھی .

پھر سوره النساء کی آیت ١٦٤ کا کیا مطلب ہے ؟. اس کو کیسے سمجھا جائے .

اس کے لیے اس ہی سوره کی آیت ١٥٣ سے لے کر یہاں تک پڑھتے ہوے آئین تو اس کا سیاق و سباق مل جاے گا کہ بات کس تناظر میں ہو رہی ہے اور اس کے مخاطبین کون ہیں اور یہ کس بات کا جواب دیا گیا ہے .

یہاں اہل کتاب پر حجت قایم کی جا رہی ہے . اہل کتاب کا یہ مطالبہ کہ ان پر کوئی تحریر اتاری جاے کے جواب میں الله پاک فرما رہے ہیں کہ یہ اس قسم کے مطالبے موسیٰ سے پہلے کر چکے ہیں . بلکے الله کو علانیہ دیکھنے کا مطالبہ بھی ان ہی لوگوں نے کیا تھا . کوہ طور کے دامن میں ان سے عہد لیا تھا لیکن اس عہد کی بھی انہونے پاسداری نہیں کی ، پھر ان پر ایک کے بعد ایک فرد جرم عید کی جا رہی ہے کہ حضرت مریم پر بہتان لگایا ، پھر یہ غلط بات کی کہ حضرت عیسیٰ کو قتل کردیا ، سود لیتے تھے ، لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے تھے .

ان سب باتوں کے بعد پھر سوره النساء کی آیت ١٦٣ اور ١٦٤ آتی ہیں . جس میں حضرت موسیٰ کا الگ سے ذکر کرنے کا مقصد یہی تھا کہ الله نے حضرت موسیٰ سے بھی کلام کیا تھا، تو اگر اب الله نے محمّد سے کلام کیا ہے تو اس میں اتنی تعجب کی کیا بات ہے . اس سے پہلے والے تمام انبیا سے بھی ایسے ہی کلام کر چکا ہے . پھر اگر تم اس نبی کا انکار کرتے ہو تو پھر ان تمام انبیا کا بھی انکار کرو . پھر اپنے باپ حضرت ابراہیم کا بھی انکار کرو . یہ کوئی نرالا رسول تو نہیں ہے .

یہ ہے اس آیت کا سیاق و سباق جس کو کاٹ کر احباب اپنے ایک غیر قرانی عقیدہ کو ثابت کرتے ہیں .

پھر الله کس طرح اپنے انبیا سے کلام کرتا ہے اس کا ذکر سوره الشوریٰ کی آیت ٥١ میں بیان ہوا ہے ..آیت ہے ..

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ﴿٥١ ﴾

کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے (٥١ )

اس آیت میں تین باتوں کا ذکر ہے .

١. وحی : جس کے معنی اشارہ کرنے کے ہیں ، یا کوئی بات براہ راست دل میں ڈالنے کے ہیں . جیسے روح القدس الله کا کلام نبی کے قلب پر اتارتے تھے . اس میں نبی فرشتے سے کلام نہیں کرتا . کوئی سوال بھی نہیں ہوتا بلکے الله کا کلام نبی کے دل پر اترتا ہے .

٢. پردے کے پیچھے سے : اس میں نبی الله کا کلام فرشتے کے توسط سے سنتا ہے . اس کو فرشتے کی آواز سنائی دیتی ہے لیکن خود فرشتہ سامنے نہیں ہوتا . جیسے حضرت موسیٰ کو پہلی وحی ملتی ہے اور ان کو آواز دی جاتی ہے . اس میں رویا یا کشف بھی شامل ہے جس می ایک نبی رویا دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم اور رسول الله کا رویا جس کا ذکر سوره بنی اسرائیل میں ہے .

٣. الله کوئی فرستھا بھیجتا ہے : اس میں فرشتہ اپنی اصلی حالت میں یا انسانی شکل میں دکھتا ہے اور نبی سے کلام کرتا ہے . نبی اس سے سوال کرتے ہیں اور جس کا کا جواب وہ الله کی اجازت سے یا تو خود دیتا ہے یا الله فرشتے کے توسط سے اپنے نبی کو “قل ” کہ کر حکم دیتا ہے کہ اہل ایمان سے کہو ، یا براہ راست (فرشتے کے توسط سے ) اپنے نبی سے خطاب کرتا ہے .

میرے نزدیک قرآن اس بات کی تائید نہیں کرتا کہ حضرت موسیٰ سے الله نے کسی الگ انداز میں کلام کیا بلکے اس نے ویسے ہی کلام کیا جیسے دوسرے انبیا سے کلام کیا تھا۔

پی ڈی ایف فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کےلیے یہاں کلک کریں۔

٭٭٭٭٭

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...