صحت تلفظ از رشید حسن خاں

صحت تلفظ
از رشید حسن خاں

اعجوبہ کے ذیل میں لکھا گیا ہے : “عوام ‘عجوبہ’ کہتے ہیں، جو غلط محض ہے”۔(قاموس الاغلاط)
مولفین کا یہ خیال صحیح نہیں کہ ‘عجوبہ’ عوام کا گڑھا ہوا ہے۔ یہ لفظ (بہ حذف الف) مفرس ہو کر ہم تک پہنچا ہے: “عجوبہ: چیز یکہ مردم را بہ شگفت اندازد، و ایں مخفف ‘اعجوبہ’است۔ محسن تاثیر:
اے شیخ شہر با کہ تواں ایں عجوبہ گفت * بے پردہ گشت شید نہاں ازردامی تو” (بہار عجم)
یہ غلطی اصل میں مولف ‘غیاث اللغات’ کی پھیلائی ہوئی ہے، انھوں نے لکھا ہے: “اعجوبہ: بہ ضم ہمزہ، بہ معنی عجیب و انچہ مردم را در تعجب اندازد، نہ بغیر ہمزہ از مزیل الاغلاط”۔ عربی کا اصل لفظ “اعجوبہ” تھا، فارسی میں تصرف ہوا کہ بہ حذف الف’عجوبہ’ بھی استعمال کیا گیا۔ اردو میں بھی، فارسی کی طرح، اس لفظ کی دونوں صورتیں مستعمل ہیں۔ مولف نور (نوراللغات) نے اس سلسلے میں یہ غلطی کی ہے کہ ‘عجوبہ’ کو عربی میں لکھا ہے۔ حالاں کہ یہ مفرس صورت ہے۔ عبدالواسع ہانسوی نے رسالۂ عبدالواسع میں ‘اعجوبہ’ کو ‘عجوبہ’ کا مزید فیہہ لکھا ہے۔ ان کی راے میں عربی کے اصل لفظ ‘عجوبہ’ میں فارسی والوں نے الف کا اضافہ کیا ہے۔ حالاں کہ صورت حال برعکس ہے کہ عربی کا اصل لفظ ‘اعجوبہ ‘ ہے اور اس کو بہ حذف الف استعمال کیا گیا ہے۔
سلیمان حیم نے اپنے فارسی انگریزی لغت میں ‘عجوبہ’ (بہ حذف الف) کو بہ فتح اول اور بہ ضم اول، دونوں طرح لکھا ہے۔ یہی صورت اردو میں ہے کہ یہ لفظ سننے میں دونوں طرح آتا ہے۔ ‘عجوبہ’ کی طرح ‘اعجوبہ’ بھی اردو میں بہ ضم اول اور بہ فتح اول، دونوں طرح بولا جاتا ہے۔ آصفیہ(فرہنگ آصفیہ) میں الف پر زبر لگا ہوا ہے: اَعجوبہ، اور نور میں اس کو بہ ضم اول (اُعجوبہ) لکھا گیا ہے، اور اس لحاظ سے اب اس لفظ کے بھی دونوں تلفظ قابل تسلیم ہیں۔ یہ بیش تر فارسی ترکیب کے ساتھ آتا ہے، جیسے: اعجوبۂ روزگار، اعجوبۂ عالم:
ہوں جو بے چین اس اعجوبۂ عالم کے لیے
حال سن سن کے مرا لوگ عجب کرتے ہیں
میر(کلیات مرتبہ آسی، ص :423)
آشنائی اور آشنا پرستی میں اعجوبۂ روزگار تھے۔
محمد حسین آزاد (دربار اکبری، طبع لکھنؤ، ص: 715)
مفرد بھی استعمال ہوتا ہے ،لیکن نسبتاً کم۔ مثلاً:
کیسا اعجوبہ نیا پہنچا ہے یاں
چونچ ہو تو ہو شتر مرغ کلاں
میر(کلیات مرتبہ آسی، ص :82)
میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس اعجوبے کا ردعمل کہاں کہاں کس طرح ہوتا تھا۔
رشید احمد صدیقی (نقد غالب، ص: 314)
اصل معنی کے لحاظ سے ‘عجوبہ’ بہ فتح اول اور بہ ضم اول دونوں طرح سننے میں آتا ہے، البتہ بہ فتح اول (عجوبہ) کا چلن زیادہ ہے۔ لیکن ایک خاص پودے کے لیے، جس کے پتے دوا کے طور پر استعمال میں آتے ہیں، یہ صرف بہ فتح اول بولا جاتا ہے(عجوبے کا پتا)۔ اس معنی میں یہ اردو نژاد ہے، فارسی یا عربی میں یہ معنی نہیں۔۔۔
انشا کا شعر ہے (کلام انشا، ص: 224):
پیچ نیچے کے ترے حقے پہ بولے ہیں یہی
گر سنے کوئی عجوبہ ہے یہ حق حق سانپ کی
فوربس، رچرڈسن اور شکسپیر نے ‘عجوبہ’ کو عربی لکھا ہے۔ جیسا کہ لکھا جاچکا ہے، یہ مفرس صورت ہے۔ عربی کا اصل لفظ ‘اعجوبہ’ ہے۔
٭
مشکور: جس طرح”عادت گیرندہ” کے معنی میں “عادی” کو غیر صحیح کہا گیا تھا، اور اس کی جگہ
“معتاد” بولنے کی فرمایش کی گئی تھی؛ اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ “مشکور” صحیح لفظ نہیں ؛ اس کے بجائے “متشکر” یا “شاکر” کہنا چاہیے۔ مولفین قاموس نے لکھا ہے کہ مشکور بہ معنی ممنون نہیں۔ اور اس پر اظہار تعجب کیا ہے کہ “ایک واقف کار شخص بھی لکھ گیا ہے”۔ واقف کار شخص سے مراد غالباً مولانا شبلی ہیں؛ ان کا شعر ہے:
آپ کے لطف و کرم سے مجھے انکار نہیں
حلقہ در گوش ہوں ممنون ہوں مشکور ہوں میں
مولفین آصفیہ و نور بھی اس لفظ سے کچھ خوش نہیں:
اگر ممنون و مشکور کے بجاے ، ممنون و شاکر کہیں تو بجا ہے۔ (آصفیہ)
اہل علم اس معنی میں استعمال نہیں کرتے۔ مشکور، صفت اس شخص کی ہوگی جس نے احسان کیا ہے، نہ اس شخص کی جس پر احسان کیا گیا ہے۔ (نور)
عربی قواعد کے لحاظ سے لغت نویسوں کا فیصلہ بالکل صحیح ہے ، لیکن ایک دوسری زبان ان قواعد کی پاے بند کیوں ہو! مشکور، بہ معنی شکرگزار، آج بھی برابر استعمال ہوتا ہے اور پہلے بھی بے تکلف استعمال کیا گیا ہے۔ مولف نور نے لکھا ہے کہ اہل علم اس معنی میں استعمال نہیں کرتے؛ “اہل علم” ہی میں سے ایک ممتاز فرد کا یہ قول ہے:
عربی میں “مشکور” اس کو کہتے ہیں جس کا شکریہ ادا کیا جائے، مگر ہماری زبان میں اس کو کہتے ہیں جو کسی کا شکریہ ادا کرے؛ اسی لیے بعض عربی کی قابلیت جتانے والے، اس کو غلط سمجھ کر صحیح لفظ “شاکر” یا “متشکر” بولنا چاہتے ہیں، مگر ان کی یہ اصلاح شکریے کے ساتھ واپس کرنا چاہیے۔
مولانا سید سلیمان ندوی (نقوش سلیمانی، ص98)
پنڈت وتاتریہ کیفی نے لکھا ہے:
جب “عادی” اور “مشکور” مدتوں سے “عادت گیرندہ” اور “احسان مند” کے معنی میں استعمال ہورہے ہیں اور متکلم اور سامع دونوں کا ذہن انھی معنی کی طرف جاتا ہے، تو اب قاموس اور صراح سے فتویٰ لے کر ، ان الفاظ کو اردو سے خارج کرنے میں کیا مصلحت ہے؟ (منثورات، ص 164)
اتمام حجت کے طور پر دو چار مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
جو کچھ ہو سکے وہ لکھا کرو اور ممنون و مشکور کیا کرو۔
امیر مینائی(مکاتیب امیر مینائی، مرتبہ احسن اللہ خاں ثاقب، طبع دوم، ص 170)
ان کے سبب سے میں آپ کا نہایت ممنون و مشکور ہوں۔
سرسید (مکاتیب سرسید، مرتبہ مشتاق حسین ، ص 274)
آپ کا خط پہنچا، میں ممنون و مشکور ہوں۔
سید حسن بلگرامی (تاریخ نثر اردو، ص 598)
خادم آپ کی عنایت بے غایت کا حد درجہ ممنون و مشکور ہوا۔
ابوالکلام آزاد (مرقع ادب، ص 45)
علی اوسط رشک نے ایک جگہ “شکور” اسی معنی میں استعمال کیا ہے۔ شعر یہ ہے:
شکر خدا کہ عشق بتاں میں شکور ہوں
راحت ملی جو رنج مجھے یار سے ملا
(مجموعۂ دواوین رشک، ص 69)
“شکور” نام کے طور پر مستعمل ہے، مگر اس (مشکور) معنی میں اس نے رواج نہیں پایا۔
٭
معتوب: مدمغ، مفلوک، معتوب، مرغن جیسے بہت سے لفظ ، عربی الفاظ کے قیاس پر بن گئے
ہیں اور قبول عام کی سند پا چکے ہیں۔ قواعد کی عینک لگا کر دیکھیے تو یہ سب لفظ غلط نظر آئیں گے۔ مولفین قاموس نے ایسے سبھی لفظوں سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ اس ضمن میں لفظ “معتوب” پر سب سے زیادہ عتاب کا اظہار کیا ہے، اور لکھا ہے کہ اس کے بجائے صحیح لفظ “معاتب” کا استعمال کرنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ اس بد مذاقی کو کوئی مرد معقول خوش آمدید نہیں کہے گا۔ ذیل میں دو فقرے نقل کیے جاتے ہیں؛ ان میں “معتوب” کو “معاتب” سے بدل کر دیکھیے ؛ خود اندازہ ہو جائے گا:
“ملّا صاحب دربار اکبری سے معتوب ہوئے۔” مولانا شبلی (شعر العجم، سوم ص:47)
“وہ جرم بغاوت میں خود معتوب تھا۔” محمد حسین آزاد (دربار اکبری، اشاعت لکھنؤ، ص:313)
“مجموعۂ نظم حالی” (اشاعت مطبع العلوم ، علی گڑھ، 1896) میں مولانا حالی کا ایک شعر یوں ہے:
دوست اللہ کے ہیں ٹھیرتے معتوب وہاں
اور مسیحائے زماں ہوتے ہیں مصلوب وہاں
اس شعر میں لفظ “معتوب” پر مولانا حالی نے یہ حاشیہ لکھا ہے:
صحیح لفظ “معاتب” ہے، مگر اردو میں بجائے “معاتب” کے “معتوب” بولا جاتا ہے، جیسے بجائے “معفو” کے “معاف”۔ پس اردو میں یہ صحیح اور یہی فصیح ہے۔۔۔
لفظ “معتوب” ، آصفیہ میں موجود نہیں۔ اس میں صرف “معاتب” ملتا ہے۔۔۔ البتہ “نور” (نوراللغات) میں یہ لفظ موجود ہے، مگر اس میں کوئی سند نہیں پیش کی گئی ہے۔ ہاں، رشک نے ایک غزل میں جس کے قوافی تب اور لب ہیں، “معاتب” بھی نظم کیا گیا ہے، وہ شعر مع مطلع یوں ہے:
سادگی سے سبزۂ رخسار انسب ہوگیا
کیا مزلف ہوتے ہی چہرہ مزیب ہوگیا
جب نہ تب نکلا کیا مجھ پر زمانے کا بخار
جس کو غصہ جس پر آیا میں معاتب ہوگیا
(“مجموعۂ دواوین رشک”، ص73)
قواعد کی رو سے لفظ صحیح ہے، مگر کسی قدر اجنبی بلکہ غیر فصیح معلوم ہوتا ہے۔

[ “زبان و قواعد”، رشید حسن خاں، 2010،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی]

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...